ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں کچھ خاندان ایسے ہیں جنہوں نے کئی نسلوں تک فلمی دنیا پر اپنی گرفت قائم رکھی۔ ہندی سنیما میں کپور خاندان کاجو مقام ہے، جنوبی ہند خصوصاً تیلگو سنیما میں اکینینی خاندان بھی اسی طرح ایک معتبر اور باوقار نام ہے۔
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 11:56 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai
ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں کچھ خاندان ایسے ہیں جنہوں نے کئی نسلوں تک فلمی دنیا پر اپنی گرفت قائم رکھی۔ ہندی سنیما میں کپور خاندان کاجو مقام ہے، جنوبی ہند خصوصاً تیلگو سنیما میں اکینینی خاندان بھی اسی طرح ایک معتبر اور باوقار نام ہے۔
ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں کچھ خاندان ایسے ہیں جنہوں نے کئی نسلوں تک فلمی دنیا پر اپنی گرفت قائم رکھی۔ ہندی سنیما میں کپور خاندان کاجو مقام ہے، جنوبی ہند خصوصاً تیلگو سنیما میں اکینینی خاندان بھی اسی طرح ایک معتبر اور باوقار نام ہے۔ اس خاندان کی بنیاد رکھنے والوں میں اکینینی ناگیشور راؤ کا نام سب سے نمایاں ہے، جنہوںنےکئی دہائیوں تک تیلگو فلموں پر راج کیا۔ لیکن ان کی اگلی نسل میں ایک ایسا فن کار بھی سامنے آیا جس نے صرف اپنے والد کی وراثت کو آگے نہیں بڑھایا بلکہ اپنی الگ شناخت قائم کی۔ یہ اداکار ناگ ارجن اکینینی ہے۔ ۲۹؍اگست ۱۹۵۹ءکومدراس، موجودہ چنئی میں پیدا ہونے والے ناگ ارجن نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھیں کھولیں جہاں سنیمازندگی کا حصہ تھا۔ ان کے والد اکینینی ناگیشورراؤ تیلگو فلم انڈسٹری کے لیجنڈ اداکار تھے۔
یہ بھی پڑھئے: یش کی فلم ’’ٹاکسک‘‘ کی BookMyShow ریٹنگ غائب، ناظرین میں تشویش اور غصہ
ناگیشورا راؤ نے تقریباً۸؍دہائیوں تک سنیماسے وابستہ رہ کر اداکاری کی اور ۱۹۷۶ء میںاناپورنا اسٹوڈیوز کےقیام میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ آج یہ ادارہ حیدرآباد میں ایک بڑے فلم پروڈکشن اور پوسٹ پروڈکشن مرکز کے طور پر قائم ہے اور اس کی باگ ڈور سنبھالنے والوں میں ناگ ارجن کا کردار بھی انتہائی اہم رہا ہے۔بچپن میں ہی انہوں نے کیمرے کا سامنا کیا۔ فلم’سودی گندالو‘میں بطورچائلڈ آرٹسٹ نظر آنے کے بعد ان کا باقاعدہ ہیرو کے طورپرسفر ۱۹۸۰ءکی دہائی میں شروع ہوا۔ ان کی ابتدائی فلموں میں ’وکرم‘نےانہیں شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ رفتہ رفتہ ان کا شمار تیلگو سنیما کے مقبول نوجوان اداکاروں میں ہونے لگا۔لیکن ناگ ارجن کی اصل پہچان اس وقت بنی جب انہوں نے روایتی ہیرو کی حدود سے باہر نکل کر مختلف انداز کی فلمیں قبول کرنا شروع کیں۔۱۹۸۹ءان کے کریئرکےلیے غیر معمولی سال ثابت ہوا۔ اسی سال منی رتنم کی ہدایت کاری میں بننے والی رومانوی فلم ’گیتانجلی‘ریلیزہوئی۔ فلم میں ناگ ارجن اور گریجا کی جوڑی کو بے حدپسندکیا گیا۔ فلم نے ناظرین کے جذبات کو چھوا اور بہترین مقبول فلم برائے صحت مند تفریح کا نیشنل فلم ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ اسی سال رام گوپال ورما کی ہدایت کاری میں’شیوا‘سامنےآئی، جس نے انہیں ایک بالکل مختلف انداز میں پیش کیا۔ فلم کے ایکشن، نوجوانوں کے غصے اور شہری زندگی کے ماحول نے اسے یادگار بنا دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ بگ باس ۲۰‘‘ میں بڑا اپ ڈیٹ، سلمان خان نے انکشاف کیا
’شیوا‘کی کامیابی نے ناگ ارجن کو صرف تیلگو سنیما کا اسٹار نہیں بنایابلکہ انہیں ہندی فلمی دنیا میں بھی لے آئی۔ ۱۹۹۰ءمیں اسی فلم کا ہندی ورژن ’شیوا‘ریلیز ہوا۔ اس طرح ناگرجنا نے بالی ووڈ میں بھی اپنی جگہ بنانےکی کوشش کی۔ اگرچہ ان کا بنیادی میدان ہمیشہ تیلگو سنیما ہی رہا، لیکن ہندی فلموں میں بھی انہوں نے ’خدا گواہ‘، ’کریمنل‘، ’انگارے‘ اور بعد کے برسوں میں’ایل او سی کارگل‘جیسی فلموں کے ذریعے اپنی موجودگی درج کرائی۔
ناگ ارجن کےکریئرمیں ایوارڈز کی کمی بھی نہیں رہی۔ انہیں ریاستی سطح پرمتعدد نندی ایوارڈز، فلم فیئر ایوارڈز ساؤتھ اور نیشنل فلم ایوارڈحاصل ہوئے ہیں۔ ان کی سب سے نمایاں کامیابیوں میں پروڈیوسر کی حیثیت سے نیشنل فلم ایوارڈ اور ’انامیا‘میں اداکاری کے لیےنیشنل فلم ایوارڈ کا اسپیشل مینشن شامل ہے۔