بالی ووڈ کے معروف اداکار نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے اداکارہ تنوشری دتہ کے حالیہ بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے والد سے متعلق معاملہ قانونی طور پر ختم ہوچکا ہے اور اسے بار بار اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: October 18, 2026, 5:05 PM IST | Mumbai
بالی ووڈ کے معروف اداکار نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے اداکارہ تنوشری دتہ کے حالیہ بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے والد سے متعلق معاملہ قانونی طور پر ختم ہوچکا ہے اور اسے بار بار اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
بالی ووڈ کے معروف اداکار نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے اداکارہ تنوشری دتہ کے حالیہ بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے والد سے متعلق معاملہ قانونی طور پر ختم ہوچکا ہے اور اسے بار بار اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ملہار نے یہ بات اپنے والد کی موت کے بعد دوبارہ شروع ہونے والی بحث کے تناظر میں کہی۔ انہوں نے اداکارہ کا نام لیے بغیر کہا کہ متعلقہ معاملہ پہلے ہی ختم ہوچکا ہے اور عدالتی نظام نے اس بارے میں اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ ملہار کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب تنوشری دتہ نے نانا پاٹیکر کی موت کے بعد ان پر ماضی میں لگائے گئے الزامات اور ان واقعات کے اپنی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں دوبارہ بات کی تھی۔
ملہار پاٹیکر نے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کا نام نہیں لینا چاہتے، لیکن جس معاملے کو غیر ضروری طور پر دوبارہ زیر بحث لایا جارہا ہے، وہ پہلے ہی ختم ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق، عدلیہ نے ان کے والد کو الزامات سے بری کردیا تھا اور معاملہ ختم ہونے کے باوجود اس پر گفتگو جاری ہے۔ ملہار نے مزید کہا کہ وہ ایسے لوگوں کو کچھ نہیں کہنا چاہتے اور ان کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔ان کے بیان کو نانا پاٹیکر کے خاندان کی جانب سے اس تنازع پر اہم ردعمل قرار دیا جارہا ہے، تاہم ملہار نے تنوشری دتہ کا نام لے کر ان سے براہ راست بحث کرنے سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھئے:لندن: دھرو راٹھی کا ’ووٹ چوری‘ کے خلاف احتجاج، بندر کے کھلونے سے مودی پر طنز
تنوشری دتہ نے ۲۰۱۸ءمیں الزام عائد کیا تھا کہ ۲۰۰۹ء کی فلم ’’ہارن اوکے پلیز‘‘ کی شوٹنگ کے دوران نانا پاٹیکر نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا اور انہیں دھمکانے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔ ان الزامات نے ہندوستان میں چلنے والی ’می ٹو‘ تحریک کے دوران خاصی توجہ حاصل کی تھی۔ نانا پاٹیکر نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ اس معاملے میں ۲۰۱۸ء میں نانا پاٹیکر کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ بعد ازاں۲۰۱۹ء میں ممبئی پولیس نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر معاملے کی تحقیقات بند کرنے کی رپورٹ پیش کی۔ اس لیے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ پولیس کی جانب سے ناکافی شواہد کی بنا پر معاملہ بند کرنے کی رپورٹ پیش کرنا اور عدالت کی جانب سے باقاعدہ بری کیے جانے کا فیصلہ دو الگ قانونی صورتیں ہیں۔
نانا پاٹیکر کی ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو گوا میں ۷۵؍ سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی تھی۔ ان کی موت کے بعد تنوشری دتہ نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا اور ماضی کے واقعات کے اپنی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بات کی۔ ان کے بعض بیانات، خصوصاً نانا پاٹیکر کے لیے استعمال کیے گئے سخت الفاظ، سوشل میڈیا پر تنقید اور بحث کا موضوع بن گئے۔ تنوشری نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ می ٹو تحریک کے بعد انہیں دھمکیوں اور ہراسانی جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ۲۰۲۴ء میں اپنی گاڑی کے بریک سے چھیڑ چھاڑ کیے جانے کا الزام بھی لگایا۔ یہ ان کے ذاتی دعوے ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق کے لیے دستیاب رپورٹوں میں کافی معلومات موجود نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’دوران جدوجہد طبی شعبے کا تجربہ میرے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ‘‘
ملہار پاٹیکر نے اپنے والد کے فلمی سفر اور آخری برسوں میں ان کی ترجیحات کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کے مطابق، نانا پاٹیکر گزشتہ تقریباً ۱۵؍ برسوں کے دوران فلموں کے انتخاب میں زیادہ محتاط ہوگئے تھے، کیونکہ وہ بار بار ایک جیسے کردار ادا کرنے کے بجائے نئی کہانیوں اور مختلف نوعیت کے کرداروں پر کام کرنا چاہتے تھے۔ ملہار نے بتایا کہ ان کے والد کے لیے سماجی خدمت بھی خاص اہمیت رکھتی تھی۔ وہ کشمیر میں اسکولوں کے قیام اور کسانوں کی مدد جیسے کاموں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ملہار کے مطابق، اب ان سماجی سرگرمیوں کو آگے بڑھانا ان کی اپنی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
مجموعی طور پر، نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار کا بیان تنوشری دتہ کے ماضی کے الزامات اور حالیہ تبصروں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایک جانب ملہار قانونی کارروائی ختم ہونے کا حوالہ دے رہے ہیں، تو دوسری جانب تنوشری اپنے مبینہ تجربات اور ان کے اثرات کے بارے میں بات کرتی رہی ہیں۔ اس معاملے میں پولیس کی جانب سے ناکافی شواہد کی بنیاد پر تحقیقات بند کرنے کی رپورٹ اور دونوں فریقوں کے بیانات کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔