ہندوستانی سینما میں اگر کسی اداکار کوموجودہ دور کے’کمالِ اداکاری‘کا دوسرا نام کہاجائے تو وہ موہن لال وشوناتھن نائر ہیں۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 12:23 PM IST | Mumbai
ہندوستانی سینما میں اگر کسی اداکار کوموجودہ دور کے’کمالِ اداکاری‘کا دوسرا نام کہاجائے تو وہ موہن لال وشوناتھن نائر ہیں۔
ہندوستانی سینما میں اگر کسی اداکار کوموجودہ دور کے’کمالِ اداکاری‘کا دوسرا نام کہاجائے تو وہ موہن لال وشوناتھن نائر ہیں۔ کیرالہ میں انہیں محبت سے ’لالٹین‘کہا جاتا ہے۔۴؍ دہائیوں، ۴۰۰؍سے زائد فلموں اور ہر قسم کے کردار کے ساتھ موہن لال نے خود کو ملیالم ہی نہیں،پورے ہندوستانی سینما کا ایک بے مثال فنکار ثابت کیا ہے۔ حکومتِ ہند نے انہیں پدم شری، پدم بھوشن اور ۲۰۲۵ءمیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نواز کر ان کی خدمات کو تسلیم کیا ہے۔موہن لال ۲۱؍مئی ۱۹۶۰ءکوکیرالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد وشوناتھن نائر کیرالہ حکومت میں لاء سیکریٹری تھے۔ بچپن ترواننت پورم میں گزرا، جہاں انہوں نےاسکول اور کالج کی تعلیم حاصل کی۔ اسکول کے ڈرامے’کمپیوٹر بوائے‘میں ۹۰؍سالہ بوڑھے کا کردارنبھاکر انہوں نے پہلا بہترین اداکار کا انعام جیتا۔ کالج کے زمانے میں وہ کرکٹ اور ریسلنگ میں بھی ممتاز رہے اور ۷۸۔ ۱۹۷۷ءمیں کیرالہ کے اسٹیٹ ریسلنگ چمپئن بنے۔
یہ بھی پڑھئے: اکشے کمار نئے اداکار کی طرح کام کرتے ہیں: سعدیہ خطیب کا انکشاف
موہن لال نے ۱۸؍سال کی عمر میں ۱۹۷۸ء میں فلم ’تھیرانوٹم‘ سے اداکاری کا آغاز کیا، مگر سینسرکے مسائل کی وجہ سے یہ فلم ۲۵؍ سال بعد ریلیز ہوئی۔ ان کی پہلی ریلیز فلم ۱۹۸۰ءکی ’منجل ورنجا پوکل‘ تھی،جس میں انہوں نے ولن کا کردار ادا کیا۔ ظالم شوہر کا یہ کردار اتنا طاقتور تھا کہ فلم کلٹ بن گئی اور موہن لال کو پہچان ملی۔ ابتدائی برسوں میں انہوں نے لگاتار ولن کے کردار کیے۔ ۱۹۸۲ءکی فلم ’پدایوتم‘میں انہیں پہلی بار مرکزی کردار ملا، جو پہلی ملیالم فلم تھی جو ۷۰؍ایم میں بنی۔۱۹۸۴ءکی ’اٹکلاسم‘نے انہیں ایک کامیاب ہیرو کے طور پر قائم کر دیا۔ ۱۹۸۶ءکاسال ان کے کرئیر کا ٹرننگ پوائنٹ بنا جب فلم ’راجاونٹے ماکن‘ میں انڈر ورلڈ ڈان کے کردار نے انہیں ملیالم سینما کا سپر اسٹار بنا دیا۔
موہن لال کی سب سے بڑی پہچان ان کی ورسٹیلٹی ہے۔ وہ جس کردار میں ڈھلتے ہیں، وہی کردار بن جاتے ہیں۔ ۸۰ءکی دہائی میں انہوں نے’پوچاکورو موکوتی‘ اور ’نڈودیکٹو‘جیسی فلموں سے کامیڈی کانیا رجحان شروع کیا۔’بھارتم‘ ۱۹۹۱ءمیں کرناٹکی موسیقار کا کردار نبھا کر انہوں نے پہلا نیشنل ایوارڈ حاصل کیا۔۱۹۹۹ءمیں’وانا پرستم‘میں کتھاکلی آرٹسٹ کا کردار کرنے کے لیے انہوں نے۶؍ماہ تک کتھاکلی سیکھی اور دوسرا نیشنل ایوارڈجیتا۔ ۲۰۱۳ءکی فلم ’دریشم‘میں ایک عام کیبل ٹی وی آپریٹر جارج کٹی کا کردار ادا کر کے انہوں نے پوری نسل کو متاثر کیا۔ اس فلم اور اس کے سیکوئل کو آج بھی تھرلر کا شاہکار مانا جاتا ہے، جس کا ہندی ریمیک اجے دیوگن نے کیا۔
یہ بھی پڑھئے: باپ کی ڈانٹ میں بھی پیار تھا: بوبی دیول جذباتی ہوگئے
موہن لال کی خدمات کا اعتراف قومی سطح پر بھی ہوا۔۲۰۰۱ء میں انہیں پدم شری اور ۲۰۱۹ءمیں پدم بھوشن سے نوازا گیا۔ ۲۰۲۵ء میں انہیں ہندوستانی سینما کا سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈملا۔ انہوں نے۴؍یشنل فلم ایوارڈ،۶؍کیرالہ اسٹیٹ فلم ایوارڈ اوربے شمار دیگر اعزازات حاصل کیے۔ ۲۰۰۹ءمیں وہ ہندوستان کے پہلے اداکار بنے جنہیں ٹیریٹوریل آرمی میں لیفٹیننٹ کرنل کا اعزازی عہدہ دیا گیا۔سی این این نےانہیں ’’ان لوگوں میں شمار کیا جنہوں نے ہندوستانی سینما کا چہرہ بدلا۔‘‘