Inquilab Logo Happiest Places to Work

آن لائن کوچنگ کے فیصلے پر کانگریس نے سوال قائم کئے

Updated: August 29, 2026, 1:09 PM IST | Farzan Qureshi | New Delhi

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نےمودی حکومت کے فیصلے کو نوٹنکی قراردیا اور کہا کہ ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹرز پر حکومت ہند کے ذریعہ تعلیم میں کئے جانے والے خرچ سے ڈھائی گنا زیادہ خرچ کررہے ہیں۔

Jairam Ramesh has criticized the government`s latest move, citing statistics. Picture: INN
جے رام رمیش نے اعدادوشمار کے ساتھ حکومت کےتازہ اقدام پر تنقید کی ہے۔ تصویر: آئی این این

کانگریس نے ملک میں تعلیمی نظام اور کوچنگ سینٹر کے حکومت کے مقابلہ عوامی خرچ پر سوال اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم کے فیصلہ کو نوٹنکی قرار دیاہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش کہاکہ ملک میں تباہ شدہ تعلیمی نظام کو ٹھیک کرنے اور تعلیمی میں خرچ بڑھانے کے بجائے وزیر اعظم مودی نے آن لائن کوچنگ میں سرکاری وسائل کا خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو جواب دہی سے بچنے کی نوٹنکی ہے۔انھوںنے حکومت کے ذریعہ تعلیم پر کئے جارہے بجٹ پر بھی انگشت نمائی کی۔

یہ بھی پڑھئے: کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی کیلئے قطرکےوزیر اعظم تہران پہنچے

ان کا کہنا ہے کہ یہ چونکانے والے حقائق سماجی انصاف اور پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کی تازہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیںجسے ۱۰ ؍اگست ۲۰۲۶ ءکو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔ جے رام رمیش نے تعلیمی نظام اور کوچنگ کے معاملہ پر حکومت پر الزام عائد کیاہے ،ان کا کہنا ہے کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ۱۷ جون ۲۰۲۶ء کوکوٹہ میں منعقدہ چھاتروں کی گونج پروگرام میں آج تعلیم کے میدان کے سب سے اہم ایشو میں سے ایک اٹھایا تھا ،کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے پبلک ایجوکیشن سسٹم کی جگہ لے لی ہے اور آج ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹرز پر حکومت ہند کے ذریعہ تعلیم میں کئے جانے والے خرچ سے ڈھائی گنا زیادہ خرچ کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کی خاتون کرکٹ ٹیم ایشیا کپ کیلئے تیار

انہوں نے کہاکہ اسی انکشاف نے وزیر اعظم کو بڑھتے پبلک پریشر سے بچنے کی کوشش میں ۱۵ اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کرنے پر مجبور کردیا۔ لیکن ان کی حکومت کا ٹریک ریکارڈ شاید ہی کوئی اعتماد پیدا کرتا ہے ،اس کی موجودہ فری کوچنگ اسکیم گزشتہ تین سالوں سے لگاتار اپنے ہدف سے پیچھے چل رہی ہے وزارت برائے سماجی انصاف کو تین سالوں میں ۱۰۵۰۰ ؍ امیدواروں کو فری کوچنگ کے لیے انرو ل کرنا تھا لیکن اب تک صرف ۲۷۹۰ ؍طلبہ کو ہی انرول کیا گیا ،جو ہدف کا محض ۲۶ فیصد ہے ،اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال ا س پر کیا گیا خرچ متعینہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ چونکانے والے حقائق سماجی انصاف اور پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کی تازہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیںجسے ۱۰ ؍اگست ۲۰۲۶ ءکو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔ ہندوستان میں ٹوٹے ہوئے ایجوکیشن سسٹم کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے یا پبلک ایجوکیشن میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے وزیر اعظم نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے ، یہ جواب دہی سے بچنے کا بہانہ ہے اور یہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی کے ساتھ لاگوکرنے کی اس کی اہلیت بے حد کم ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK