Inquilab Logo Happiest Places to Work

پولیس بھرتی امتحانات کے سوالیہ پرچے میں نجی پبلشر کی کتاب کے سوالات ہو بہو شائع

Updated: May 07, 2026, 2:21 PM IST | Agency | Pune

کانگریس لیڈر وجے وڈیٹیوار نے کتاب اور امتحانی پرچے کی تصویر شیئر کی ، حکومت پر طلبہ اور امتحانات کے ساتھ مذاق کرنے کا الزام ، پبلشر نے لاتعلقی کا اظہار کیا ۔

Competitive Exams Are Also Being Neglected .Photo:INN
مقابلہ جاتی امتحانات میں بھی لاپروائی برتی جا رہی ہے۔ تصویر:آئی این این
 پولیس بھرتی امتحانات کا سوالیہ پرچہ خود ایک سوال بن گیا ہے اور بھرتی کا پورا عمل تنازعات  میں گھر گیا ہے کیونکہ پولیس بھرتی امتحان کے پرچے میں سوالات دیئے گئے ہیں وہ لفظ بہ لفظ وہی ہیں جو ایک نجی پبلی کیشن کی شائع کردہ ایک کتاب میں درج ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر وجے وڈیٹی وار نے اس پرچے کو ٹویٹر پر شیئر کرکے پرچہ شائع کرنے والوں پر سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے طلبہ اور امتحانات کا مذاق بنا رکھا ہے۔  
 
 
اطلاع کے مطابق مہاراشٹر پبلی کیشن نامی اشاعتی ادارے نے جو کتاب شائع کی ہے اس میں درج سوالات کو جوں کا توں پولیس بھرتی امتحان کے سوالیہ پرچے میں شائع کر دیا گیا ہے۔  کانگریس لیڈر وجے ودیٹیوار نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس بھرتی امتحان کے سوالیہ پرچے میں ۱۰۰؍ سوالات ہیں جن میں ۸۵؍ سوالات اس نجی کتاب سے لئے گئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں سوالات کے نمبر اور ان سوالات کے جوابات کے طور پر جو متبادل دیئے گئے ہیں وہ بھی ہوبہو ایک جیسے ہیں۔ 
 
 
اس معاملے میں کچھ واٹس ایپ چیٹ بھی سامنے آئے ہیں جس کی وجہ سے سوالیہ پرچہ تیار کرنے والے عہدیداروں کے کردار پر شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے ہیں۔ وجے ودیٹیوار نے پرچے اور کتاب کی تصاویر شیئر کرکے سوال کیا ہے کہ’’حکومت ریاست میں مسابقتی امتحانات میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے۔ اب یہ واضح ہو گیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ’’یہ کوئی غلطی نہیں ہے، یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ نظام ٹوٹ چکا ہے۔ جب پولیس بھرتی جیسے حساس عمل میں ایسا ہوتا ہے تو اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اندر کہیں کوئی چین آف کمانڈ ہے؟ حکومت کی طرف سے صرف اعلانات اور اشتہارات ہیں۔ حقیقت میں نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے،‘‘ وجے ودیٹیوار نے یہ کہتے ہوئے تنقید کی کہ ’’شفافیت صرف پوسٹروں پر ہی رہ گئی ہے۔ ۳۹۷۷؍ بچوں نے ایمانداری سے یہ امتحان دیا تھا۔ حکومت کو اب فیصلہ کرنا ہے کہ ان کے خواب برباد کرنے والوں کو بچانا ہے یا ذمہ داروں کو سزا دینا ہے۔ ورنہ شفاف بھرتی کا لفظ صرف پوسٹروں پر ہی رہے گا۔‘‘ ادھر پبلشر نے کہا ہے کہ اس کی کتاب طلبہ کی مشق کیلئے شائع کی گئی ہے۔ پولیس بھرتی امتحان کیلئے جو پرچہ تیار کیا گیا ہے، اس سے پبلشنگ ہائوس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ نہ ہی اس نے یہ پرچہ دیکھا ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK