Updated: October 09, 2026, 6:06 PM IST
| Durban
ٹیسٹ کرکٹ میں جہاں بلے بازوں کے لیے طویل اننگز کھیلنا اور ٹیم کو مشکل حالات سے نکالنا اہم سمجھا جاتا ہے، وہیں کبھی کبھار ایسی اننگز بھی ریکارڈ کا حصہ بن جاتی ہیں جو غیر معمولی ہونے کے باعث توجہ حاصل کرتی ہیں۔ آسٹریلیا کے بلے باز نک میڈنسن کے نام بھی ایسی ہی ایک اننگز کا ذکر کیا جاتا ہے، جس میں وہ ۳۳؍ گیندوں کا سامنا کرنے کے باوجود کوئی رن بنائے بغیر آؤٹ ہوگئے۔
ٹیسٹ کرکٹ میں جہاں بلے بازوں کے لیے طویل اننگز کھیلنا اور ٹیم کو مشکل حالات سے نکالنا اہم سمجھا جاتا ہے، وہیں کبھی کبھار ایسی اننگز بھی ریکارڈ کا حصہ بن جاتی ہیں جو غیر معمولی ہونے کے باعث توجہ حاصل کرتی ہیں۔ آسٹریلیا کے بلے باز نک میڈنسن کے نام بھی ایسی ہی ایک اننگز کا ذکر کیا جاتا ہے، جس میں وہ ۳۳؍ گیندوں کا سامنا کرنے کے باوجود کوئی رن بنائے بغیر آؤٹ ہوگئے۔ اس طرح کی اننگز ٹیسٹ کرکٹ میں بلے باز کے صبر، دفاعی حکمت عملی اور گیند بازوں کے دباؤ کی ایک منفرد مثال بن جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:دوستانہ فٹ بال میچ میں روس کے ہاتھوں ہندوستان خواتین ٹیم کو شرمناک شکست ملی
یہ واقعہ ۹؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ڈربن کے کنگزمیڈ میدان میں جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کے ابتدائی دن پیش آیا۔ آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا، لیکن اس کے ابتدائی بلے بازوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹریوس ہیڈ ۹؍ رنز بناکر آؤٹ ہوئے، جبکہ نک میڈنسن ۳۳؍ گیندیں کھیلنے کے باوجود اپنا کھاتہ نہ کھول سکے۔۳۴؍ سالہ بائیں ہاتھ کے بلے باز نک میڈنسن تقریباً دس سال بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپس آئے تھے۔ انہوں نے آخری مرتبہ دسمبر ۲۰۱۶ء میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔ ان کی واپسی پہلے ہی غیر معمولی تھی، کیونکہ وہ ۲۰۲۵ء میں خصیوں کے سرطان کی تشخیص کے بعد علاج اور کیموتھراپی کے مشکل مرحلے سے گزرے تھے۔ صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ اعلیٰ سطح کی کرکٹ تک پہنچنا ان کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی، تاہم جنوبی افریقہ کے خلاف ان کی پہلی اننگز مایوس کن ثابت ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے:فلمی تنظیم نے تنوشری دتہ کے بیان پر سخت تنقید کردی
میڈنسن کی اننگز کا اختتام جنوبی افریقہ کے تیز گیند باز مارکو یانسن کی گیند پر ہوا۔ وہ کٹ شاٹ کھیلنے کی کوشش میں گیند کو اپنے ہی وکٹوں پر مار بیٹھے اور ۳۳؍ گیندوں پر صفر رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔ اس اننگز کے ساتھ ان کے نام ایک ایسا منفی ریکارڈ درج ہوگیا جسے کوئی بھی بلے باز اپنے کریئر کی نمایاں کامیابی کے طور پر یاد نہیں رکھنا چاہے گا۔
رپورٹس کے مطابق، میڈنسن کی ۳۳؍ گیندوں پر صفر رنز کی اننگز ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کسی اوپنر کی جانب سے کھاتہ کھولے بغیر آؤٹ ہونے والی تیسری طویل ترین اننگز ہے۔ ۲۱؍ویں صدی میں ٹیسٹ اوپنر کی جانب سے صفر پر آؤٹ ہونے سے پہلے اتنی گیندیں کھیلنے کی یہ طویل ترین مثال بھی قرار دی گئی ہے۔ آسٹریلیا کے کسی ٹیسٹ اوپنر کی جانب سے دستیاب گیندوں کے ریکارڈ کے مطابق یہ سب سے طویل صفر رنز کی اننگز ہے۔
کرکٹ میں صفر پر آؤٹ ہونا عام بات ہے، لیکن ۳۳؍ گیندوں تک وکٹ پر رہنے کے باوجود کوئی رن نہ بنانا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ نک میڈنسن کے لیے یہ اننگز یقیناً مایوس کن رہی، تاہم ان کی سرطان کے خلاف جدوجہد اور طویل وقفے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی ان کے کریئر کا ایک اہم پہلو ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ وہ آئندہ اننگز میں کس طرح اپنی کارکردگی بہتر بناکر ٹیم میں اپنی جگہ مضبوط کرتے ہیں۔