Inquilab Logo Happiest Places to Work

محمد عزیز کی آواز میں محمد رفیع جیسی وسعت اور گہرائی تھی

Updated: July 02, 2026, 1:24 PM IST | Mumbai

ہندی فلمی موسیقی کی تاریخ میں بعض آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی ایک دورکی پہچان بن جاتی ہیں۔

Famous singer Muhammad Aziz. Photo: INN
مشہور گلوکار محمد عزیز۔ تصویر: آئی این این

ہندی فلمی موسیقی کی تاریخ میں بعض آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی ایک دورکی پہچان بن جاتی ہیں۔ محمد رفیع، کشور کمار اور مکیش کے بعد جس گلوکار نے اپنی بھرپور، بلند آہنگ اور جذبات سے لبریز آواز کے ذریعے لاکھوں دلوں کو مسحور کیا، ان میں محمد عزیز کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔خصوصاً ۱۹۸۰ءاور ۱۹۹۰ءکی دہائی میں وہ ان چند پلےبیک گلوکاروں میں شامل تھے جن کے بغیر بالی ووڈ کی موسیقی کا تصور ادھورا محسوس ہوتا تھا۔ ان کی آواز میں جو طاقت، مٹھاس اور درد تھا، وہ انہیں اپنے معاصر گلوکاروں سے ممتاز بناتا تھا۔

محمدعزیز کااصل نام سید محمد عزیز النبی تھا۔ان کی پیدائش۲؍ جولائی ۱۹۵۴ءکو مغربی بنگال کے شہر اشوک نگر میں ہوئی۔ ان کا خاندان مذہبی اور تہذیبی روایات کا امین تھا۔ بچپن ہی سے ان کا رجحان موسیقی کی طرف تھا اور وہ خصوصاً محمد رفیع کے گیتوں سے بے حد متاثرتھے۔ان کے والد موسیقی سے شغف رکھتے تھے اور گھر میں اکثر گانے بجانے کی محفلیں سجتی تھیں۔ یہی ماحول ان کی فنی تربیت کا ابتدائی ذریعہ بنا۔ محمد عزیز نے باقاعدہ طور پر کلاسیکی موسیقی کی تعلیم بھی حاصل کی، جس نے ان کی آواز کو مزید نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھئے: آیوشمان کھرانہ کی فلم ’’موپاپا‘‘۱۹؍ فروری ۲۰۲۷ء کو ریلیزہوگی

اپنے ابتدائی دنوں میں محمد عزیز کولکاتا میں مختلف اسٹیج پروگراموں اور مقامی تقریبات میں گایا کرتے تھے۔ ان کی آواز میں محمد رفیع کی جھلک نمایاں تھی، جس کی وجہ سے سامعین انہیں بے حد پسند کرتے تھے۔کولکاتا میں انہوں نے بنگالی اور اوڑیہ فلموں کے لیے گیت بھی گائے۔ اسی دوران معروف اداکار اور ہدایت کار ان کی صلاحیتوں سے متاثر ہوئے اور انہیں ممبئی جانے کا مشورہ دیا۔ممبئی پہنچنے کے بعد ان کی ملاقات مشہور موسیقار انو ملک سے ہوئی، جنہوں نے ان کی صلاحیت کو پہچانا اور فلمی دنیا میں قدم جمانے میں مدد کی۔

محمد عزیز کو بالی ووڈ میں پہلی بڑی کامیابی ۱۹۸۵ءمیںریلیز ہونے والی فلم ’مرد‘ کے ذریعے حاصل ہوئی۔ اس فلم کے مرکزی اداکار امیتابھ بچن تھے اور اس کے نغمے غیر معمولی طور پر مقبول ہوئے۔ فلم کا عنوانی گیت ’مرد تانگے والا‘ محمد عزیز کی آواز میں تھا، جس نے انہیں راتوں رات شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔اس کامیابی کے بعد فلمی صنعت میں ان کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا اور وہ بڑے موسیقاروں کی اولین پسند بن گئے۔

یہ بھی پڑھئے: مہیش بابو کے ڈسپلن سے راجامولی بے حد متاثر

محمد عزیز کو اکثر محمد رفیع کا جانشین قرار دیا جاتا تھا۔ اگرچہ انہوں نےکبھی اپنے آپ کو رفیع صاحب کا متبادل قرار نہیں دیا، لیکن وہ ہمیشہ یہ اعتراف کرتے رہے کہ ان کی پوری فنی زندگی محمد رفیع کے اثرات کی مرہونِ منت ہے۔ان کی آواز میں رفیع صاحب جیسی وسعت، بلند سروںپرگرفت اور جذبات کی گہرائی محسوس کی جا سکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ کئی موسیقار انہیں ایسے گیت گانے کے لیے منتخب کرتے تھے جن میں رفیع صاحب کے انداز کی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔زندگی کے آخری برسوں میں اگرچہ فلمی موسیقی کے بدلتے رجحانات نے ان کی مصروفیات کو کم کر دیا تھا، لیکن وہ موسیقی کی دنیا سے وابستہ رہے اور اسٹیج پروگراموں میں مسلسل حصہ لیتے رہے۔ ۲۷؍ نومبر ۲۰۱۸ءکوکولکاتا میں ایک اسٹیج شو سے واپسی کے بعد انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی عمر ۶۴؍برس تھی۔ ان کے انتقال سے ہندوستانی موسیقی کی ایک ایسی آوازخاموش ہو گئی جس نے کئی دہائیوں تک لاکھوں سامعین کے دلوں کو گرمایا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK