جاوید صدیقی اور ارشد ایوب کودو ہفتوں کے اندر خودسپردگی کی ہدایت ،ضمانت دینے پر ہائی کورٹ پرسپریم کورٹ کی تنقید ۔
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ نے دو برس پہلے ہوئے ہلدوانی فسادات سے متعلق غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت درج ایک معاملے میں دو ملزمین کو دی گئی ضمانت کو منسوخ کر دیا۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی ڈویژن بنچ نے اتراکھنڈ کی ریاستی حکومت کی جانب سے دائر اپیلوں کو قبول کرتے ہوئے جاوید صدیقی اور ارشد ایوب کی ضمانت منسوخ کردی اور انہیں دو ہفتوں کے اندر خودسپردگی کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ڈیفالٹ ضمانت دینے پر ہائی کورٹ پر تنقید بھی کی۔ مزید برآں ڈویژن بنچ نے ہائی کورٹ کی جانب سے تحقیقات مکمل کرنے میں لگنے والے وقت کے تعلق سے تفتیشی افسر کے طرز عمل پر سوال اٹھانے کو غلط قدم قرار دیا۔بنچ نے کہا کہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرنے پر ہم نے پایا کہ ہائی کورٹ نے ۹۰؍دن کی مدت میں تفتیش مکمل کرنے میں ناکام رہنے پر تفتیشی افسر کے طرز عمل پر سوال اٹھانے میں غلطی کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہماری رائے میں ہائی کورٹ کا یہ کہنا انتہائی نامناسب تھا کہ تفتیشی ایجنسی نے مناسب رفتار سے تفتیش کو آگے نہیں بڑھایا یا سست روی کا مظاہرہ کیا۔
عدالت نے اس بات کو بھی نوٹ کیا کہ اس معاملہ کی تفتیش کے لئے مقررہ وقت میں توسیع کئے جانے اور ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کرنےسے متعلق ٹرائل کورٹ کے احکامات کو ملزمین نے فوری طور پر چیلنج نہیں کیا تھا۔ عدالت نے اس پہلو کو نوٹ نہ کرنے پر بھی ہائی کورٹ پرتنقید کی۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس اہم حقیقت کو مدنظر رکھنے میں ناکام رہی کہ مدعا علیہان نے وقت میں توسیع اور ضمانت مسترد کرنے کے احکامات کو چیلنج کرنے کے لئے فوری طور پر ہائی کورٹ سے رجوع نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ اپیل دائر کرنے سے پہلے ہی تفتیش مکمل ہو چکی تھی اورچارج شیٹ داخل کر دی گئی تھی۔ واضح ہوکہ زیرسماعت معاملہ ۲۰۲۴ء میں ہوئے ہلدوانی فسادات سے متعلق ہے۔ اس معاملہ میں درج ایف آئی آرمیں بڑے پیمانے پر آتشزنی، فسادات اور پولیس اسٹیشن کی عمارت سمیت عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اورمتعدد افراد پر مبینہ طور پر پیٹرول بم وغیرہ کے استعمال کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اس معاملے میں متعدد دفعات کے علاوہ فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ، آرمز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی دفعات بھی شامل ہیں۔ملزمین کو۹؍ فروری ۲۰۲۴ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزمین نے۹۰ ؍دنوں میں تفتیش مکمل نہ ہونے کی وجہ سے عدالت میںڈیفالٹ ضمانت کے لئے درخواست دی تھی جسے ٹرائل کورٹ نے مسترد کر دیا تھا ۔اس کے خلاف ملزمین نےہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔