ہندستانی سنیماکی دنیا میں سی رام چندر کو ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کے طور پر یاد کیاجاتاہےجنہوں نے نہ صرف موسیقی کی دھنوں کے ذریعے بلکہ گائیکی، فلم سازی، ہدایت کاری اور اداکاری کے ذریعے بھی شائقین سنیما کو اپنا گرویدہ بنائے رکھا۔
سی رام چندر ہمہ جہت صلاحیتوں کے حامل تھے۔ تصویر: آئی این این
ہندستانی سنیماکی دنیا میں سی رام چندر کو ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کے طور پر یاد کیاجاتاہےجنہوں نے نہ صرف موسیقی کی دھنوں کے ذریعے بلکہ گائیکی، فلم سازی، ہدایت کاری اور اداکاری کے ذریعے بھی شائقین سنیما کو اپنا گرویدہ بنائے رکھا۔ فلمی دنیا میں’اناّ صاحب‘کے نام سے مشہور سی رام چندر کے لیے فلموں سے وابستہ شایدہی کوئی شعبہ ایسا ہو جسے انہوں نے نہ آزمایا ہو۔ ۱۲؍ جنوری۱۹۱۸ء کومہاراشٹرکےضلع احمد نگر کے ایک چھوٹے سے گاؤں پُنتبا میں پیدا ہونے والے سی رام چندر کا رجحان بچپن ہی سے موسیقی کی جانب تھا۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم گندھرو مہاودیالیہ کے استاد وینائیک بووا پٹوردھن سے حاصل کی۔
سی رام چندر نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز بطور اداکار یوبی راؤ کی فلم ’ناگانند‘سےکیا۔ اسی دوران انہیں منروہ مووی ٹون کے زیرِ اہتمام بننے والی چند فلموں میں اداکاری کا موقع ملا، جہاں ان کی ملاقات عظیم فلم ساز و ہدایت کار سہراب مودی سے ہوئی۔ سہراب مودی نےسی رام چندر کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اداکاری کے بجائے موسیقی پر توجہ دیں تو فلم انڈسٹری میں زیادہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔اس کے بعد سی رام چندرمنروہ مووی ٹون کے موسیقار بندو خان اور حبیب خان کے گروپ میں شامل ہو گئے اور بطور ہارمونیم نواز کام کرنےلگے۔بطور موسیقار انہیں سب سے پہلے ایک تمل فلم میں کام کرنے کا موقع ملا۔
۱۹۴۲ءمیںریلیز ہونے والی فلم ’سکھی جیون‘ کی کامیابی کے بعد سی رام چندر کسی حد تک بطور موسیقارفلمی دنیا میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔۴۰ءکی دہائی میں انہوں نے جن فلموں کو بطورموسیقار اپنی دھنوں سے سجایا، ان میں ساون، شہنائی، پتنگا، سمادھی اور سرگم خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
۱۹۵۱ءمیںسی رام چندر کو بھگوان دادا کی تیار کردہ فلم ’البیلا‘میں موسیقی ترتیب دینے کا موقع ملا۔ فلم البیلا کے نغموںکی زبردست کامیابی کے بعد سی رام چندر بطورموسیقار فلمی دنیا میں مضبوط شناخت قائم کرنے میںکامیاب ہو گئے۔ اگرچہ اس فلم کے تمام گیت سپر ہٹ ثابت ہوئے، تاہم خاص طور پر’شعلہ جو بھڑکے دل میرا دھڑکے‘، ’بھولی صورت دل کے کھوٹے،نام بڑے اور درشن چھوٹے‘، اور’میرے پیاگئےرنگون، کیا ہے وہاں سے ٹیلی فون‘نے پورے ہندستان میں دھوم مچا دی۔ ۱۹۵۳ءمیں پردیپ کمار اور بینا رائے کی اداکاری سے سجی فلم ’انارکلی‘کی زبردست کامیابی کے بعدسی رام چندر شہرت کی بلندیوں پرجا پہنچے۔ فلم انارکلی میں ان کی موسیقی سے مزین گیت ’’جاگ دردِ عشق جاگ‘‘ اور’’یہ زندگی اسی کی ہے‘‘آج بھی سامعین میں بے حد مقبول ہیں۔
اسی سال ۱۹۵۳ءمیں سی رام چندر نے فلم سازی کےشعبے میں بھی قدم رکھا اور’نیو سائیں پروڈکشن‘ کے نام سے پروڈکشن ہاؤس قائم کیا، جس کے تحت جھن جھار، لہریں اور دنیاگول ہے جیسی فلمیں بنائیں۔ تاہم بدقسمتی سے یہ فلمیں باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکیں، جس کے باعث انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے بعد انہوں نے فلم سازی ترک کر کے مکمل طور پر موسیقی پر توجہ مرکوز کر دی۔۴؍دہائیوںپرمحیط اپنے فلمی کریئرمیں سی رام چندرنےتقریباً ۱۵۰؍فلموں کو موسیقی سے سجایا۔ انہوں نےہندی کے علاوہ تمل، مراٹھی،تیلگو اور بھوجپوری فلموںکیلئےبھی موسیقی ترتیب دی۔ اپنی دھنوںسےشائقین کےدلوں میں خاص مقام بنانے والے موسیقار سی رام چندر۵؍جنوری ۱۹۸۲ءکو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔