• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی سینٹرل کےسٹی سینٹرمال کوبی ایم سی نے بند کردیا

Updated: September 05, 2026, 8:38 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد۔ ۶۰۰؍ دکانوں اور بینک کو خالی کروالیا گیا۔ شاپنگ مال میں آتشزدگی سے نقصان کے سبب اس کی مرمت مکمل ہونے تک اسے مکمل طور پر بند کرنے کاعدالت نے حکم دیا ہے ۔ تاجروں اور دکانداوں میں سخت ناراضگی۔

City Centre Mall, which has been shut down by the BMC. Picture: Inquilab
سٹی سینٹرمال جسے بی ایم سی نے بند کردیا ہے۔ تصویر: انقلاب
ممبئی سینٹرل  میںبیلا سیس روڈ پر واقع آرکیڈ سٹی سینٹر مال کی مرمت کرنے اور کسی بھی ممکنہ حادثات سے محفوظ رکھنے کے مقصد سے سپریم کورٹ کے سنائے گئے فیصلہ کے بعد اس شاپنگ مال کو مکمل طو رپر بند کر دیا گیا ہے ۔ بی ایم سی نے شاپنگ مال میں موجود ۶؍ سو سے زائد دکانوں کے مالکان یا کرایہ پر دکان لینے والوں کومرمت کے سبب کاروبار نہ کرنے کا نوٹس دینے کے بعداسے خالی کرا دیا ہے جس کی وجہ سے سٹی سینٹر مال میں موبائل فون اوراس کی مختلف اشیاء فروخت کرنے والے بیشتر کرایہ داروں کو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
   گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے بی ایم سی کو مذکورہ مال میں متاثرہ جگہوں کی باقاعدہ مرمت کرنے اور ۲؍ ماہ کام مکمل کرنے کے ساتھ ہی مرمت کے دوران ما ل میں کسی بھی قسم کے کاروبار اور داخلہ پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیاتھا ۔ مذکورہ فیصلہ پر اب جہاں بی ایم سی نے نوٹس دے کر شاپنگ مال خالی کرا لیا ہے  وہیں مال خالی کرانے سے کرایہ دار تاجروں ، دکان مالکان اور سٹی سینٹر مال کمیٹی کی نگراں یعنی نیل کمل شاپنگ مال انڈیا لمیٹیڈ سبھی کو مرمت مکمل ہونے ، بی ایم سی اور فائر بریگیڈ  کی جانب سے این او سی ملنے تک بڑے پیمانے پر مالی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ اس سےنہ صرف کرایہ دار تاجروں ، دکان  مالکان بلکہ نگراں کمیٹی میں  بھی شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔
کاروبار بند کرنے اور داخلہ پر پابندی، مالی نقصان پرکرایہ دار تاجردنیش چودھری نے کہا کہ آگ لگنے کے بعد کاروبار شروع کرنے اور اسے   بحال کرنے میں برسوں لگے تھے لیکن ایک بار پھر سپریم کورٹ کے فیصلے اور بی ایم سی کی کارروائی کے سبب ہم سبھی مالی بحران کا شکار ہوجائیں گے ۔ دکان مالکان   افروزاحمد اور فہیم سیّد نے کہا کہ عدالت کے فیصلے اور بی ایم سی کی کارروائی سے ۶؍ سو سے زائد دکاندارمتاثر ہوئے ہیں ۔سٹی سینٹر مال جو اب موبائل فون اور اس میں استعمال ہونے والی مختلف اشیاء کی خریدو فروخت کا ایک بڑا مارکیٹ بن گیا تھا،  اسے بند کئے جانے سے کرایہ داراوراس میں کام کرنے والے ہزاروں لوگوں کو اب بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بی ایم سی نے یہ فیصلہ لینے سے قبل نہ تو کوئی رعایت دی ہے اور نہ ہی کوئی متبادل جگہ ہی فراہم کی۔
سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل کرنے اور مال میں مرمت کے تعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں اسسٹنٹ میونسپل کمشنر سنتوش سالونکھے نے مال کی بالائی منزلوں کے آگ سے شدید متاثر ہونےاور اس کی مکمل مرمت ہونے کے ساتھ کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کے مقصد سے سبھی دکانوں کو بند کرنے کا فیصلہ لینے کا جواز پیش کیا۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ مرمت مکمل ہونے کے بعد لازمی شرائط جس میں فائر سیفٹی ، این او سی اور دیگر ضوابط شامل ہیں ،کو پورا کرنے کے بعدہی مال کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت  دی جائے گی۔
سٹی  سینٹرمال میں ۲۰۲۰ء میں بھیانک آگ لگی تھی
سٹی  سینٹرمال میں ۶؍ سو سے زائد دکانوں میں ۹۵؍ فیصد دکانیںموبائل فون یا موبائل میں استعمال ہونے والی مختلف اشیاء کی ہیں۔ مال میں ایک بینک اورچند گودام بھی شامل ہیں۔ ۲۰۱۵ء سے اس مال میں بڑے پیمانے پر موبائل فون  اور اس  کے پرزے فروخت کئے جاتے ہیں ۔ ۲۰۲۰ء میں مال میں   بھیانک آگ  لگ گئی تھی جس کے بعد اسے  بند کر دیا گیا تھا ۔ جب مال بند کرنے کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو کورٹ نے اسٹرکچرل آڈٹ کے بعد فائر بریگیڈ اور بی ایم سی کے ذریعہ این او سی ملنے کے بعد مال   شروع کرنے کا حکم دیا تھا  جس کے بعد اسے شروع بھی کیا گیاتھا لیکن آگ لگنے کے بعد مرمت کے قواعد کو باقاعدہ پورا نہیں کیا گیا تھا جسے سپریم کورٹ میں دوبارہ چیلنج کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK