Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’پیکی بلائنڈرز‘‘ فلم نے ٹومی شیلبی کی کہانی کو پُراثر انجام دیا

Updated: March 21, 2026, 4:06 PM IST | Los Angeles

اسٹیون نائٹ کی نئی فلم دی ایمورٹل مین سیریز کے شائقین کے لیے جذباتی الوداع ثابت ہو رہی ہے، مگر نئی جہت کم نظر آتی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

مشہور سیریز ’’پیکی بلائنڈرز‘‘ کے چھٹے سیزن کے تقریباً چار سال بعد تخلیق کار اسٹیون نائٹ ایک بار پھر فلم Peaky Blinders: The Immortal Man کے ساتھ واپس آئے ہیں، جو نہ صرف ایک اسپن آف ہے بلکہ ٹومی شیلبی کی کہانی کا ایک طرح سے اختتامی باب بھی ہے۔ یہ فلم اب نیٹ فلکس پر اسٹریمنگ کے لیے دستیاب ہے اور اپنے کلاسک انداز کو برقرار رکھتے ہوئے ناظرین کو ایک مانوس مگر جذباتی تجربہ فراہم کرتی ہے۔ کہانی ۱۹۴۰ء کے پس منظر میں شروع ہوتی ہے، جب برطانیہ دوسری جنگ عظیم کے بحران سے گزر رہا ہوتا ہے۔ ٹومی شیلبی، جسے کیلین مرفی نے ادا کیا ہے، اب ایک تھکا ہوا اور خاموش انسان بن چکا ہے جو ماضی کے صدمات، خاص طور پر اپنی بیٹی روبی کی موت کے غم سے نبرد آزما ہے۔ وہ طاقت اور جرائم کی دنیا سے کنارہ کش ہو چکا ہے، مگر حالات اسے دوبارہ اسی اندھیرے میں کھینچ لاتے ہیں۔
فلم میں ایک نازی حمایت یافتہ سازش ٹومی کو واپس میدان میں لے آتی ہے، جہاں نہ صرف اس کے خاندان بلکہ پورے ملک کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اسی دوران اس کا بیٹا ڈیوک، جسے بیری کیوگن نے ادا کیا ہے، ’’پیکی بلائنڈرز‘‘ کی قیادت سنبھال چکا ہے۔ ڈیوک کا کردار بے قابو خواہشات اور غیر متوقع فیصلوں سے بھرپور ہے، جو باپ اور بیٹے کے درمیان کشیدگی کو کہانی کا مرکزی محور بنا دیتا ہے۔ اداکاری کے لحاظ سے کیلین مرفی فلم کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آتے ہیں۔ ان کی خاموشی میں بھی ایک وزن محسوس ہوتا ہے، اور جب وہ دوبارہ ایکشن میں آتے ہیں تو فلم اپنی اصل رفتار پکڑ لیتی ہے۔ ان کا کردار اب پہلے جیسا جارح نہیں بلکہ زیادہ سنجیدہ اور اندرونی کشمکش کا شکار دکھائی دیتا ہے، جو کہانی کو ایک نیا جذباتی رنگ دیتا ہے۔
ہدایتکار ٹام ہارپر نے سیریز کے مخصوص بصری انداز کو برقرار رکھا ہے، جس میں سلو موشن شاٹس، اسٹائلش ملبوسات اور جدید و کلاسیکل موسیقی کا امتزاج شامل ہے۔ فلم کا آغاز ہی ایک دھماکہ خیز منظر سے ہوتا ہے جو ناظرین کو فوراً اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ تاہم، فلم مکمل طور پر نئی سمت اختیار کرنے کے بجائے سیریز کے مانوس انداز پر ہی چلتی ہے۔ یہ ایک الگ فلم کے بجائے ایک طویل ایپیسوڈ جیسی محسوس ہوتی ہے، جس میں کہانی کی پیش رفت کافی حد تک متوقع رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے ناظرین کے لیے اس میں وہ کشش کم ہو سکتی ہے جو پرانے مداحوں کے لیے موجود ہے۔
یہ فلم بنیادی طور پر ان شائقین کے لیے بنائی گئی ہے جو ابتدا سے شیلبی خاندان کے سفر کا حصہ رہے ہیں۔ ان کے لیے اس میں جذباتی بندش، پرانے کرداروں کی واپسی اور کہانی کا تسلی بخش اختتام موجود ہے۔ فلم کا سب سے مضبوط پہلو یہی ہے کہ یہ ٹومی شیلبی کی زندگی کو ایک عکاس انداز میں سمیٹتی ہے، جہاں وہ طاقت کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنے ماضی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگرچہ دی ایمورٹل مین ہر لحاظ سے مکمل نہیں، لیکن یہ ایک اہم اور دیکھنے کے قابل اختتام ضرور فراہم کرتی ہے۔ ٹومی شیلبی کے ساتھ یہ آخری سفر شائقین کے لیے ایک یادگار تجربہ بن جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK