Inquilab Logo Happiest Places to Work

صدر ٹرمپ سے زیادہ ایران پر یقین: سابق سربراہ سی آئی اے

Updated: March 25, 2026, 12:13 PM IST | New York

سی آئی اے کے سابق سربراہ مطابق جان برینن کے مطابق حقائق بار بار سامنے آنے کے باوجود ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور وہ اپنی تخلیق کردہ شکست سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

John Brennan.Photo:TV Image
جان برینن۔ تصویر:ٹی وی سے لی گئی تصویر

سی آئی اے کے سابق سربراہ مطابق جان برینن کے مطابق حقائق بار بار سامنے آنے کے باوجود ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور وہ اپنی تخلیق کردہ شکست سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا یہ مؤقف بھی درست نہیں کہ ایران مذاکرات کے لیے سگنل دے رہا ہے یا امریکی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتا ہے، میں صدر ٹرمپ سےزیادہ ایران کی باتوں پریقین کرتاہوں۔سابق سربراہ سی آئی اے کے مطابق ایرانی حکومت کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی ہے ۔

 

امریکی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ جان برینن نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے مؤقف کو ٹرمپ کے دعوؤں سے زیادہ قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔ امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ کے مطابق جان برینن نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے بیانات کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دعوؤں کے مقابلے میں زیادہ قابلِ یقین سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:فاروق شیخ نے فلموں کی تعداد پر نہیں معیارپر توجہ دی


انہوں نے کہا کہ متعدد حقائق سامنے آنے کے باوجود ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور اپنی پالیسی کی ناکامی سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ برینن کے مطابق یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ ہے یا امریکی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتا ہے۔سابق سی آئی اے سربراہ نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان کسی قسم کی باضابطہ بات چیت نہیں ہو رہی اور دونوں جانب سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:کشمیر: ندی مارگ قتل عام کی ۲۳؍ ویں برسی، کشمیری پنڈتوں کے ساتھ مسلمان بھی شریک


جان برینن نے واضح طور پر کہا کہ ان کے نزدیک ایران کے بیانات زیادہ حقیقت کے قریب ہیں جبکہ امریکی صدر کے دعوؤں میں تضاد پایا جاتا ہے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے برینن کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ ایک ایسے ملک پر یقین کرنا جو دہائیوں سے امریکا کے خلاف نعرے لگاتا آیا ہے، شرمناک ہے۔وائٹ ہاؤس کے ایک اور عہدیدار پیٹرک ایڈمز نے بھی برینن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی برینن کے بیان پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں بعض صارفین نے ان کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ نے اسے موجودہ صورتحال کا عکاس قرار دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK