تھائی لینڈ کی شہزادی بجراکیتیابھا، جو دسمبر۲۰۲۲ءسے کومے میں تھیں، ۴۷؍ سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ ان کی وفات نے نہ صرف شاہی خاندان کو صدمہ پہنچایا ہے بلکہ ملک میں مستقبل کی شاہی جانشینی سے متعلق سوالات بھی مزید گمبھیر کر دیئے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 1:03 PM IST | Bangkok
تھائی لینڈ کی شہزادی بجراکیتیابھا، جو دسمبر۲۰۲۲ءسے کومے میں تھیں، ۴۷؍ سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ ان کی وفات نے نہ صرف شاہی خاندان کو صدمہ پہنچایا ہے بلکہ ملک میں مستقبل کی شاہی جانشینی سے متعلق سوالات بھی مزید گمبھیر کر دیئے ہیں۔
تھائی لینڈ کی شہزادی بجراکیتیابھا(Bajrakitiyabha)، جو تین سال سے زائد عرصے سے کومے میں تھیں، انتقال کر گئی ہیں۔ شاہی محل نے جمعہ کو ان کی وفات کا اعلان کیا۔ ان کی عمر۴۷؍ برس تھی۔ شہزادی دسمبر ۲۰۲۲ء میں اپنے کتوں کے ساتھ ورزش کے دوران اچانک گر پڑی تھیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے دل میں مائیکوپلازما انفیکشن کے باعث دل کی دھڑکن شدید بے قاعدہ ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں وہ کومے میں چلی گئی تھیں۔ ان کی وفات کے ساتھ تھائی شاہی خاندان نے اپنی سب سے نمایاں، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت شخصیت کو کھو دیا ہے، جو مستقبل میں شاہی جانشینی کے معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کے لبنان پر پے در پے حملے
شہزادی بجراکیتیابھا، تھائی بادشاہ مہا وجیرالونگ کورن(Maha Vajiralongkorn ) کی سات اولادوں میں سب سے بڑی تھیں۔ وہ۷؍ دسمبر۱۹۷۸ء کو بادشاہ کی پہلی اہلیہ اور کزن شہزادی سومسوالی(Princess Soamsawali) کے ہاں پیدا ہوئیں۔ شاہی محل کے بیان کے مطابق، ’’طبی ٹیم نے ان کی دیکھ بھال کیلئے ہر ممکن اور انتہائی جدید طبی سہولت فراہم کی، لیکن ان کی حالت مسلسل بگڑتی رہی۔ ‘‘ بیان میں بتایا گیا کہ وہ جمعرات کی شام مقامی وقت کے مطابق ۷؍بجکر ۴۸؍ منٹ پر Chulalongkorn Hospital میں انتقال کر گئیں۔ شہزادی نے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی اور امریکہ کی کارنیل یونیورسٹی سے دو اعلیٰ ڈگریاں حاصل کی تھیں۔ انہوں نے نیویارک میں تھائی لینڈ کے اقوام متحدہ مشن میں مختصر عرصے تک خدمات انجام دیں، جس کے بعد بنکاک اور دیگر شہروں میں اٹارنی جنرل کے دفاتر میں کام کیا۔
یہ بھی پڑھئے: لندن: بچے کی جان بچانے پرمحمد جیسل کو خراجِ تحسین، ’’حقیقی ہیرو‘‘ قرار دیا گیا
۲۰۱۲ءسے۲۰۱۴ء تک وہ آسٹریا میں تھائی لینڈ کی سفیر رہیں، جہاں انہوں نےاقوام متحدہ کا دفتر برائے منشیات اور جرائم کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کئے۔ بعد ازاں انہوں نے جیل اصلاحات، بالخصوص خواتین قیدیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی، کیونکہ تھائی لینڈ میں خواتین قیدیوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ شمار کی جاتی ہے۔ واپس تھائی لینڈ آنے کے بعد انہیں جنوب مشرقی ایشیا میں قانون کی حکمرانی کیلئے یو این او ڈی سی کی سفیر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے ملک کے فوجداری نظام میں اصلاحات کی وکالت جاری رکھی، جہاں معمولی نوعیت کے منشیات کے جرائم پر بھی سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ ۲۰۲۱ءمیں ان کے والد نے انہیں اپنے نجی محافظ دستے کی چیف آف اسٹاف مقرر کیا اور جنرل کا عہدہ دیا۔
یہ بھی پڑھئے: بل گیٹس کا ایپسٹین تعلقات پر ’’گہرے افسوس‘‘ کا اظہار
شہزادی باجراکیتیابھا فٹنس کی شوقین تھیں اور اکثر طویل فاصلے کی دوڑوں میں حصہ لیتی تھیں۔ ان کی قابلیت اور بادشاہ کے اعتماد کے باعث انہیں مستقبل کی شاہی جانشینی کے ممکنہ امیدواروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ۷۳؍ سالہ بادشاہ واجیرالونگکورن نے ابھی تک اپنے جانشین کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ تھائی روایت کے مطابق ولی عہد مرد ہونا چاہیے، تاہم۱۹۷۴ء میں آئینی ترمیم کے بعد خواتین کو بھی تخت سنبھالنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ بادشاہ کے پانچ بیٹے ہیں، لیکن دوسری شادی سے پیدا ہونے والے چار بیٹوں کو۱۹۹۶ء میں شاہی خاندان سے الگ کر دیا گیا تھا اور وہ تب سے امریکہ میں اپنی والدہ کے ساتھ مقیم ہیں۔ تیسرے نکاح سے پیدا ہونے والے شہزادہ دیپانگکورن رسمیجوتی(Dipangkorn Rasmijoti ) کو متوقع جانشین سمجھا جاتا ہے، تاہم ان کی صلاحیت کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ بہت سے تھائی شاہی حامیوں کے نزدیک شہزادی باجراکیتیابھا اپنے والد کی جانشین بننے یا شہزادہ دیپانگکورن کی معاونت کیلئے ریجنٹ کا کردار ادا کرنے کی سب سے موزوں شخصیت تھیں۔ ان کی وفات کے بعد تھائی لینڈ میں شاہی جانشینی کا سوال مزید غیر واضح ہو گیا ہے، جبکہ ملک کے سخت ’’لیزے ماجیسٹے‘‘ (شاہی خاندان کی توہین سے متعلق) قوانین اس موضوع پر عوامی بحث کی اجازت نہیں دیتے۔