Inquilab Logo Happiest Places to Work

جون میں مینوفیکچرنگ شعبے کی رفتار سست رہی

Updated: July 02, 2026, 12:49 PM IST | New Delhi

ماہانہ ’پی ایم آئی‘ میں انکشاف، نئے کاروباری آرڈرس میںکمی اور بین الاقوامی سطح پر فروخت میں سست روی نے شعبہ کی ترقی رفتار کو کمزور کیا۔

The manufacturing sector PMI was 55.0 in May, which fell to 54.2 in June. Photo: INN
مینوفیکچرنگ کے شعبہ کا پی ایم آئی مئی میں۰ء۵۵؍ تھا جو جون میں گھٹ کر۲ء۵۴؍ ہوگیا۔ تصویر: آئی این این

ماہ ِ جون میں  ملک کے مینوفیکچرنگ شعبے کی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی کیونکہ نئے کاروباری آرڈرس اور بین الاقوامی فروخت میں اضافہ نسبتاً کم رہا۔اس کی وجہ سے پیداوار، روزگار اور خریداری کی سرگرمیوں میں بھی رفتار کم ہوئی۔ا س کا انکشاف  بدھ کو جاری ہونے والے ماہانہ’’پی ایم آئی ‘ سروے میں  ہوا ہے۔  ایچ ایس بی سی انڈیا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ منیجرز انڈیکس(پی ایم آئی) جو مئی میں۵۵ء۰ ؍ تھی جون میں کم ہوکر ۴۵ء۲؍ پر آ گیا۔ یہ ۲۰۲۲ء کے  وسط کے بعد مینوفیکچرنگ شعبے کی صحت میں دوسری کمزور ترین تیزی کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سیبی نے ۱۴۴؍کروڑ کے’’پمپ اینڈ ڈمپ‘‘ گھوٹالے میں بڑی کارروائی کی

واضح رہے کہ پی ایم آئی ایک ایسا اشاریہ ہے جو نئے آرڈر، پیداوار، روزگار، سپلائرس کی ترسیل کے اوقات اور خام مال کی خریداری جیسے عوامل کی بنیاد پر مینوفیکچرنگ شعبے کی مجموعی صورتحال کا اندازہ لگاتا ہے۔ اس انڈیکس میں۵۰؍ سے اوپر کی ریڈنگ توسیع اور۵۰؍سے کم سکڑاؤ کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ سروے کے مطابق بعض کمپنیوں نے طلب میں بہتری کی اطلاع دی ہے تاہم کئی اداروں نے صارفین کی کمزور دلچسپی اور مارکیٹ میں سخت مقابلے کی نشاندہی کی۔ ایچ ایس بی سی کی چیف انڈیا اکنامسٹ پرانجل بھنڈاری نے بتایا کہ جون میں مینوفیکچرنگ پی ایم آئی کا۵۵ء۰؍ سے کم ہو کر۵۴ء۲؍ پر آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ شعبہ بدستور ترقی کر رہا ہے، لیکن اس کی رفتار سست ہو ئی ہے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کے تنازع کی بنا پر پہلے مانگ میں جو تیزی آئی تھی، اس میں اب معمولی کمی دکھائی  دے رہی ہے۔

بین الاقوامی فروخت میں مارچ۲۳ء کے بعد سب سے کم اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔   ہندوستانی مصنوعات کی بیرون ملک طلب برقرار  ہے لیکن اس میں اضافہ گزشتہ۳۹؍ماہ کی کم ترین رفتار سے ہوا، جبکہ یورپ کی بعض منڈیوں میں فروخت کمزور رہنے کی اطلاعات بھی ملیں۔قیمتوں کے حوالے سے سروے میں بتایا گیا کہ طلب کمزور ہونے کے باعث کمپنیوں نے مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے میں احتیاط برتی۔روزگار کے شعبے میں بھی صورتحال کمزور رہی۔ کام کے بوجھ میں استحکام اور طلب میں کمی کے باعث کئی کمپنیوں نے نئی بھرتیاں روک دیں یا ان کی رفتار کم کر دی۔ پیداواری صلاحیت پر زیادہ دباؤ نہ ہونے کی وجہ سے مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے اختتام پر ملازمتوں میں اضافہ محدود رہا۔

یہ بھی پڑھئے: دبئی میں سستے داموں سونا خریدنے کا بہترین موقع، قیمتیں کم ترین سطح پر آگئیں

’پی ایم آئی‘ کیا ہے؟ یہاں سمجھیں:

*پی ایم آئی (پرچیزنگ منیجرس انڈیکس) ایک معاشی اشاریہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ کسی ملک کا مینوفیکچرنگ یا خدمات کا شعبہ کس رفتار سے ترقی کر رہا ہے یا سکڑ رہا ہے۔

*یہ انڈیکس  نئے آرڈر، پیداوار، روزگار، خام مال کی خریداری اور سپلائی کی رفتار کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے۔

* ۵۰؍سے زیادہ اسکور کا مطلب ہے کہ معیشت یا متعلقہ شعبہ ترقی کر رہا ہے۔

* اگر اسکور ۵۰؍ سے کم ہے تو اس  کا مطلب ہے کہ سرگرمیاں سکڑ  رہی ہیں،۵۰؍کا مطلب ہےکہ صورتحال جوں کی توں ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK