Inquilab Logo Happiest Places to Work

میدویدیف نے الکاراز کو ہرا دیا: فائنل میں سنر سے ٹکراؤ

Updated: March 15, 2026, 4:02 PM IST | Indian Wells

روسی ٹینس اسٹار ڈینیل میدویدیف نے عالمی نمبر ایک کارلوس الکاراز کی مسلسل تیسری بار انڈین ویلز جیتنے کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ ڈینیل میدویدیف نے سیمی فائنل میں ۳۔۶، ۶۔۷؍سے کامیابی حاصل کی۔

Daniel And Sinner.Photo:X
ڈینیل اور سنر۔ تصویر:ایکس

 روسی ٹینس اسٹار ڈینیل میدویدیف نے عالمی نمبر ایک کارلوس الکاراز کی مسلسل تیسری بار انڈین ویلز جیتنے کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ ڈینیل میدویدیف نے سیمی فائنل میں ۳۔۶، ۶۔۷؍سے کامیابی  حاصل کی۔
میدویدیف نے میچ کا آغاز انتہائی ہوشیاری سے کیا اور پہلے سیٹ میں۱۔۳؍ کی برتری حاصل کر کے اسے اپنے نام کیا۔ دوسرے سیٹ میں الکاراز نے بھرپور واپسی کی کوشش کی اور ایک وقت میں ۱۔۳؍ کی سبقت حاصل کر لی تھی، لیکن میدویدیف نے تجربے کا استعمال کرتے ہوئے اسکور برابر کیا اور ٹائی بریک میں لگاتار چھ پوائنٹس جیت کر مقابلہ ختم کر دیا۔دوسری جانب، عالمی نمبر دو یانک سنرنے الیگزینڈر زیوریو کو بآسانی ۲۔۶، ۴۔۶؍ سے شکست دے کر پہلی بار انڈین ویلز کے فائنل میں قدم رکھا ہے۔۲۴؍ سالہ اطالوی کھلاڑی اس پورے ٹورنامنٹ میں اب تک ایک بھی سیٹ نہیں ہارے، جو ہارڈ کورٹ پر ان کی بڑھتی ہوئی بالادستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یانک  سنر اب ایک منفرد ریکارڈ کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ وہ پہلے ہی ٹورنٹو (۲۰۲۳ء)، میامی، سنسناٹی، شنگھائی (۲۰۲۴ء) اور پیرس (۲۰۲۵ء) کے ٹائٹل جیت چکے ہیں۔ اگر وہ اتوار کو میدویدیف کو ہرا دیتے ہیں، تو وہ تمام چھ ہارڈ کورٹ ماسٹرز ۱۰۰۰؍ٹائٹلز جیتنے کا سنگ میل عبور کر لیں گے۔
سبالینکا نے نوسکووا کو ہرا کر انڈین ویلز کے فائنل میں جگہ بنا لی
 دنیا کی نمبر ون ٹینس اسٹار آرینا سبالینکا نے انڈین ویلز کے سیمی فائنل میں لنڈا نوسکووا کو شکست دے کر چار سالوں میں تیسری بار فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ سبالینکا نے یہ میچ۳۔۶، ۴۔۶؍ کے اسکور سے اپنے نام کیا۔یہ فتح سبالینکا کے لیے کئی اعزازات ساتھ لائی ہے۔ وہ ۱۹۸۹ء کے بعد پہلی ایسی نمبر ون  کھلاڑی بن گئی ہیں جنہوں نے لگاتار دو سال فائنل تک رسائی کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ وکٹوریہ ایزارینکا کے بعد دوسری فعال کھلاڑی ہیں جنہوں نے تین بار انڈین ویلز کے فائنل میں قدم رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:آسکر۲۰۲۶ء: ’ون بیٹل آفٹر اَن اَدر‘ اور ’سنرز‘ کے درمیان سخت مقابلہ

سبالینکا نے ۲۱؍ سالہ چیک کھلاڑی نوسکووا کے خلاف شروع سے ہی دباؤ برقرار رکھا اور پہلے سیٹ میں  ۱۔۵؍کی برتری حاصل کرنے کے بعد اسے آسانی سے جیت لیا۔ دوسرے سیٹ میں نوسکووا نے مزاحمت کی کوشش کی اور کچھ اہم بریک پوائنٹس بچائے، لیکن سبالینکا کی طاقتور سروسیز کے سامنے ان کی ایک نہ چلی۔

یہ بھی پڑھئے:این ایچ اے آئی نے فاسٹیگ سالانہ پاس فیس میں اضافہ کا کیا اعلان

جیت کے بعد شائقین سے خطاب کرتے ہوئے سبالینکا نے کہا’’یہ بہت اچھا محسوس ہو رہا ہے، لیکن میں یہاں اپنے پچھلے دو فائنلز ہار چکی ہوں۔ میں اس بات کو یقینی بناؤں گی کہ اتوار کو میں مکمل تیار رہوں اور اپنا بہترین ٹینس کھیلوں تاکہ یہ سال میرا ثابت ہو۔ اس جیت کے ساتھ سبالینکا نے اسٹیفی گراف اور مونیکا سیلس جیسے لیجنڈز کی فہرست میں جگہ بنا لی ہے، جنہوں نے سن شائن ڈبل (انڈین ویلز اور میامی) کے لگاتار تین فائنلز کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK