Updated: October 08, 2026, 9:03 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ میں کئی ایسے اداکار گزرے ہیں جنہوں نے پردۂ سیمیں پر فوجی اور سپاہی کے کردار ادا کیے، لیکن نانا پاٹیکر کی کہانی ان سب سے کچھ مختلف رہی۔ انہوں نے صرف کیمرے کے سامنے فوجی بننے کی اداکاری نہیں کی بلکہ اپنے کردار کو حقیقت کے قریب لانے کے لیے فوج کے ساتھ سخت تربیت بھی حاصل کی۔
نانا باٹیکر۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ میں کئی ایسے اداکار گزرے ہیں جنہوں نے پردۂ سیمیں پر فوجی اور سپاہی کے کردار ادا کیے، لیکن نانا پاٹیکر کی کہانی ان سب سے کچھ مختلف رہی۔ انہوں نے صرف کیمرے کے سامنے فوجی بننے کی اداکاری نہیں کی بلکہ اپنے کردار کو حقیقت کے قریب لانے کے لیے فوج کے ساتھ سخت تربیت بھی حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فوجی کرداروں میں نظم و ضبط، سختی اور سپاہیانہ انداز نمایاں طور پر نظر آتا تھا۔
۱۹۹۱ءمیں ریلیز ہونے والی فلم ’’پراہار: دی فائنل اٹیک‘‘ میں نانا پاٹیکر نے میجر پرتاپ چوہان کا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم میں ایک فوجی افسر اور کمانڈو کی زندگی کو حقیقت کے قریب دکھانے کے لیے نانا پاٹیکر نے مراٹھا لائٹ انفنٹری کے ساتھ فوجی تربیت حاصل کی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق انہوں نے تقریباً تین سال تک فوجی تربیت لی، تاکہ ان کی اداکاری محض اداکاری محسوس نہ ہو بلکہ ان کے کردار میں حقیقی فوجی کی سختی، نظم و ضبط اور رویہ بھی دکھائی دے۔
یہ بھی پڑھئے:افغانستان کے خلاف واحد ٹیسٹ میں بنگلہ دیش مضبوط دعویدار
’’پراہار‘‘ نانا پاٹیکر کے لیے صرف ایک فلم نہیں تھی بلکہ یہ ان کے فلمی سفر کا ایک اہم مرحلہ بھی تھی۔ وہ اس فلم کے ہدایت کار بھی تھے اور انہوں نے ہی میجر پرتاپ چوہان کا مرکزی کردار ادا کیا۔ فلم میں کمانڈو تربیت، فوجی نظم و ضبط، ملک سے وفاداری اور قربانی کے جذبات کو نمایاں کیا گیا تھا۔ فوج کے ساتھ نانا پاٹیکر کا تعلق صرف فلم تک محدود نہیں رہا۔ بعد میں انہوں نے ٹیریٹوریل آرمی میں بھی خدمات انجام دیں۔ تاہم ان کی فوج سے وابستگی کی سب سے نمایاں مثال ۱۹۹۹ء کی کارگل جنگ کے دوران سامنے آئی، جب انہوں نے محض دور بیٹھ کر فوجی جوانوں کا حوصلہ بڑھانے کے بجائے خود جنگی علاقے میں جانے کی خواہش ظاہر کی۔
نانا پاٹیکر نے اس مقصد کے لیے اس وقت کے وزیر دفاع جارج فرنانڈیز سے خصوصی اجازت طلب کی۔ ابتدا میں انہیں اجازت نہیں دی گئی، تاہم جب انہوں نے اپنی فوجی تربیت اور تجربے کے بارے میں بتایا تو انہیں فوجی جوانوں کے ساتھ جانے کی اجازت مل گئی۔ کارگل جنگ کے دوران نانا پاٹیکر تقریباً دو ماہ تک فوجی جوانوں کے درمیان رہے اور اطلاعات کے مطابق وہ فوری ردعمل دینے والی ٹیم کا بھی حصہ بنے۔ بعض رپورٹس میں ان کے جنگی علاقے اور لائن آف کنٹرول کے آس پاس فوجیوں کے ساتھ رہنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اس تجربے نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔
نانا پاٹیکر نے بعد میں ایک انٹرویو میں کارگل کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ جب وہ سری نگر پہنچے تو ان کا وزن تقریباً ۷۶؍ کلوگرام تھا جبکہ واپسی کے وقت ان کا وزن کم ہو کر تقریباً ۵۶؍ کلوگرام رہ گیا تھا۔ فوجی جوانوں کے ساتھ رہنا اور ان کی روزمرہ زندگی کو قریب سے دیکھنا ان کے لیے ایک ایسا تجربہ تھا جس نے ان کی سوچ اور زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا رینکنگ میں اسپین سرفہرست، پرتگال پانچویں نمبر پر پہنچا
نانا پاٹیکر کی فوج سے یہ گہری وابستگی ان کے فلمی کرداروں میں بھی نظر آتی رہی۔ ان کی آواز، مکالموں کی ادائیگی، جسمانی انداز اور کردار میں ڈوب جانے کی صلاحیت نے انہیں ہندوستانی سنیما کے منفرد اداکاروں میں شامل کیا۔ نانا پاٹیکر کے انتقال پر سابق فوجی سربراہ اور میزورم کے گورنر جنرل وی کے سنگھ نے بھی انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر نانا پاٹیکر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فلم ’پراہار‘ کی شوٹنگ کے دوران انہیں قریب سے دیکھا تھا۔ ان کے مطابق نانا نہ صرف بہترین اداکار تھے بلکہ ایک بااثر شخصیت بھی تھے۔
جنرل وی کے سنگھ نے کہا کہ نانا پاٹیکر کو جو بھی کردار دیا جاتا تھا، وہ اس میں ڈھلنے کے لیے سخت محنت کرتے تھے۔ ان کی لگن، محنت اور کام کے تئیں سنجیدگی ہی ان کے کرداروں میں حقیقت کا رنگ بھرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سنیما میں نانا پاٹیکر کی خدمات اور ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔نانا پاٹیکر آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ’پراہار‘ میں میجر چوہان کا کردار، ان کی طاقتور آواز، یادگار مکالمے اور اداکاری کا منفرد انداز شائقین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال بھی ہے کہ کسی کردار کو حقیقت کے قریب لانے کے لیے انہوں نے محض اداکاری پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسے سمجھنے اور محسوس کرنے کے لیے حقیقی تجربات سے گزرنے کی کوشش کی۔