Updated: May 14, 2026, 6:04 PM IST
| Mumbai
موہن کپور نے ’’دھرندھر‘‘ فرنچائز کی بے مثال کامیابی کے باوجود اس کی ’’حد سے زیادہ تعریف‘‘ پر سوال اٹھا دیا ہے۔ یوٹیوبر سدھارتھ کنن کو دیے گئے انٹرویو میں اداکار نے کہا کہ وہ فلم کے لیے موجود زبردست ہائپ کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکے۔ انہوں نے فلم کو ’’انتہائی ذہین اور چالاکی سے لکھی گئی‘‘ قرار دیا، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ اسے حقیقت پر مبنی سمجھنا غلط ہوگا۔
موہن کپور نے ’’دھرندھر‘‘ فرنچائز کی تاریخی باکس آفس کامیابی کے باوجود فلم کے گرد بننے والی زبردست ہائپ اور تعریف پر کھل کر سوال اٹھائے ہیں۔ اداکار نے کہا کہ اگرچہ وہ فلم کی تحریر اور تکنیکی مہارت کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن وہ اب بھی یہ پوری طرح نہیں سمجھ پائے کہ ناظرین اس فرنچائز کے اتنے بڑے مداح کیوں بن گئے۔ یوٹیوبر سدھارتھ کنن کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں موہن نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ’’دھرندھر‘‘ کا پہلا حصہ اس کے سیکوئل کی ریلیز سے تقریباً دو ہفتے پہلے اکیلے سنیما گھر میں دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ پہلا موقع تھا جب میں نے کوئی فلم اکیلے دیکھی۔ جب میں تھیٹر سے باہر نکلا تو میں ایمانداری سے یہ نہیں سمجھ سکا کہ سب لوگ اس کی اتنی تعریف کیوں کر رہے ہیں۔ مجھے واقعی سمجھ نہیں آئی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : کانز: لوریل کے پوسٹرز سے ایشوریہ رائے غائب، مداحوں میں ناراضی
اگرچہ ان کے تبصرے نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی، موہن کپور نے واضح کیا کہ وہ فلم کو کم تر نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق، ’’دھرندھر‘‘ ایک ’’غیر معمولی‘‘ اور ’’انتہائی ذہین‘‘ فلم ہے، جس کی تحریر بہت چالاکی سے تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس کی کہانی ذہانت سے لکھی گئی ہے اسی لیے اسے تنقید بھی ملی اور تالیاں بھی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اسے حقیقت سمجھنے لگے ہیں، جبکہ یہ محض ایک کہانی ہے۔ اس نے کچھ حقیقی مثالوں سے تحریک لی ہے، مگر یہ حقیقت کا دعویٰ نہیں کرتی۔‘‘ موہن کپور نے خاص طور پر آر مادھون کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلم کے آغاز ہی سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس کی بنیاد حقیقی واقعات پر مکمل طور پر مبنی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’پہلے ہی فریم میں، جب آپ آر مادھون کو دیکھتے ہیں، آپ سمجھ جاتے ہیں کہ بنیاد حقیقت پر مبنی نہیں کیونکہ جس شخصیت کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے، ویسا کوئی شخص حقیقت میں تھا ہی نہیں۔‘‘ یاد رہے کہ موہن کپور ہندی فلموں اور ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی پروجیکٹس میں بھی اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ وہ عالمی سطح پر خاص طور پر ’’مس مارول‘‘ اور ’’دی مارولس‘‘ میں کمالہ خان کے والد یوسف خان کے کردار کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ اس کردار نے انہیں ان چند ہندوستانی اداکاروں میں شامل کر دیا جو مارول اسٹوڈیوز کی بڑی سپر ہیرو فرنچائز کا مستقل حصہ بنے۔
یہ بھی پڑھئے : شور سے دور رہ کر ہی فنکار بہتر کام کر سکتے ہیں : رکول پریت
دوسری جانب ’’دھرندھر‘‘ گزشتہ دو برسوں میں بالی ووڈ کی سب سے بڑی باکس آفس فرنچائزز میں سے ایک بن کر ابھری ہے۔ آدتیہ دھر کی ہدایت کاری میں بننے والی اس جاسوسی تھریلر سیریز کے پہلے حصے نے مبینہ طور پر دنیا بھر میں تقریباً ۱۳۰۷؍ کروڑ روپے کمائے، جبکہ ’’دھرندھر ۲‘‘ نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے عالمی سطح پر ۱۷۹۰؍ کروڑ روپے کا ہندسہ عبور کر لیا۔ فلم کی کامیابی کے باوجود ناقدین مسلسل اس بات پر منقسم رہے ہیں کہ آیا فرنچائز واقعی اتنی غیر معمولی ہے جتنا اسے پیش کیا جا رہا ہے، یا پھر اس کی مقبولیت زیادہ تر اسٹار پاور، جارحانہ مارکیٹنگ اور بڑے پیمانے کی ایکشن پیشکش کا نتیجہ ہے۔