پونے میں کاکروچ جنتا پارتی کا احتجاج، ابھیجیت دپکے کی نصیحت ’ سیاستداں ہندو مسلم کے بجائے روزگار ،مہنگائی اور تعلیم پر بات کریں۔‘‘
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 1:14 PM IST | Pune
پونے میں کاکروچ جنتا پارتی کا احتجاج، ابھیجیت دپکے کی نصیحت ’ سیاستداں ہندو مسلم کے بجائے روزگار ،مہنگائی اور تعلیم پر بات کریں۔‘‘
حسب اعلان جمعرات کی شام پونے کی ساوتری بائی پھلے یونیورسٹی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے بینر تلے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے کی خاطر ہزاروں نوجوان اکٹھا ہوئے۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے اس موقع پر سیاستدانوں کو نصیحت کی کہ اب وہ ہندو مسلم کی سیاست کو ترک کر دیں کیونکہ اس سے ملک کا کوئی بھلا نہیں ہونے والا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پیپر لیک کی ذمہ داری قبول کرے اور طلبہ کو ہونے والے نقصان کی بھرپائی کرے۔ یونیورسٹی کے احاطے میں ایک اندازے کے مطابق ۵؍ تا ۶؍ ہزار نوجوان جمع ہوئے تھے جنہوں نے ابھیجیت دپکے کے ساتھ نعرے بلند کئے جبکہ اس احتجاج کیلئے معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک خصوصی طور پر لداخ سے پونے آئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں: کرنٹ لگنے سے ۴؍ سالہ بچہ فوت
یاد رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے کا تعلق مہاراشٹر ( اورنگ آباد) ہی سے ہے۔ لہٰذا انہوں نے دہلی کے جنتر منتر کے بعد دوسرا احتجاج پونے میں کیا۔ اس موقع پر دپکے نے کہا’’ملک کے نوجوانوں کے ’ہندو۔ مسلم‘ کے مسائل میں الجھایا جا رہا ہے جبکہ نوجوانوں کے اصل مسائل تعلیم اور ماحولیات ہیں۔ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اس معاملے پر زیادہ توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ سیاست دانوںکو چاہئے کہ وہ ہندو مسلم کی سیاست کرنا بند کریں اور جو بنیادی مسائل ہیں جیسے، مہنگائی، بے روزگاری اور تعلیم پر بات کریں۔‘‘ انہوں نے کہا’’ آج سے ہم کاکروچ جنتا پارٹی کا ملک گیر احتجاج شروع کر رہے ہیں۔ پونے علم کا شہر ہے اس لئے اس کی شروعات ہم یہاں سے کر رہے ہیں۔ اب ہم اس احتجاج کو پورے ملک میں پھیلائیں گے۔ ‘‘ ابھیجیت دپکے نے کہا’’ مہاراشٹر چھترپتی شیواجی، جیوتی با پھلے اور بابا صاحب امبیڈکر کی دھرتی ہے۔ اس لئے میں توقع کرتا ہوں یہاں کے لوگ امتحانات میں ہو رہی دھاندلیوں کو دور کرنے کیلئے جمہوری طریقے سے ہونے والے احتجاج میں ہمارا ساتھ دیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: امراوتی: ایم آئی ایم کارپوریٹروں نے بی جے پی لیڈر کی گاڑی روکی
ابھیجیت دپکے نے کہا جمہوری طریقے سے احتجاج کرنے والوں کو شورش برپا کرنے والا کہا جا رہا ہے۔ جو لوگ آئین ہند کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں وہ شورش کیسے برپا کر سکتے ہیں؟ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ اگر کسی مقابلہ جاتی امتحان کا پرچہ لیک ہوتا ہے تو حکومت طلبہ کو بھرپائی کے طور پر ۱۰؍ ہزار روپے ادا کرے کیونکہ جب پیپر دینے جاتے ہیں تو ان کی رقم خرچ ہوتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگرکسی امتحان کے رزلٹ میں تاخیر ہوتی ہے تو حکومت طلبہ اس عرصے میں (ماہانہ) وظیفہ ادا کرے تاکہ وہ اپنی (تعلیم اور روزگار کے تعلق سے)جدوجہد جاری رکھ سکیں۔ اگر کسی امتحان کی تاریخ آگے بڑھائی گئی تو اس موقع پر بھی طلبہ کو نقصان کی بھر پائی دی جائے۔ ابھیجیت دپکے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ۲۰؍ جون کو دہلی میں جمع ہوں تاکہ سب مل کر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ مانگ سکیں۔ انہوں نے کہا آج سے ہمارا ملک گیر احتجاج شروع ہو چکا ہے۔ اب احتجاج کا یہ سلسلہ ملک کے مختلف شہروں میں جاری رہے گا۔