ٹی وی کے مشہور اداکار منیش رائے سنگھانی کا کہنا ہے کہ میں اب کیمرے کے سامنے اور پیچھے دونوں ہی جگہ کام کرنا چاہتا ہوں۔
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 1:06 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
ٹی وی کے مشہور اداکار منیش رائے سنگھانی کا کہنا ہے کہ میں اب کیمرے کے سامنے اور پیچھے دونوں ہی جگہ کام کرنا چاہتا ہوں۔
منیش رائے سنگھانی ایک معروف ٹی وی اداکار، پروڈیوسر اور ڈائریکٹرہیں۔ منیش ممبئی میں ہی پیدا ہوئے۔انہوں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی لیکن بعد میں اداکاری کے میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے کئی مشہور ٹی وی ڈراموں میں کام کیا ہے ، جن میں خاص طور پر سسرال سمرکا، ہے جس میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تین بہو رانیاں اور وارث نامی شوز میں بھی کا م کیاہے۔ ان کے ٹی وی شوز کی فہرست طویل ہے کیونکہ انہوں نے انڈسٹری میں ۲۲؍ سال سے زیادہ وقت تک کام کیاہے۔منیش نہ صرف اداکاری بلکہ ہدایت کاری اور پروڈکشن میں بھی سرگرم ہیں۔ وہ مختصر فلمیں (شارٹ فلمز) بنانے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہیں فوٹوگرافی اور فلم سازی کابھی شوق ہیں۔ کئی ایوارڈزکیلئے وہ نامزدکئے گئے ہیں۔نمائندہ انقلاب نے ہدایت کار اور اداکار منیش رائے سنگھانی سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
منیش جی! اس وقت آپ کسی کس شو میں مصروف ہیں، یا پھر او ٹی ٹی کیلئے شوٹنگ کر رہے ہیں؟
ج: اس وقت میں چھٹیوں سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ بنیادی طور پر مجھے اپنے کام سے محبت ہے۔ میں مختلف محاذوں پر کام کررہاہوں۔ میں نے حال ہی میں ایک بڑے پلیٹ فارم کیلئے ایک ویب شو مکمل کیا ہے۔ اس کی ریلیز کا انتظار ہے۔ میری ۴؍بڑی ویب سیریز آنے والی ہیںجن کاکام میں نے مکمل کرلیا ہے۔اس کے ساتھ ہی میں مختلف شعبوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کررہا ہوں، خاص طور پر ورٹیکلز کے بارے میں، جنہیں مائیکرو ڈراما بھی کہا جاتا ہے۔ میں اس جانب کام کررہا ہوں اور اس میں مہارت حاصل کررہاہوں۔میں ا س جانب بھی خاصی توجہ دے رہاہوں، جس میں کیمرے کے سامنے اور پیچھے دونوں طرف کاکام شامل ہے۔ بس یہی سب ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ ۲۰۲۰ء نے مجھے ایک زبردست بات سکھائی ہے۔ ۲۰۲۰ء میں میں نے شوز اور شارٹ فلمز کے لئے لکھنا بھی سیکھا ہے۔ اس لحاظ سے میں کافی حد تک صحیح راستے پر ہوں۔ میں نے اس وقت ایک بڑے اسٹوڈیو کیلئے ایک فیچر فلم بھی لکھی ہے۔ امید ہے کہ اس سال کے آخر تک اس کی شوٹنگ شروع ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: نورا فتحی اور لیزا فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کی افتتاحی تقریبات میں پرفارم کریں گی
میرا خیال ہے کہ آپ کے کریئرکاسفر دو دہائیوں پر محیط ہے۔ آپ اپنے اس سفر کو کیسے بیان کریں گے؟
ج: میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب سے شاندارسیکھنے کا تجربہ رہا ہے۔ میں نے اس سفرمیں بہت تجربہ حاصل کیاہے اور اس کا لطف بھی اٹھایا ہے کیونکہ یہ ایک خوبصورت شعبہ ہے جہاں آپ ہر دن ایک نئی دنیا کے بارےمیں جانتے ہیں۔ ہر دن آپ کچھ نیا دریافت کرتے ہیں۔اس انڈسٹری کی خوبصورتی یہ ہے کہ اگر ہم ٹی وی شو کر رہے ہیں تو اسی کردار میں رہتے ہوئے ہمیں روزانہ بہت کچھ نیا کرنے کا موقع ملتاہے۔ اس میں آپ کتنی گہرائی میں جا سکتے ہیں اور ایک ہی کردار میں نئے جذبات لا سکتے ہیں، یہ ایک بڑا پہلو ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک شاندار سیکھنے اورتجربہ حاصل کرنے کا عمل رہا ہے۔ان تمام برسوں نے مجھے بہت سی خوبصورت چیزیں سکھائی ہیں۔
آپ کے کریئر میں ابھی تک کون سا شو یا کردار ایسا رہا جس نے آپ کو شہرت بخشی یا وہ آپ کے کریئر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا اور کیوں؟
ج: خوش قسمتی سے میں انڈسٹری میں اس وقت داخل ہواتھا جب ٹی وی کا دائرہ بہت وسیع ہوتا تھا۔ اس وقت بڑے بڑے اداکار موجود تھے اور اس وقت ٹی آر پی بہت اہم ہوا کرتی تھی۔ وہ بہت اچھا وقت تھا کہ آج آڈیشن دو، کل شوٹنگ شروع کرو اور پرسوں آپ اسٹار نہیں بلکہ سپر اسٹار بن جاتے تھے۔ میں اسی دور میں آیا ہوں۔ میری شہرت میرے پہلے ہی شو سے ہوگئی تھی جس کانام ’کبھی کسی روز‘ تھا۔ میں اس شو کے آخر میں شامل ہوا تھا۔ اس میں میرے رول کو کافی پسند کیا گیا تھا۔ وہیں سے میرا عروج شروع ہوا کیونکہ یہ ایک زبردست آغاز تھا۔ پھر میں نے ایک ساتھ تین شو کیے، ایکتا کپور نے مہربانی کی اور مجھے تین شوز ایک ساتھ کرنے کا موقع ملا۔ وہ میرے عروج کا دور تھا اور میں وہیں سے مصروف ہوگیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: بلی ایلش کے کنسرٹ پر مبنی فلم کی ریلیز ہندوستان میں تاخیر کا شکار
آپ کاکر یئر طویل رہا ہے لیکن آپ نے فلموں میں زیادہ کام نہیں کیا، یا اس پر زیادہ توجہ نہیں دی ، اس کی کیا وجہ تھی؟
ج: نہیں، ایسا نہیں ہے کہ مجھے فلمیں پسند نہیں، لیکن جب میں ممبئی آیا تو ہر آنے والے اداکار کی طرح مجھے پہلے یہاں اپنی جگہ بنانی تھی۔میں ایک بیسٹ سیلر رنر اپ تھا، پھر یورپ گیا، وہاں ماڈلنگ کی۔ جب واپس آیا تو سندیپ سکند سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھے آڈیشن میں دیکھا اور پھر بالاجی میں لے آئے اور وہاں سے سب کچھ شروع ہوا۔ اس وقت مجھے معلوم تھا کہ یہاں سے ایک مستقل آمدنی شروع ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف فلموں میں زیادہ وقت لگتا تھا۔ آڈیشن، ورکشاپ، پھر شوٹنگ، پھر ریلیز، سب بہت لمبا پروسیس ہوتاتھا۔ اس وقت میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا۔ پھر جب میں سیٹ ہو گیا تو میں نے فلموں کو بھی جاننے کی کوشش کی ۔ کچھ فلموں میں کام کیا جو او ٹی ٹی پر آئیں، تھیٹر میں زیادہ نہیں چلیں۔ پھر ویب کا دورآیا، جو ایک درمیانی راستہ تھا۔ وہ بہت دلچسپ تجربہ تھا کیونکہ ہر فارمیٹ میں اداکاری کا الگ انداز ہوتا ہے۔ ہر بار آپ کو اپنا پرانا طریقہ بھول کر نیا طریقہ آزمانا پڑتا ہے۔ یہ سب کچھ بہت دلچسپ رہا۔ ہر میڈیم نے کچھ نہ کچھ سکھایا۔
آپ نے مائیکرو ڈراما کا ذکر کیا۔ لوگ کہتے ہیں یہ بہت مقبول ہو رہا ہے۔ آپ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، خاص طور پر اُس وقت جبکہ آپ خود پروڈیوس بھی کر رہے ہیں؟
ج: مائیکرو ڈراما دراصل ٹی وی کی ایک توسیعی شکل ہے۔ یہ فلم اور ٹی وی کے درمیان کا ایک فارمیٹ ہے جس میں آپ ۹۰؍ یا۱۲۰؍ منٹ کی فلم کو قسطوں میں تقسیم کر دیتے ہیں کیونکہ لوگوں کی لمبی لمبی کہانیاں دیکھنے کی عادت کم ہو گئی ہے، اس لیے انہیں فوری تفریح چاہئے۔ یہ فارمیٹ چین اور کوریا سے ہندوستان میں داخل ہوا ہے۔ یہ فارمیٹ وہاں بہت کامیاب رہا۔ اس لیے یہ یہاں بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ لوگوں کے پاس اب وقت نہیں ہے کہ وہ ٹی وی کے طویل شوز دیکھیں، لیکن موبائل ہر وقت ساتھ رہتا ہے۔ اس لیے وہ کہانیوں کو چھوٹے حصوں میں دیکھ لیتے ہیں۔ یہ بہت اچھا میڈیم ہے کیونکہ ہر شخص کی اپنی پسند ہے اور وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی دیکھ سکتا ہے۔ پروڈکشن کے لحاظ سے بھی یہ دلچسپ ہے کیونکہ ہر تین دن میں ایک نئی کہانی، نئے کردار اور نئی لوکیشن نظرآتی ہے۔ اس میں اے آئی کا بھی استعمال ہو رہا ہے، جس سے اس کا اسکیل بڑا لگتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چینی اداکار لیو یوننگ نے ’’آنکھیں کھلی ہو‘‘ گا کر مداحوں کو حیران کر دیا
او ٹی ٹی پروجیکٹس کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟
ج: نہیں، ابھی تو نام بھی نہیں بتا سکتا، لیکن چار بڑے پروجیکٹس تیار ہیں۔ یہ سبھی شوز بہت دلچسپ ہیں کیونکہ میں نے الگ الگ ڈائریکٹرز کے ساتھ کام کیا ہے۔ایک شو کے ہدایتکار مراٹھی زبان کے مشہور ہدایتکار ہیں۔ شو بنانے کا ان کاانداز بہت حقیقی ہوتا ہے۔ان کے ساتھ کام کرتے وقت مجھے اپنا ذہن بالکل خالی رکھنا پڑا تھا۔ یہ ایک شاندار تجربہ تھا۔
کیا اس شو بز انڈسٹری میں کوئی ایسا بھی کام باقی رہ گیا ہے جو آپ ابھی بھی کرنا چاہتے ہیں؟
ج: میں بڑی فلموں کی ہدایتکاری کرنا چاہتا ہوں، لیکن اس کیلئے میرے پاس ابھی وقت نہیں ہے۔ میں نے شارٹ فلمز ڈائریکٹ کی ہیں۔ ہاں اگر وقت ملا تو ایک بڑی فلم بھی ڈائریکٹ کرنا چاہوں گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر اداکار کو کیمرے کے پیچھے بھی کام کرنا چاہیے، اس سے سمجھ بہتر ہوتی ہے۔
جس وقت آپ کوئی کام نہیں کررہے ہوتے ہیں تو اُس وقت آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ کی مصروفیات کس طرح کی ہوتی ہیں؟
ج: میں اپنے کام کو ہی اپنا شوق سمجھتا ہوں۔ میں سفر کرتا ہوں، نئے لوگوں سے ملتا ہوں، نئی چیزیں دیکھتا ہوں۔ یہ سب میرے کام کا حصہ ہے۔ میں جہاں جاتا ہوں وہاں شوٹنگ کے ساتھ ہی لوگوں سے ملاقاتیں بھی کرتا ہوں۔ یہی میرا طرزِ زندگی ہے۔میں جن لوگوں سے ملاقات کرتا ہوں،ان سے کچھ سیکھنے کی بھی کوشش کرتا ہوں اور اگر کیریکٹر اچھا لگے تو اسے اپنی کہانی میں شامل بھی کرتاہوں۔
یہ بھی پڑھئے: آسکرز کے بعد گولڈن گلوب نے بھی اے آئی سے بنائے گئے کرداروں پر پابندی لگا دی
جب آپ نے۲۲؍سال پہلے اپنا کریئر شروع کیا تھا اور اب آپ یہاں ہیں تو سب سے بڑا فرق کیا محسوس کرتے ہیں؟
ج: انڈسٹری میں رہتے ہوئےان ۲۲؍برسوں میں میں نے یہی سیکھا ہے کہ مجھے روز ہی کچھ نہ کچھ سیکھنا ہے۔ اصل چیز سیکھنا نہیں بلکہ ’اَن لرن‘ کرنا ہے۔ہر دن نیا دن ہے۔ ہر صبح آپ کو خالی ذہن کے ساتھ شروعات کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بہت کچھ سکھاتی ہے۔۲۲؍سالہ کریئر میں یہی میری سب سے بڑی سیکھ ہے ۔