اطہر حسین رضوی، جنہوں نے اردو دنیا میں کیفی اعظمی کے نام سے شہر ت پائی، کی ۲۴؍ویں برسی پر بطور خراجِ عقیدت ۴؍ الگ الگ تحریریں پڑھئے، جن میں ایک اُن کے فن پر ہے ، دوسری ایک محبوب بیوی کے تاثرات ہیں، تیسری ایک بیٹی کے جذبات اور چوتھی تحریر ان کی ایک نظم ہے۔
کیفی اعظمی کی شاعری کو آسانی کے لئے تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ دور جو ’بے خطرکود پڑا آتشِ نمرود میں عشق‘ کا دور ہے جس میں کیفی سرتاپا محبوب کی چشم و لب کے شکار اور زلف گرہ گیر کے اسیر نظر آتے ہیں۔ ان کی اس دور کی شاعری دردست ِ عشق اف نہ ام کی شاعری ہے۔ یہاں پر ان کی ایک نظم کے اشعار پیش ہیں:
یہ جسم نازک، یہ نرم بانہیں، حسین گردن، سڈول باز
شگفتہ چہرہ، سلونی رنگت، گھنیراجوڑا، سیاہ گیسو
نشیلی آنکھیں، رسیلی چتون، دراز پلکیں، مہین ابرو
تمام شوخی، تمام بجلی، تمام مستی، تمام جادو
ہزار جادو جگا رہی ہو
یہ خواب کیسا دکھا رہی ہو
کیفی کی عشقیہ شاعری میں نغمگی اور روانی کے ساتھ ایک وقار ہے۔ میں نے کسی جگہ لکھا تھا کہ کیفی کی شاعری میں تصویریں زیادہ ہیں اور الفاظ کم۔ اس لئے کہ ان کے بیشتر الفاظ موقع کی ایک سے زائد تصویریں بناتے ہیں۔ کیفی عام طور پر مشکل الفاظ اور تراکیب سے گریز کرتے ہیں ۔ ان کی شاعری میں ابہام و ایہام کی گنجائش نہیں ہے لیکن استعاروں کی زبان انہیں خوب آتی ہے۔ ان کی بیشتر نظمیں خوبصورت استعاروں سے آراستہ ملیں گی اس کے باوجود انہیں جو کہنا ہوتا ہے وہ صاف صاف الفاظ میں کہتے ہیں۔ ان کے یہاں کوئی لاگ لپیٹ نہیں ہے۔ ایسی شاعری براہ راست اور بیانیہ ضرور ہوتی ہے لیکن بیانیہ شاعری کا اپنا ایک لطف ہے۔
یہ بھی پڑھئے: باقی سب خیریت ہے
کیفیؔ کی شاعری کا دوسرا دور سماجی نابرابری کے خلاف غم و غصہ کا دور ہے اور عام طور پر ان کے اسی دور کی شاعری کو سامنے رکھ کر ان کے بارے میں خطابت اور وقتی موضوعات کی شاعری کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔
ہر زمانہ شاعری اور ادب کیلئے اپنے موضوع لے کر آتا ہے اور زمانہ ہی اظہار کی ہئیتوں کا تعین کرتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ شاعر کی عظمت کا تعین اُس کی قصیدہ گوئی کی مہارت اور قدرت ِ زبان کی بنا پر کیا جاتا تھا لیکن آج قصیدہ گوئی کی وہ اہمیت بھی نہیں جو پچاس سال پہلے تھی۔ اب نہ دربار رہے نہ درباری شاعر اور نہ ملک الشعراء کے خطاب، اس کے باوجود قصائد کی علمی و ادبی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
اسی طرح آزادی کی جنگ کے زمانے میں جس طرح کی نظمیں کہی گئیں ان کی آج ضرورت نہیں، لیکن ان نظموں نے اپنے عہد میں جو کام انجام دیا اور جس طرح عوام میں بیداری کی لہر پیدا کی اس کی ایک تاریخی اہمیت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان میں بہت سی نظمیں ادبی اہمیت کی حامل نہ ہوں لیکن اس زمانہ کی بیشتر نظمیں آج بھی دلوں میں گرمی، جوش اور سرفروشی کی تمنا پیدا کرتی ہیں۔ کیفی کی اس دور کی نظموں میں اکثر نظمیں آج بھی ہمارے لئے اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کی سیاسی یا وقتی موضوعات کی شاعری کے بہت سے حصے آج کے حالات میں اپنی ایک نئی معنویت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: الفاظ کی اپنی انوکھی دُنیا ہے اور ان کی آپ بیتی میں حیرت انگیز موڑ ہیں
کیفی کی شاعری کے تیسرے دور کو ہم انسانی دردمندی کی شاعری کا دور کہہ سکتے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کی تقسیم اور کمیونسٹ حکومتو ں کے زوال سے کیفی کو شدید کرب سے گزرنا پڑا لیکن جس طرح بڑی مایوسی یا ناکامی فنکار کے فن کو معراجِ کمال پر پہنچا دیتی ہے اسی طرح اس زخم نے کیفی کی شاعری میں ایک نیا رنگ و آہنگ پیدا کردیا۔ یہاں ان کے چند اشعار پیش کررہا ہوں جن سے ان کے کرب اور شکستگی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے:
اک یہی سوزِ نہاں کل مرا سرمایہ ہے
دوستو! میں کسے یہ سوز نہاں نذر کروں
کوئی قاتل سرِ مقتل نظر آتا ہی نہیں
کس کو دل نذر کر ں اور کسے جاں نذر کروں
اپنی لاش آپ اٹھانا کوئی آسان نہیں
دست و بازو مرے ناکارہ ہوئے جاتے ہیں
راہ میں ٹوٹ گئے پاؤں تو معلوم ہوا
جز مرے اور مرا راہنما کوئی نہیں
اس سانحے کے بعد کیفی نے خود اپنا راستہ منتخب کرلیا جو دردمندی، غریب نوازی اور انسان دوستی کار استہ تھا۔ اس جگہ سے ان کی شاعری میں ایک ٹھہراؤ آیا۔ ٹھہراؤ سے میری مراد لغوی معنوں میں ٹھہر جانا یعنی جمود نہیں۔ وہ ایک باغی شاعر تھے اور ہمیشہ باغی شاعر رہے۔
یہ بھی پڑھئے: آئینوں کے اُس پار
دو نگاہوں کے تصادم نے گھر والوں میں ایک ہنگامہ خیز تصادم پیدا کردیا
شوکت کیفی کے مضمون ’’ہمسفر‘‘ سے اقتباس
مشاعرہ شروع ہونے سے پہلے ہی ہال کھچاکھچ بھر گیا تھا۔ سامنے صوفے پر ایک دبلی پتلی سی لڑکی اپنے بڑے بھائی خورشید علی خان اور بہنوئی اختر حسین کے ساتھ سحرزدہ سی بیٹھی اس نوجوان کی گرجدار آواز سن کر حیران ہورہی تھی۔
اس زمانے میں نظام سرکار کا راج تھا، کسی کی ہمت نہیں تھی کہ نظام کو اعلیٰ حضرت کے علاوہ کسی اور لقب سے مخاطب کرسکے۔ یہ نوجوان گرج گرج کر نظام کے خلاف ’’تاج‘‘ نظم سنا رہا تھا:’’یہ وہ کشکول گدائی ہے جو بھرتا ہی نہیں۔‘‘
نظم ختم ہوئی تو بھائی جان نے اپنی چھوٹی بہن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ’’اتنی سی عمر میں یہ ہمت!‘‘ مشاعرہ ختم ہوا تو کیفیؔ کو لڑکیوں نے گھیر لیا آٹوگراف کے لئے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کیفیؔ کی اس وقت کی پوزیشن کسی ہیرو سے کم نہیں تھی اور جب یہ دبلی پتلی لڑکی اپنی آٹوگراف بک لے کر کیفیؔ کے پاس پہنچی تو انہوں نے شرارت سے ایک بہت ہی مہمل شعر اس پر لکھ دیا۔ اس لڑکی کی خودداری کو بہت ٹھیس پہنچی اور جب وہ گھر پہنچی تو سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس لڑکی نے شکایت کی: ’’آپ نے ہماری آٹوگراف بک پر اتنا برا شعر کیوں لکھا؟‘‘کیفیؔ مسکرائے اور اسی لہجے میں بولے: ’’آپ نے سب سے پہلے ہم سے آٹوگراف کیوں نہیں لیا؟‘‘ (کیونکہ اس لڑکی نے پہلے، سردار جعفری اور پھر مجروح سلطانپوری سے آٹوگراف لیا تھا)۔ دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ آنکھوں نے آنکھوں سے کچھ کہا کیفیؔ کی نظم ’’تصادم‘‘ کی طرح جس کا پہلا شعر ہے:
دو نگاہوں کا اچانک وہ تصادم مت پوچھ=ٹھیس لگتے ہی اڑا عشق شرارہ بن کر
اور ان دو نگاہوں کے تصادم نے گھر والوں میں ایک ہنگامہ خیز تصادم پیدا کردیا۔ مخالفت، جھگڑے، رونادھونا۔ ماں کہتیں:
’’ہول ٹائمر ہے، پینتالیس روپے تنخواہ پاتا ہے ، بیوی کو کہاں سے کھلائے گا؟‘‘
بڑی بہن کہتیں ’’ایک پیر جیل میں ایک پیر باہر، بیوی کو کہاں رکھے گا؟‘‘
اور آخرکار سچی محبت کی فتح ہوئی۔ لڑکی کے ابا جو بہت ہی معقول ذہن کے آدمی تھے، یہ کہہ کر ممبئی لے آئے کہ ’’زندگی اس کو گزارنی ہے ہم کو نہیں۔‘‘ انہوں نے گھر والوں کو پتہ بھی نہیں چلنے دیا۔ کیفیؔ کے مرجھائے دل میں جان پڑ گئی۔ سجادظہیر اور رضیہ آپا نے مجبور کرکے اپنے گھر بلا لیا اور تمام ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں کی موجودگی میں اس لڑکی کا نکاح کیفی سے پڑھوادیا۔ چاروں طرف سے ’’مبارک! مبارک!‘‘ کی آوازیں آنے لگیں اور نہایت دلچسپ مشاعرہ شروع ہوگیا۔ جوشؔ ملیح آبادی، اسرار الحق مجازؔ، علی سردارجعفریؔ، ساحرؔ لدھیانوی، سکندر علی وجدؔ… سب نے اپنی اپنی خوبصورت نظمیں اور غزلیں سنائیں اور شادی کی محفل کامیاب ہوئی۔ اس زمانے میں کیفی ؔ کی نظموں کا مجموعہ ’’آخرشب ‘‘ چھپ رہا تھا۔ سردارجعفری نے شادی کے تحفہ کے طور پر ایک کاپی بہت خوبصورت جلد میں جلدی سے چھپوا کر لڑکی کو پیش کی۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں فلموں سے پہلے تھیٹر کی دُنیا میں آغا حشر کا طوطی بول رہا تھا
میں نےاپنے ابا کو ’’ابا‘‘ تسلیم کرلیا، کرتے پاجامے کے ساتھ! شبانہ اعظمی کے مضمون ’’میرے ابا‘‘ سے اقتباس
یہ بات میں نے اپنے بچپن میں ہی محسوس کرلی تھی کہ میرے ابا دوسرے ’’ڈیڈیوں‘‘ سے بالکل الگ قسم کے انسان ہیں۔ وہ ان کی طرح صبح اٹھ کر ’’دفتر‘‘ نہیں جاتے اور نہ ہی دوسرے بچوں کے معزز ’’پاپاؤں‘‘ کی طرح قمیص اور پتلون پہنتے ہیں اور نہ ہی ان کی طرح انگریزی بولتے ہیں۔ اپنی کلاس کے دوسرے بچوں کی طرح میں اپنے ابا کو ڈیڈی کہہ کر مخاطب نہیں کرتی اور یہ لفظ ’’ابا‘‘ کانوں میں کچھ عجیب سا، کافی کھردرا کھردرا سا لگتا تھا۔ ان تمام باتوں کی وجہ سے میں اپنی چوتھی اور پانچویں کلاس کی سہیلیوں میں اپنے آپ کو دل ہی دل میں کچھ ’’ذات باہر‘‘ محسوس کرتی تھی۔ میں نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ بہت جلد ہی سیکھ لیا کہ اپنی ہم جماعت لڑکیوں سے بات چیت کرتے وقت ’’ابا‘‘ کا ذکر کرنا ہی گول کردوں۔ اگر کوئی پوچھتا کہ ’’ابا‘‘ کیا کرتےہیں تو میرا گول مول جواب ہوتا تھا ’’بزنس۔‘‘ یہ تو میں تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ میں اس بات کا اعتراف کروں کہ میرے ابا ’’شاعر‘‘ ہیں ، یعنی دوسرے لفظوں میں کہوں کہ وہ ایک بے کار قسم کے انسان ہیں اور کوئی کام وام نہیں کرتے۔ لیکن پھر ایک دن ایک معجزہ ہوا۔
میری ایک ہم جماعت لڑکی نے کہا کہ اس کے ’’ڈیڈی‘‘ نے میرے ڈیڈی کا نام اخبار میں پڑھا ہے۔ اخبار والوں نے میرے ڈیڈی کی ایک نظم کی بہت تعریف کی ہے۔ اس انکشاف نے مجھے فوراً اپنے ابا کا قائل کردیا اور میں نے فوراً اپنے ابا کو ’’ابا‘‘ تسلیم کرلیا، وہ بھی کرتے پاجامے کے ساتھ!
ہے کوئی اور بچہ میری کلاس میں جس کے ڈیڈی کا نام اخبار میں چھپا ہو؟