Inquilab Logo Happiest Places to Work

تجارتی ایل پی جی کی کمی سے ہوٹل اور ریستوران متاثر، وزارتِ تیل نے کمیٹی تشکیل دی

Updated: March 10, 2026, 1:45 PM IST | New Delhi

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع کی وجہ سے ایندھن کی سپلائی چین متاثر ہونے کے بعد، جس میں ہندوستان کی ایل پی جی درآمدات بھی شامل ہیں، تیل کی وزارت نے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے کیونکہ کمرشیل ایل پی جی کی کمی نے ہوٹلوں اور ریستورانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

LPG Shortage.Photo:INN
ایل پی جی کی قلت۔ تصویر:آئی این این

جیسے ہی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھی اور عالمی ایندھن سپلائی چین متاثر ہوئی، حکومت نے گھریلو استعمال کے لیے کھانا پکانے والی گیس کو ترجیح دی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں مہمان نوازی  (ہاسپیلیٹی)کے شعبےجیسے ہوٹلوں اور ریستورانوںکے لیے کمرشیل  ایل پی جی کی شدید قلت پیدا ہو گئی کیونکہ یہ ادارے مارکیٹ قیمت پر دستیاب کمرشیل گیس پر انحصار کرتے ہیں۔
تیل کی وزارت نے کمرشیل ایل پی جی سلنڈروں کی اچانک قلت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی کے قیام کے بعد ہوٹل اور ریستوران انڈسٹری میں تشویش پھیل گئی ہے  جبکہ ریستوران ایسوسی ایشنز نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی جلد بحال نہ ہوئی تو کئی کھانے پینے کے مراکز چند دنوں میں بند ہو سکتے ہیں۔
یہ خلل مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پیدا ہوا ہے جس نے عالمی ایندھن سپلائی چین کو متاثر کیا، جس میں ہندوستان کی ایل پی جی درآمدات بھی شامل ہیں۔ گھریلو صارفین کو کھانا پکانے والی گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے حکومت نے گھریلو سپلائی کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں ہوٹلوں، ریستورانوں اور دیگر تجارتی اداروں کے لیے گیس کی کمی پیدا ہو گئی۔
 وزارت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس  پر ایک بیان میں کہا کہ ’’غیر گھریلو شعبوں کو ایل پی جی کی فراہمی کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے تین ایگزیکٹیو ڈائریکٹرز پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو ریستورانوں، ہوٹلوں اور دیگر صنعتوں کی درخواستوں کا جائزہ لے گی۔‘‘
  ہندوستان سالانہ تقریباً۳ء۳۱؍ ملین ٹن  ایل پی جی استعمال کرتا ہے، جس میں سے تقریباً۸۷؍ فیصد  گھریلو شعبے یعنی گھروں کے رسوئی گھر میں استعمال ہوتی ہے  جبکہ باقی حصہ ہوٹلوں اور ریستورانوں جیسے تجارتی ادارے استعمال کرتے ہیں۔
ملک کی کل ایل پی جی ضرورت کا تقریباً۶۲؍ فیصد  حصہ درآمدات سے پورا کیا جاتا ہے۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور تہران کی جوابی کارروائی کے باعث جاری تنازع نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ یہ ایک اہم سمندری راستہ ہے جس کے ذریعے ہندوستان کو اپنی ۸۵؍ سے۹۰؍ فیصد  ایل پی جی درآمدات سعودی عرب سمیت دیگر ممالک سے ملتی ہیں۔
 حکام متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں، لیکن اس وقت دستیاب محدود سپلائی زیادہ تر گھریلو استعمال کے لیے منتقل کر دی گئی ہے، جس کے باعث تجارتی اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔صنعتی ذرائع کے مطابق اس بحران نے پہلے ہی  ممبئی  اور بنگلورو جیسے بڑے شہروں میں کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جہاں ہوٹلوں اور ریستورانوں کے لیے کھانا پکانے والی گیس حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ایران سے جنگ جلد ختم ہو گی: ڈونالڈ ٹرمپ


انڈیا ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے صدر  وجے شیٹی  کے مطابق گیس کی کمی تیزی سے پھیل رہی ہے اور اگر صورتحال برقرار رہی تو جلد ہی پورا شعبہ مفلوج ہو سکتا ہے۔وزارت کا کہنا ہے کہ ملک میں ایندھن کا مجموعی ذخیرہ کافی ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں ریفائنریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پیٹروکیمیکل پیداوار کم کر کے ایل پی جی کی پیداوار بڑھائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایل پی جی ریفل کی بکنگ کا وقفہ  ۲۱؍دن سے بڑھا کر۲۵؍ دن  کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بارسلونا کی ۲۲؍ویں فتح، خطاب کی دوڑ میں پوزیشن مزید مستحکم

و زارت نے اپنے بیان میں کہاکہ ’’ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال اور ایل پی جی سپلائی میں رکاوٹوں کے پیش نظر ریفائنریزکو زیادہ ایل پی جی پیدا کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اضافی پیداوار گھریلو استعمال کے لیے فراہم کی جا سکے۔‘‘ مزید کہا گیا کہ حکومت نے گھریلو صارفین کو ترجیح دیتے ہوئے ۲۵؍ دن کا انٹر بکنگ پیریڈ  متعارف کرایا ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK