• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی : ٹھیکیدار کو ۱۵؍کروڑ روپےکی ادائیگی پر میونسپل کارپوریشن میں ہنگامہ

Updated: September 05, 2026, 8:42 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد جنرل باڈی میں سخت اعتراض،ذمہ دار افسران سے رقم وصول کرنے اور مزید قانونی راستے تلاش کرنے کا مطالبہ۔

Scene from the General Body Meeting. Picture: INN
جنرل باڈی میٹنگ کا منظر۔ تصویر: آئی این این

مالی بحران سے دوچار میونسپل کارپوریشن پر کچرا انتظامیہ کے ٹھیکیدار انتھونی ویسٹ ہینڈلنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کو تقریباً ۱۵؍کروڑ روپے ادا کرنے کا معاملہ جنرل باڈی میٹنگ میں زبردست بحث کا موضوع بن گیا۔ کارپوریٹروں نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر کارپوریشن پر یہ بھاری مالی بوجھ کیوں آیا اور اگر اس کے پیچھے انتظامی غفلت یا کسی افسر و ملازم کی لاپروائی ہے تو اس کی ذمہ داری بھی طے کی جائے اور نقصان کی رقم ذمہ داروں سے وصول کی جائے۔

بی جے پی کارپوریٹر سمیت پاٹل اور ویبھو بھوئیر نے تقریباً ۱۵؍ کروڑ روپے کی ادائیگی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کارپوریشن پہلے ہی شدید مالی مشکلات سے دوچار ہے۔ ایسے میں عوامی خزانے سے اتنی بڑی رقم ادا کرنے سے قبل معاملے کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی افسر یا ملازم کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو صرف کارروائی ہی نہیں بلکہ رقم کی وصولی بھی متعلقہ ذمہ داروں سے کی جائے۔

بی جے پی گروپ لیڈر سنتوش شیٹی نے معاملے کو قانونی نقطۂ نظر سے بھی پرکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی اگر نظرثانی کی درخواست یا کوئی دوسرا قانونی راستہ موجود ہے تو کارپوریشن کو فوری ادائیگی کے بجائے تمام امکانات کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے انتظامیہ سے تجربہ کار قانونی ماہرین سے رائے لینے کا مطالبہ کیا۔

سابق میئر ولاس پاٹل نے بھی فوری ادائیگی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے رقم جاری کرنے کی تجویز ضرور تیار کرلی ہے، لیکن رقم ادا کرنے سے پہلے یہ واضح کیا جائے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مزید قانونی کارروائی کی کوئی گنجائش باقی ہے یا نہیں۔

میونسپل کمشنر انمول ساگر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ معاملے میں انتظامی فیصلہ جنرل باڈی کی منظوری کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے، اسی لئے اسے جنرل باڈی کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔بحث کے بعد میئر نارائن چودھری نے ۱۵؍ کروڑ روپے فی الحال الگ رکھنے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کرنے کے امکان سمیت تمام قانونی راستوں اور ان کے طریقۂ کار پر قانونی ماہرین سے مشورہ لینے کی ہدایت کی۔ یوں جنرل باڈی نے فی الحال رقم کی ادائیگی پر بریک لگا کر قانونی امکانات کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا۔

معاملہ کیا ہے؟

  ۲۰۰۵ء میں بھیونڈی شہر سے گھر گھر کچرا جمع کرنے، اس کی نقل و حمل اور ٹھکانے لگانے کا ۱۰؍ سالہ ٹھیکہ انتھونی ویسٹ ہینڈلنگ سیل پرائیویٹ لمیٹڈ کو دیا گیا تھا۔ تاہم کام غیر اطمینان بخش ہونے اور معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے ۲۱؍فروری ۲۰۰۹ء کو جنرل باڈی نے ٹھیکہ منسوخ کر دیا۔ ٹھیکہ منسوخ ہونے کے بعد کمپنی نے بقایا جات اور گاڑیوں و مشینری کے اخراجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا، جس پر معاملہ ہائی کورٹ سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ پہنچا۔ ۵؍مئی ۲۰۲۶ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کو تقریباً ۱۵؍کروڑ روپے ۳؍ ماہ میں ادا کرنے کا حکم دیا۔ تاخیر کی صورت میں ۹؍ فیصد سالانہ سود بھی ادا کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK