پنشن، بقایا جات، ساتویں پے کمیشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والے واجبات کے حقوق کیلئے احتجاج۔
EPAPER
Updated: September 05, 2026, 8:48 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Ulhasnagar
پنشن، بقایا جات، ساتویں پے کمیشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والے واجبات کے حقوق کیلئے احتجاج۔
الہاس نگر میونسپل کارپوریشن کے محکمہ تعلیم سے سبکدوش ہونے والے تقریباً ۳۰۰ ؍معمر اساتذہ نے اپنے تئیں انتظامیہ کی مجرمانہ سرد مہری، پنشن میں غیر ضروری تاخیر اور واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر دیا ہے۔ یوم اساتذہ سے ٹھیک ایک روز قبل میونسپل کارپوریشن کے صدر دفتر کے سامنے شروع ہونے والے’سمان سنگھرش‘نے نہ صرف میونسپل انتظامیہ کے ہوش اڑا دئیے ہیں بلکہ برسر اقتدار شیوسینا۔بی جے پی اتحاد کیلئے بھی سیاسی ہزیمت کھڑی کر دی ہے۔
انتظامیہ کے رویے سے نالاں بزرگ اساتذہ جن کی عمریں ۶۰ ؍سے ۸۰؍ برس کے درمیان ہیں سرکاری دفاتر کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک چکے ہیں۔ کئی اساتذہ اپنے جائز مالی حقوق کی راہ تکتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے جبکہ درجنوں افراد شدید علالت اور معاشی تنگی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ معمر شہریوں کے تحفظ کے ملکی قوانین کے برعکس سبکدوش ملازمین کی تذلیل پر اساتذہ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ان کی یہ جنگ کسی فرد یا سیاست کے خلاف نہیں بلکہ آئینِ ہند کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے قانونی حقوق اور انسانی وقار کی بحالی کے لئے ہے۔
احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے سماجی کارکن راج اسرونڈکر نے میونسپل کارپوریشن پر الزام عائد کیا کہ اساتذہ کو واجبات کی فراہمی کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے بھیجی گئی خطیر رقم غائب کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریشن مالی خسارے کا من گھڑت بہانہ بنا رہی ہے۔ اسرونڈکر کے مطابق انتظامیہ نے نہ صرف اپنا حصہ روکے رکھا بلکہ حکومت کے بھیجے ہوئے فنڈ بھی اساتذہ تک نہیں پہنچائے جس کی غیر جانبدارانہ انکوائری ہونی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ ماہ اگست میں بھی اساتذہ کو صرف نصف پنشن دی گئی تھی جو انتظامیہ کو سخت نوٹس جاری کرنے کے بعد ہی مکمل ادا کی گئی۔
مظاہرین کا غصہ اس وقت مزید بھڑک اٹھا جب انتظامیہ نے احتجاج روکنے کیلئے ایک خط کے ذریعے دعویٰ کیا کہ ایجوکیشن ڈپٹی ڈائریکٹر کی جانب سے موصولہ ۵؍ قسطوں میں سے ۲؍ قسطیں ادا کی جا چکی ہیں۔ اساتذہ تنظیم نے اس دعوے کو سراسر جھوٹ اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ دراصل ایک ہی قسط کو ۲؍ حصوں میں تقسیم کر کے تماشہ بنایا گیا ہے جبکہ ۴؍ قسطیں ہنوز واجب الادا ہیں۔
احتجاج شدت اختیار کرنے کے بعد میونسپل کارپوریشن کے ایڈیشنل کمشنر دھیرج چوہان نے مداخلت کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے اساتذہ سے بات چیت کی۔ انتظامیہ نے اس دوران تسلیم کیا کہ اساتذہ کے تقریباً ۳ ؍کروڑ ۱۵؍ لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔ بعد ازاں انتظامیہ کی جانب سے پیر کے روز مکمل بقایا رقم کی ادائیگی کا تحریری یقین دلائے جانے پر اساتذہ نے اپنا احتجاج عارضی طور پر واپس لے لیا۔