ہندی زبان کی مشہور کہانی کار اور ناول نگار کے یومِ پیدائش کی مناسبت سے ایک تحریر جس میں ان کی کہانیوں کے حوالے سے انہیں یاد کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 18, 2026, 4:46 PM IST | Naish Hasan | Mumbai
ہندی زبان کی مشہور کہانی کار اور ناول نگار کے یومِ پیدائش کی مناسبت سے ایک تحریر جس میں ان کی کہانیوں کے حوالے سے انہیں یاد کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز ہم سب کے لئے ایک جشن کی مانند تھا، کیونکہ یہ دن ہندی ادب کی اُس بے مثال داستان گو اور افسانہ نگار ’گورا پنت شیوانی‘ کا یومِ پیدائش تھا، جنہوں نے اپنے رنگا رنگ قلم سے کئی دہائیوں تک عام قارئین، بالخصوص خواتین کے دلوں پر حکمرانی کی۔ ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۲۳ء کو پیدا ہونے والی اور ۲۱؍ مارچ ۲۰۰۳ء کو اس فانی دنیا کو الوداع کہنے والی شیوانی جی کا اسّی برسوں پر محیط یہ سفرِ حیات اپنے آپ میں ایک مکمل تاریخ ہے۔ اس فاضل ادیبہ کی شخصیت شانتی نکیتن کی تہذیبی فضا اور گُرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور کے سائے میں پروان چڑھی، اور یہ خود ’گُرو دیو ‘ہی کی عطا کردہ دعائے خیر تھی کہ گورا پنت پوری دنیا میں شیوانی کے نام سے مقبول ہوئیں۔
ناول کی شکل میں انہوں نے ہمیں ’’کرشن کلی‘‘، ’’چودہ پھیرے‘‘، ’’بھیروی‘‘ اور ’’وش کنیا‘‘ جیسے بیش قیمت تحفے دیئے، جن کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ رسائل میں ان کی قسطیں پڑھنے کیلئے قارئین ہفتوں بے قراری سے انتظار کرتے تھے۔ جب ہم ان کے تخلیق کردہ جادوئی افسانوں کو عصری تناظر میں پرکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ نصف صدی پہلے تخلیق کیے گئے ان کے کردار آج کے دور کی عورت کی داخلی کشمکش اور اس کے خارجی سماجی محاذوں کی کتنی زندہ گواہی دیتے ہیں۔
شیوانی جی کی نظم و نثر میں جو پانی جیسی روانی اور لکھنوی نفاست تھی، وہ محض لفظوں کا جادو نہیں تھا، بلکہ عورت کے باطن میں سلگتی بغاوت کے لئے ایک مخملی مگر فولادی ڈھال بھی تھی۔ آج جب ہم ان کی چار اہم کہانیوں ’’لال حویلی‘‘، ’’سوَت‘‘، ’’الکھ مائی‘‘ اور ’’اپرادھنی‘‘ کے کرداروں کا جائزہ لیتے ہیں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ آج کی برسرکار، تعلیم یافتہ اور بے باک عورت جن محاذوں پر کھڑی ہے، ان کی بنیادی جنگ کا قصہ شیوانی جی بہت پہلے ہی اپنے صفحات پر رقم کر چکی تھیں۔
اگر ہم اپنی گفتگو کا پہلا سرا ’’لال حویلی‘‘ کی لالی کے کردار سے جوڑیں تو وہ آج کے اس ہائی ٹیک دور اور نام نہاد جدید گھرانوں کی اُس خاتون سے براہِ راست رشتہ قائم کرتا دکھائی دیتا ہے جو بڑے بڑے برانڈز، قیمتی گاڑیوں اور عالی شان رہائش گاہوں کے اسٹیٹس سمبل کے مخملی جال میں پھنسی ہوئی ہے۔ آج کی بازاریت نے شادیوں کو ایک شاہانہ تجارتی سودے میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں باہر سے سب کچھ نہایت پُر شکوہ اور پُرکشش دکھائی دیتا ہے، لیکن اس مخملی پردے کے پیچھے ایک مقدس روح، اس کی آزاد روش اور اس کی انا کا ہر روز خاموشی سے گلا گھونٹا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جیفری آرچر: ایسا داستان گو جس کی اپنی زندگی بھی کسی کہانی سے کم نہیں تھی
لالی جب اس لال حویلی کی جاگیردارانہ شان و شوکت، وہاں کے سونے چاندی کے زیورات اور جھوٹی وجاہت کو ٹھکرا کر اپنے وقار اور آزادی کا انتخاب کرتی ہے تو وہ آج کی ہر اس ملازمت پیشہ خاتون کیلئے ایک روشن مشعل بن جاتی ہے جو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے اور ذاتی خودمختاری کیلئے کسی بھی قسم کی معاشی یا سماجی سودے بازی کو مسترد کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ یہ کہانی صاف کہتی ہے کہ عورت کا وجود کسی مرد کی جاگیر یا اس کے خاندانی ٹھپے کا محتاج نہیں ہے۔
دوسری طرف، جب ہم شیوانی جی کی شہرۂ آفاق کہانی ’’سوَت‘‘ کے صفحات سے گزرتے ہیں تو ہمارا سامنا آج کے دور کی ایک نہایت پیچیدہ نفسیاتی حقیقت سے ہوتا ہے۔ آج کی عورت صرف فرسودہ روایات یا ناخواندہ معاشرہ سے نہیں لڑ رہی ہے، بلکہ جدیدیت کے اس نئے ریاکارانہ چہرے کا بھی سامنا کر رہی ہے جس میں رشتوں کا اعتبار تاش کے پتوں کی طرح بکھر رہا ہے۔
’’سوَت‘‘ کی نیرا کا اپنی ہی سہیلی راجیم کے ہاتھوں گہرے دھوکے اور ازدواجی رشتے میں بے وفائی کے بعد شدید ذہنی صدمے سے دوچار ہو جانا، آج کے دور کے ٹوٹتے خاندانوں اور گھریلو تشدد کے پوشیدہ پہلوؤں کی ایک مکمل دستاویزی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ کہانی روایتی نصیحتوں سے کوسوں دور رہ کر ثابت کرتی ہے کہ خواتین کے اندر جاری جذباتی کشمکش کتنی اہم اور روح کو چھلنی کر دینے والی ہوتی ہے۔ یہ آج کی عورت کو خبردار کرتی ہے کہ جذباتی وابستگی کی بیڑیاں کتنی خطرناک ہو سکتی ہیں اور اسے کس طرح اپنے ذہنی سکون اور خودمختاری کی حفاظت خود کرنی ہوگی۔
اس پوری بحث و مباحثے کا نقطۂ عروج اور فولادی نکتہ ہمیں ’’الکھ مائی‘‘ کے عظیم باغیانہ تیور میں دکھائی دیتا ہے۔ پہاڑوں کے دشوار گزار جغرافیے اور وہاں کے دقیانوسی سماجی سانچوں کے درمیان ابھرنے والی مائی کا کردار آج کی اس عورت کا ہو بہو عکس ہے جو اب محض مظلوم بن کر رونے یا عدالتوں کے چکر کاٹ کر اپنے وقار کو تماشا بنتے دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
جب اس معاشرے کا قانون، خاکی وردی میں ملبوس پولیس اور مذہب کے خودساختہ منصف کسی بے بس عورت کی عصمت اور حقوق کا سودا کرنے لگیں، جب وہ بند کمروں میں عورت کی روح کو نوچنے کی سازشیں رچیں، تو مائی جیسا کردار یہ سبق دیتا ہے کہ عورت کو اپنی حفاظت اور انصاف کے لیے خود بھی ایک باشعور قانون بننا پڑتا ہے۔ مائی جب مردانہ غرور اور ظلم کو براہِ راست پہاڑ کی چوٹی سے نیچے کالی گنگا میں دھکیل دیتی ہے تو وہ پورے نظام کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ رسید کرتی ہے۔ اس کا پیغام واضح ہے کہ عورت کی عصمت اس کی کمزوری نہیں ؛ اگر اس کے وجود سے کھلواڑ کیا گیا تو وہ دقیانوسی نظام کو ملبے میں تبدیل کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔
عورت کی اس ہمہ گیر جدوجہد کو ایک اور گہرے اور دلدوز مقام تک پہنچاتی ہے شیوانی جی کی ایک اور مقبول کہانی ’’اپرادھنی‘‘۔ یہ کہانی کسی عالی شان کوٹھی یا معاشرے کے اشرافیہ طبقے کی نہیں، بلکہ جیل کی ان تاریک کوٹھڑیوں اور سلاخوں کے پیچھے بند ان عورتوں کی داستان ہے جنہیں اس دقیانوسی معاشرے نے مجرم قرار دے کر حاشیے پر دھکیل دیا ہے۔ آج کے معاشرے میں جب ہم روزگار، قانون اور تھانوں کچہریوں کی حقیقتوں کا جائزہ لیتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ نظام اور معاشرے کا عدل عورتوں کے لیے کس قدر بے رحم ہے۔ شیوانی جی نے ’’اپرادھنی‘‘ کے ذریعے واضح کیا ہے کہ معاشرہ جسے جرم قرار دیتا ہے، اس کے پیچھے کسی بے بس عورت کی کتنی ہولناک اذیت، سخت جدوجہد اور مردانہ تسلط پر مبنی تشدد پوشیدہ ہوتا ہے۔
یہ کہانی آج کے دور کی ان تمام مظلوم اور دربدر خواتین کے حق میں آواز بلند کرتی ہے جنہیں اپنی عصمت اور وجود کی حفاظت کے لئے بالآخر فیصلہ اپنے ہاتھ میں لینا پڑتا ہے۔ یہاں شیوانی کی نگاہ ایک ماہر عمرانیات جیسی ہو جاتی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ جب تک ہم عورتوں کے جرائم کے پیچھے چھپے ان کے مشترکہ دکھوں اور مجبوریوں کی نفسیات کو نہیں سمجھیں گے، تب تک ہماری نسائی تحریک سے متعلق بحث و مباحثہ کھوکھلا ہی رہے گا۔ یہ کردار آج کی عورت کو فولادی حوصلہ عطا کرتے ہیں کہ معاشرہ چاہے اسے کتنا ہی خطاکار کیوں نہ ٹھہرائے، اسے اپنے وجود کی جنگ سے کبھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔
اس مقالے کا حاصل یہی ہے کہ شیوانی جی کا افسانوی ادب نصف صدی گزر جانے کے بعد بھی ذرہ برابر پرانا نہیں ہوا۔ ان کی کہانیاں آج کے نسائی مباحثے کیلئے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں، کیونکہ وہ عورت کو کسی مرد کے حوالے کے بغیر ایک آزاد انسانی اکائی کے طور پر شناخت عطا کرتی ہیں۔ شیوانی کے نسائی کردار ہمیں سکھاتے ہیں کہ روایات اور تہذیب کی زمین پر قدم جماکر بھی اپنی آزادی اور خودداری کا پرچم کس بے باکی سے بلند کیا جا سکتا ہے۔ آج کے دور میں ہم سب مل کر شیوانی جی کے اس لافانی شعور کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، کیونکہ آج کی عورت جب بھی اپنے حقوق کی جنگ لڑتی ہے تو اس کی ریڑھ کی ہڈی میں وہی فولادی مضبوطی اور کڑک دکھائی دیتی ہے جو شیوانی جی اپنی لالی، نیرا، مائی اور ’’اپرادھنی‘‘ کو عطا کر گئی تھیں۔