ہندوستانی سینماکی طویل تاریخ میں کچھ چہروں نے اپنی موجودگی سےپردے کو اتھاہ گہرائی عطا کی ہے۔ ان میں ایک نام رضا مراد کا ہے،وہ مرد جس کی گرجدار آواز، ڈرامائی مکالمہ ادائیگی، اور اسٹیج جیسی شخصیت نے ہر کردار کو اونچائی عطا کی۔
پروقار شخصیت کے مالک رضامراد۔ تصویر:آئی این این
ہندوستانی سینماکی طویل تاریخ میں کچھ چہروں نے اپنی موجودگی سےپردے کو اتھاہ گہرائی عطا کی ہے۔ ان میں ایک نام رضا مراد کا ہے،وہ مرد جس کی گرجدار آواز، ڈرامائی مکالمہ ادائیگی، اور اسٹیج جیسی شخصیت نے ہر کردار کو اونچائی عطا کی۔ کبھی ظالم نواب، کبھی جابر شخص، کبھی سیاست کا مکار چہرہ، تو کبھی مظلوموں کا رہنما،رضا مراد کا فن کردار کی ضرورت کے مطابق رنگ بدلتا ہے، مگر ان کی آواز، ان کا وقار… وہ ہمیشہ وہی رہتا ہے۔
رضا مراد کا تعلق ایک ایسےگھرانے سے ہے جس میں فن اور تخلیق سانس لیتےہیں۔ ان کے والدحامد علی مراد خود ایک اداکار تھے جبکہ ان کے چچا امان اللہ خان نے مغل اعظم اور پاکیزہ جیسی فلموں کی اسکرپٹ لکھی ہے۔اس ماحول میں رضامراد کا بچپن فلمی کہانیوں، مکالموں اور اسٹوڈیو کی گہماگہمی میں گزرا۔
۱۹۵۰ءکی دہائی کے آخر میںپیدا ہونے والے رضامراد نے تعلیم کے بعد فلمی دنیا میں قدم رکھنا چاہا اور اسی شوق نے انہیں پونے کےفلم اینڈ ٹی وی انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ایف ٹی آئی آئی)تک پہنچایا۔ وہاں انہوں نے نہ صرف اداکاری کی تکنیک سیکھی بلکہ فن کے احترام کا وہ اصول بھی سیکھا جو ان کے ہر کردار میں نظر آتا ہے۔
ان کے ساتھ پڑھنے والوں میں نصیر الدین شاہ، شتروگھن سنہا جیسےبڑے نام بھی شامل رہے۔ ایف ٹی آئی آئی نے انہیں وہ ٹھہراؤ، وہ گہرائی، اور وہ ادائیگی عطا کی جو بعد میں ان کی پہچان بنی۔
رضا مراد نے اپنے فلمی سفر کا آغاز ۱۹۷۲ء کی فلم’ایک نظر‘ سے کیا لیکن انہیںاصل پہچان راج کپور کی فلموں’پریم روگ(۱۹۸۲ء)‘، حنا، اور’رام تیری گنگا میلی(۱۹۸۵ء)سے ملی۔ راج کپور نے ان کی شخصی صلاحیت پہچانی اور ان کے اندر چھپی گونجدار آواز اور رعب دار شخصیت کو وہ کردار دیے جن سے رضا مراد کا وجود چمک اٹھا۔
رفتہ رفتہ وہ ۸۰ءاور ۹۰ءکی دہائی میں ہندی سنیما کے وہ لازمی کردار بن گئے جو فلم کی اسکرپٹ میں نہ ہوں تو کہانی کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔رضامراد کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ’منفی‘ کردار ادا کر کےبھی ’برے شخص‘نہیں لگتے۔ ان کے ولن میں بھی ایک انگڑائی، ایک وقار، ایک تہذیب موجود رہتی ہے۔وہ کچھ برا بھی کہہ دیںتو مکالمےمیں شائستگی کی جھلک باقی رہتی ہے۔یہی تربیت انہیں گھر سے ملی تھی۔ان کی کچھ یادگار منفی کردار والی فلموں میں ’ہیرو‘ (۱۹۸۳ء)، ’کھل نایک‘(۱۹۹۳ء)، ’بازیگر‘ (۱۹۹۳ء)، ’دلہن ہم لےجائیں گے‘(۲۰۰۰ء) شامل ہیں۔
رضامراد کا چہرہ جیسے کسی مصورنے کردار کے لیے بنا کر رکھ دیا ہو۔ اس لئے تاریخی اور شاہانہ کردار ان پر خوب جچتے ہیں۔شاید اسی لیے وہ سنجے لیلا بھنسالی کے پسندیدہ فنکاروں میں شامل رہے۔ انہوں نے اس طرح کے کردار ’رام لیلا‘،’پدماوت‘ اور’باجی راؤ مستانی‘ جیسی فلموں میںخوب ادا کئے۔یہ سب ایسے کردار ہیں جن میں مکالموں سے زیادہ چہرے کی سنجیدگی اور آنکھوں کی دھمک بولتی ہےاور رضا مراد ان دونوں کے مالک ہیں۔
رزا مراد کی آواز ان کی اصل پہچان ہے۔ گہری، بھاری، اور کہیں کہیں بجتی ہوئی۔ جب وہ مکالمہ بولتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے کسی سنجیدہ شاعر کی غزل کی بحر میں گرج کا اضافہ ہو گیا ہو۔ ان کا لب و لہجہ نہ صرف ادائیگی بلکہ منظر میں جان ڈال دیتا ہے۔کئی فلموں میں وہ صرف چند ہی مناظر میں آئے، مگر ان کی آواز فلم کے خاتمے کے بعد بھی دیر تک سنائی دیتی رہی۔