Updated: August 16, 2026, 6:04 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکارہ نرگس فخری ان دنوں اپنی فٹنیس معمول کو لے کر خبروں میں ہیں۔ فلم ’’راک اسٹار ‘‘کی اداکارہ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ وہ روزانہ ۲۴؍ کلومیٹر سائیکل چلاتی ہیں۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں مستقل مزاجی اور نظم و ضبط کو اپنی فٹنیس کا اہم حصہ قرار دیا۔
نرگس فخری۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ اداکارہ نرگس فخری ان دنوں اپنی فٹنیس معمول کو لے کر خبروں میں ہیں۔ فلم ’’راک اسٹار ‘‘کی اداکارہ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ وہ روزانہ ۲۴؍ کلومیٹر سائیکل چلاتی ہیں۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں مستقل مزاجی اور نظم و ضبط کو اپنی فٹنیس کا اہم حصہ قرار دیا۔ نرگس فخری نے سائیکلنگ سے متعلق اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’’۲۴؍کلومیٹر روزانہ ان کی روٹین کا حصہ ہے اور یہ کامیابی محض اتفاق نہیں بلکہ محنت اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ #disciplined، #consistency، #cyclist اور #bikelife جیسے ہیش ٹیگز بھی استعمال کیے۔
ماہرین کے مطابق سائیکلنگ ایک نسبتاً کم اثر والی (low-impact) کارڈیو ورزش ہے، جو مستقل طور پر کی جائے تو دل اور مجموعی جسمانی فٹنس کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔فزیوتھراپسٹ ڈاکٹر وجالا شراوانی کے مطابق باقاعدہ سائیکلنگ سے دل کی کارکردگی بہتر ہونے، بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے اور خون میں نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول کو کم جبکہ مفید ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کو بہتر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ جسم کی ایروبک صلاحیت، اسٹیمنا اور برداشت بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو ’وِمل الائچی‘ اشتہار پر ایف ڈی اے کا شوکاز نوٹس
سائیکلنگ کے دوران خاص طور پر رانوں، ہیمسٹرنگز، کولہوں اور پنڈلیوں کے مسلز کام کرتے ہیں۔ مسلسل سائیکلنگ سے ان مسلز کی طاقت اور برداشت بہتر ہو سکتی ہے۔ سائیکل چلاتے وقت جسم کو متوازن رکھنے کے لیے کور مسلز بھی متحرک رہتے ہیں ۔نرگس کی سائیکلنگ روٹین صرف جسمانی فٹنیس تک محدود نہیں۔ ماہرین کے مطابق باقاعدہ سائیکلنگ اسٹریس، بے چینی اور ڈپریشن کی علامات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، کیونکہ ورزش کے دوران موڈ بہتر کرنے والے کیمیکلز جیسے اینڈورفنز اور سیروٹونن کے اخراج میں اضافہ ہوتا ہے۔ باہر سائیکل چلانے سے قدرتی روشنی بھی ملتی ہے، جو جسم کی سرکیڈین رِدم اور نیند کے معیار کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیا کو ۹؍ وکٹ سے ہرا کر بنگلہ دیش نے تاریخی کامیابی حاصل کرلی
اگرچہ سائیکلنگ عام طور پر کم اثر والی ورزش ہے، لیکن غلط پوزیشن، غلط طریقے سے سائیکل چلانے یا ضرورت سے زیادہ ورزش کرنے سے گھٹنوں کا درد، کمر کے نچلے حصے میں تکلیف اور ٹینڈنائٹس جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ سائیکل کی فٹنگ درست ہو، جسم کی پوزیشن مناسب رکھی جائے اور ورزش کا دورانیہ اور شدت بتدریج بڑھائی جائے۔ خاص طور پر نئے افراد کو اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق روٹین بنانی چاہیے۔ نرگس فخری کی تازہ پوسٹ کا بنیادی پیغام ’’Consistency اور Discipline‘‘ ہے۔ ان کی روزانہ ۲۴؍ کلومیٹر سائیکلنگ اس بات کی مثال ہے کہ فٹنیس کے لیے صرف سخت ورزش ہی نہیں بلکہ باقاعدگی اور مستقل مزاجی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یعنی نرگس فخری کے لیے فٹنیس کا فارمولا سادہ ہے: روزانہ سرگرمی، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی۔