Inquilab Logo Happiest Places to Work

روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کا اندیشہ

Updated: May 10, 2026, 11:26 AM IST | Mumbai

مشرق وسطیٰ کے بحران کی بنا پر اخراجات میں اضافہ کی وجہ سے ڈابر اور ہندوستان لیور نے اپنی مصنوعات کی قیمتیں  بڑھانے کا اشارہ دیا۔

Daily necessities like soap, oil, biscuits may become more expensive. Photo: INN
صابن، تیل، بسکٹ جیسی روزمرہ استعمال کی اشیا ء مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

روزمرہ کے استعمال کی مصنوعات  (ایف ایم سی جی ) بنانے والی بڑی کمپنی  ڈابر انڈیا نے اپنے پروڈکٹس کی قیمتوں میں اضافے کااشارہ دیاہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ پیکیجنگ میٹریل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث  لاگت میں اضافہ کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔  ڈابر کے علاوہ ہندوستان یونی لیور(ایچ یو ایل اور  اور نیسلے جیسی کمپنیاں بھی مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ ایسے میں گھریلو بجٹ متاثر ہو سکتا ہے اور صابن، تیل، بسکٹ جیسی روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہو سکتی ہیں۔

اگلی سہ ماہی میں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں قیمتیں

ڈابر انڈیا کے گلوبل سی ای او موہت ملہوترا کے مطابق کمپنی مالی ۲۷ء-۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون) میں قیمتیں بڑھا سکتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ڈابر نے موجودہ سہ ماہی میں ہی قیمتوں میں تقریباً۴؍فیصد اضافہ کیا تھا  لیکن خام مال کی لاگت  میں مسلسل  اضافہ کا حوالہ دیکر کمپنی دوبارہ قیمتیں بڑھانے کا ارادہ کر رہی ہے۔ ڈابر کا کنسولیڈیٹڈ نیٹ منافع چوتھی سہ ماہی(مالی سال ۲۶ء )میں  گزشتہ سال کے ۱۵ء۷۵؍فیصد بڑھا ہے لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے چیلنج اب بھی برقرار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کے لیے قانونی نظام کا بل تیار ہے: سینئر ایرانی قانون ساز

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور خام تیل کا اثر

کمپنیوں کی سب سے بڑی تشویش مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال ہے۔ جنگ بندی کے باوجود جمعرات کو  ایران اور امریکہ کے درمیان فائرنگ کے واقعات نے توانائی کی سپلائی اور خام تیل کی قیمتوں کے حوالے سے خدشات بڑھا دیئے ہیں۔ خام تیل مہنگا ہونے کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹیشن، پیکیجنگ اور کیمیکل صنعت پر پڑتا ہے۔ اگر یہ کشیدگی طویل ہوتی ہے تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں، جس سے ایف ایم سی جی کمپنیوں کی مینوفیکچرنگ اور مال برداری کی لاگت مزید بڑھ جائے گی۔

دیہی علاقوں میں مانگ بحال ہوئی مگر منافع پر دباؤ

چوتھی سہ ماہی کے نتائج میں ایک مثبت پہلو یہ رہا کہ دیہی بازاروں میں طلب میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ کافی عرصے بعد چھوٹے شہروں اور دیہات  میں مانگ  اور کھپت میں اضافہ ہوا ہے لیکن جیسے ہی کھپت بڑھنا شروع ہوئی، کمپنیوں کو خام مال کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔خوردنی تیل، دودھ اور پیکیجنگ میٹریل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگی ہیں، جس سے کمپنیوں کے منافع پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی مہینوں جاری رہے، تب بھی ایران کو فرق نہیں پڑے گا: سی آئی اے رپورٹ

کئی بڑی کمپنیاں قیمتیں بڑھانے کی تیاری میں

ڈابر  اور ہندوستان یونی لیور  ہی نہیں نیسلے انڈیا، میریکو، آئی ٹی سی، برٹانیہ اور گودریج کنزیومر پروڈکٹس جیسی کمپنیوں کے بیانات سے بھی یہ  واضح اشارے مل رہے ہیں کہ  ایف ایم سی جی صنعت مشکل دور کیلئے خود کو تیار کر رہی ہے۔صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مانسون اوسط سے کم رہتا ہے اور عالمی حالات بہتر نہیں ہوتے تو گھریلو ماہانہ اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ بازار پر نظررکھنےوالوں کے مطابق گزشتہ سہ ماہی میں مشرق وسطیٰ کے تنازع اور آبنائے ہرمز کے راستے کی بندش کا مکمل اثر معیشت پر نظر نہیں آیا تھا لیکن اب اس کا اثر سپلائی چین پر دکھائی دینے لگا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK