Updated: July 02, 2026, 12:41 PM IST
| New Delhi
ملک کی اسٹین لیس اسٹیل صنعت نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں قومی اسٹین لیس اسٹیل پالیسی اور قومی اینٹی کورروژن (انسدادِ زنگ) پالیسی نافذ کی جائے تاکہ زنگ لگنے کی وجہ سے ہر سال اسٹیل صنعت اور معیشت کو ہونے والے تقریباً ۱۲؍لاکھ کروڑ روپے کے نقصان کو روکا جا سکے، گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے، خام مال کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو بڑھایا جاسکے ۔
انیتا رگھوناتھ خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
ملک کی اسٹین لیس اسٹیل صنعت نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں قومی اسٹین لیس اسٹیل پالیسی اور قومی اینٹی کورروژن (انسدادِ زنگ) پالیسی نافذ کی جائے تاکہ زنگ لگنے کی وجہ سے ہر سال اسٹیل صنعت اور معیشت کو ہونے والے تقریباً ۱۲؍لاکھ کروڑ روپے کے نقصان کو روکا جا سکے، گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے، خام مال کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو بڑھایا جاسکے ۔یہ مطالبہ انڈین اسٹین لیس اسٹیل ڈیولپمنٹ اسوسی ایشن اور گلوبل اسٹین لیس اسٹیل ایکسپو کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے اعلان کے موقع پر کیا گیا۔ اس کا انعقاد ورگو کمیونی کیشنز اینڈ ایگزیبیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ نے کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: سیبی نے ۱۴۴؍کروڑ کے’’پمپ اینڈ ڈمپ‘‘ گھوٹالے میں بڑی کارروائی کی
صنعتی نمائندوں نے کہا کہ ہندوستان میں اسٹین لیس اسٹیل کی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً ۷۵؍ لاکھ ٹن ہے، مگر اس کا صرف ۶۰؍سے ۶۵؍ فیصد ہی استعمال ہو رہا ہے، جبکہ ملک کی کل طلب کا ۲۵؍ سے ۲۸؍ فیصد حصہ اب بھی امپورٹس سے پورا کیا جاتا ہے، جن میں زیادہ تر درآمدات چین سے ہوتی ہیں۔اس موقع پر آئی ایس ایس ڈی اے کے صدر راجامنی کرشن مورتی نے کہا کہ ہندوستان کے پاس عالمی سطح پر اسٹین لیس اسٹیل کی طاقتور صنعت بننے کی مکمل صلاحیت اور تکنیکی مہارت موجود ہے، تاہم اس کیلئےمضبوط حکومتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت صنعت کو دو بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے، ایک سستی درآمدات اور دوسرا اسٹین لیس اسٹیل کیلئے علیحدہ پالیسی کا فقدان۔ ان کے مطابق اسٹین لیس اسٹیل کو اب بھی عام اسٹیل کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ حالانکہ اس کی تیاری، خام مال اور استعمال کے شعبے یکسر مختلف ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک علیحدہ قومی اسٹین لیس اسٹیل پالیسی نہ صرف خام مال کی دستیابی کو یقینی بنائے گی بلکہ نئی سرمایہ کاری کو فروغ دیگی اور ہندوستان کو ویلیو ایڈیڈ اسٹین لیس اسٹیل کی عالمی پیداوار میں نمایاں مقام دلانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ ایم ڈی انیتا رگھوناتھ نے کہا کہ آئی ایس ایس ڈی اے اور جی ایس ایس ای کی شراکت داری صنعت کو ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرے گی، جہاں مینوفیکچررز، صارفین، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے اور پالیسی ساز ایک ساتھ مل کر کام کر سکیں گے۔