Updated: May 19, 2026, 10:27 PM IST
| Mumbai
مدثر عزیز نے ایک تازہ انٹرویو میں شاہ رخ خان اور اکشے کمار کے ساتھ کام کرنے کے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں سپر اسٹارز کو باقی اداکاروں سے کیا چیز مختلف بناتی ہے۔ مدثر نے کہا کہ شاہ رخ خان میں ’’خداداد کرشمہ‘‘ موجود ہے، جبکہ اکشے کمار کامیڈی کی باریکیوں پر غیرمعمولی محنت کرتے ہیں۔
فلمساز مدثر عزیز نے حالیہ گفتگو میں موجودہ ہندی سنیما، کامیڈی فلموں کے بدلتے رجحانات، اور شاہ رخ خان اور اکشے کمار جیسے سپر اسٹارز کے ساتھ اپنے تجربات پر کھل کر بات کی۔ مینز ایکس پی کے ساتھ انٹرویو میں ’’پتی پتنی اور وہ دو‘‘کے بعد کامیڈی صنف میں اپنی شناخت مزید مضبوط بنانے والے مدثر عزیز نے کہا کہ انہیں اب یقین ہو چکا ہے کہ موجودہ دور میں ایک نہیں بلکہ ’’دو الگ ناظرین‘‘ موجود ہیں؛ ایک تھیٹر کے لیے اور دوسرا او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے لیے۔ انہوں نے اپنی فلم ’’کھیل کھیل میں‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فلم باکس آفس پر بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکی، لیکن او ٹی ٹی پر اسے غیرمعمولی پذیرائی ملی۔ مدثر کے مطابق یہی ان کی سب سے بڑا سبق تھا۔
یہ بھی پڑھئے : امتیاز علی کی ’’مَیں واپس آؤں گا‘‘کا ٹریلر جاری، محبت اور ہجرت کی کہانی
انہوں نے کہا کہ ’’میں نے سیکھا کہ آج ایک فلم دو مرحلوں میں ہٹ ہو سکتی ہے۔ ’’کھیل کھیل میں‘‘ مجھے بہت عزیز ہے کیونکہ یہ صرف ایک ریمیک نہیں تھی بلکہ ہندوستانی معاشرے کے ان مسائل پر بات کرتی تھی جنہیں اکثر گھروں میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ شاہ رخ خان اور اکشے کمار کو کون سی چیز سپر اسٹار بناتی ہے تو مدثر نے دونوں کے بارے میں مختلف لیکن انتہائی دلچسپ مشاہدات شیئر کیے۔
شاہ رخ خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بہت کم عمر تھے جب انہیں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، اس لیے وہ زیادہ تجزیہ کرنے کے بجائے صرف حیرت اور سیکھنے کے مرحلے میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’شاہ رخ خان میں ایک خداداد کرشمہ ہے۔ اس پر بات کرنا بھی فضول لگتا ہے کیونکہ پوری قوم پہلے ہی جانتی ہے کہ وہ کیا ہیں۔ وہ اس پیشے کے لیے جیسے خدا کی طرف سے بھیجے گئے انسان ہیں۔ شاہ رخ خان صرف شاہ رخ خان ہی ہو سکتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : سرخیوں میں رہنے کے لیے اداکارکچھ بھی کر رہے ہیں ، کام سے پہچان بنائیں: میناکشی
دوسری جانب اکشے کمار کے بارے میں مدثر عزیز نے کہا کہ بطور ہدایتکار ان کا سب سے زیادہ ’’تسلی بخش اور بھرپور‘‘ تجربہ اکشے کے ساتھ رہا کیونکہ دونوں کامیڈی صنف کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ شوٹنگ کے دوران اکثر ایسا ہوتا تھا کہ پروڈیوسرز اور دیگر اداکار انہیں اور اکشے کو الگ بیٹھے انتہائی سنجیدہ گفتگو کرتے دیکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ شاید کوئی مسئلہ چل رہا ہے، لیکن حقیقت میں وہ صرف کسی مزاحیہ لائن کو مزید مؤثر بنانے پر بحث کر رہے ہوتے تھے۔ مدثر نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’’ہم اس ایک مسکراہٹ کے لیے ہزار طریقوں سے ہر لفظ، ہر لائن اور ہر لمحے کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے تھے۔‘‘
فلمساز نے موجودہ کامیڈی سنیما پر بھی بات کی اور کہا کہ ان کے خیال میں آیوشمان کھرانہ، کارتک آرین اور اکشے کمار وہ ’’تثلیث‘‘ ہیں جو اس صنف کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ کئی بڑے اداکار اب صرف مخصوص قسم کے ’’سیریس‘‘ اسکرپٹس کی طرف جا رہے ہیں جبکہ کامیڈی آہستہ آہستہ محدود ہو رہی ہے۔ مدثر عزیز نے یہ بھی عندیہ دیا کہ مستقبل میں وہ دوبارہ اکشے کمار کے ساتھ ضرور کام کرنا چاہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اکشے آج بھی انہیں اچانک فون کر کے کھیل کھیل میں کی تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہ کبھی کبھی فون کر کے کہتے ہیں، بیٹا، اپنی فلم دیکھ رہا ہوں… کیا فلم بنائی ہے تم نے۔ یہ لمحے میرے لیے بہت خاص ہیں۔‘‘