Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اداکار وہی کامیاب ہوتا ہے جو خود کو مسلسل بہتر بناتا رہتا ہے‘‘

Updated: June 26, 2026, 8:37 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

فلم اور ٹی وی اداکارہ اور پروڈیوسر پلوی چٹرجی نے تھیٹر شوز کیلئے مختلف مقامات پر پرفارم کیا ہے، اس کے ساتھ ہی وہ کارپوریٹ کی دنیا میں بھی کام کر چکی ہیں۔

Film and TV actress and producer Pallavi Chatterjee. Photo: INN
فلم اور ٹی وی اداکارہ اور پروڈیوسر پلوی چٹرجی۔ تصویر: آئی این این

بنگال کی فلمی صنعت سے آکر بالی ووڈ میں کام کرنے والی پلوی چٹرجی نے ایک مکمل دورانیے کی فیچر فلم ’شال والا‘ (ہندی) پروڈیوس کی ہے، جو مختلف فلمی میلوں میں نمائش کے لیے منتخب ہوئی۔ اب وہ اس فلم کو ریلیز کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے’خاکی: دی بنگال چیپٹر‘ اوردو بنگالی فلموں میں بھی کام کیاہے۔ اب وہ جلد ہی نکھل اڈوانی کی آنے والی سیریز ’دی ریوولوشنریز‘ میں بھی نظر آئیں گی۔ وہ اس سیریز کی ریلیز کا بے صبری سے انتظار کر رہی ہیں۔ فلم، ٹی وی، ویب سیریز اور تھیٹر کی دنیا میں ۳؍ دہائیوں سے کامیابی کے ساتھ کام کرنے اور بنگال میں اپنی شناخت قائم کرنے کے بعد انہوں نے مستقل طور پر ممبئی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے خود کو نئے انداز میں ڈھالا ہے اور ممبئی میں ایک اداکارہ یا کسی بھی تخلیقی شعبے میں ازسرِنو آغاز کرنے کا چیلنج قبول کیا ہے۔ وہ انڈسٹری میں ایک خودمختار اور خوداعتماد خاتون کی حیثیت پر اپنی شناخت برقرار رکھی ہے۔ اس کے علاوہ وہ کارپوریٹ دنیا میں بھی کام کر چکی ہیں اور اس ماحول سے بخوبی واقف ہیں۔ ممبئی میں گزشتہ دو سال سے مستقل سکونت اختیار کرنے کے بعد، وہ مزید ہندی فلموں، ویب سیریز اور ٹی وی کمرشیلز میں کام کرنے کی منتظر ہیں۔ گزشتہ دنوں انقلاب نے ان سے طویل گفتگو کی جس کے اہم اقتباسات یہاں پیش کئے جارہے ہیں :
سب سے پہلے آپ کے نئے پروجیکٹ کے بارے میں جاننا چاہیں گے۔ ہمیں اس کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
میرا ایک نیا پروجیکٹ آنے والا ہے جس کی شوٹنگ میں نے نکھل اڈوانی جی کے ساتھ کی تھی۔ اس کا نام ’دی ریولیوشنریز‘ ہے۔ یہ ایک ویب سیریز ہے اور اسے ایمے انٹرٹینمنٹ نے پروڈیوس کیا ہے۔ یہ جلد ہی امیزون پر ریلیز ہوگی۔ میں خود بھی اس کی ریلیز کا نہایت بے صبری سے انتظار کر رہی ہوں۔ اس سیریز میں میرا کردار کافی اچھا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے حال ہی میں ایک فلم میں بھی ایک مختصر سا کردار ادا کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آج کے ناظرین ’مین کریکٹر انرجی‘ سے وابستہ ہوتے ہیں : انل کپور

نکھل اڈوانی انڈسٹری کا ایک بڑا نام ہیں۔ ان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟ آپ نے ان سے کیا سیکھا؟
ج:میں نے نکھل سے یہ سیکھا کہ ایک ڈائریکٹر کو اپنے کام کے بارے میں کتنی وضاحت ہونی چاہئے۔ شدید گرمی میں بھی وہ پوری توجہ کے ساتھ کام کرتے تھے۔ ان کا کام کرنے کا طریقہ بہت شاندار ہے۔ وہ شوٹنگ سے پہلے ورکشاپ کرتے ہیں تاکہ ہر اداکار کو اپنے کردار کی مکمل سمجھ ہو جائے۔ اس کے بعد سیٹ پر کسی قسم کی الجھن یا بحث کی ضرورت نہیں رہتی۔ وہ اپنے کام پر غیر معمولی توجہ دیتے ہیں، یہاں تک کہ کئی بار کھانے کی بھی پروا نہیں کرتے۔ وہ فریم کے ہر چھوٹے سے چھوٹے حصے پر نظر رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ کام کر کے مجھے یہ احساس ہوا کہ ایک پروجیکٹ کے کپتان کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔ 
آپ کی اداکاری کا سفر کیسے شروع ہوا؟ آپ کو اداکاری کی طرف کس چیز نے راغب کیا؟
ج:جب میں نے اس شعبے میں کام شروع کیا تو میرے ذہن میں دو باتیں بالکل واضح تھیں۔ پہلی یہ کہ میرے پاس کوئی باقاعدہ اداکاری کی تعلیم یا ادارے کی ڈگری نہیں تھی لیکن میرے اندر اداکاری کا جذبہ تھا۔ دوسری بات یہ کہ ایک اداکار کیلئے صبر بہت ضروری ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ انڈسٹری میں آتے ہی شہرت مل جائے گی، لیکن ایک اداکار ہر روز سیکھتا ہے۔ اگر آپ یہ سوچ لیں کہ آپ کو کسی بھی چیز کی پوری معلومات حاصل ہوگئی ہے تو پھر آپ کی ترقی رک جاتی ہے۔ اداکار کو مسلسل خود کو بہتر بناتے رہنا چاہئے۔ اس کے علاوہ نظم و ضبط کی پابندی اور وقت ضرورت قربانیاں بھی ضروری ہیں۔ جب میں نے کام شروع کیا تو ڈجیٹل پلیٹ فارم نہیں تھے۔ میں نے دیکھا کہ اداکارائیں اکثر ایک وقت کے بعد انڈسٹری سے غائب ہو جاتی ہیں یا انہیں محدود کردار ملنے لگتے ہیں۔ میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ میں اس صنعت میں طویل عرصے تک کیسے قائم رہ سکتی ہوں۔ اسی لیے میں نے پروڈکشن کی طرف بھی قدم بڑھایا تاکہ کیمرے کے پیچھے بھی کام کر سکوں۔ 
آپ بیک وقت پروڈیوسر، اداکارہ اور رائٹر ہیں۔ اتنے سارے کام کیسے سنبھال لیتی ہیں؟
ج:اگر آپ کسی بھی عورت کو دیکھیں، خواہ وہ پیشہ ورانہ ملازمت میں ہو یا پھر خاتون خانہ ہو، وہ گھر میں بے شمار ذمہ داریاں نبھاتی ہے۔ ایک خاتون بچوں کو، خاندان کو، گھر اور دیگر کاموں کو ایک ساتھ سنبھالتی ہے۔ ہم بھی انسان ہیں ، اسلئے جب کوئی کام پسند ہو تو اسے کرنے کا راستہ نکال لیتے ہیں۔ اگر میرے پاس وقت ہوتا ہے تو میں لکھتی بھی ہوں۔ لکھنا ایک خوبصورت عمل ہے کیونکہ آپ اپنے خیالات اور جذبات کو کاغذ پر اتار سکتے ہیں۔ میں نے کبھی اپنے آپ کو صرف ایک شعبے تک محدود نہیں رکھا۔ میں نے کارپوریٹ فلمیں بنائیں، اشتہارات بنائے، ایونٹس کیے اور پروڈکشن کا کام کیا۔ میں بنگال سے تعلق رکھتی ہوں۔ وہاں اداکاری سے اتنی آمدنی نہیں ہوتی تھی کہ صرف اسی پر گزارا ہو سکے۔ میرا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ میں ایک سنگل مدر ہوں، اس لیے میرے لیے متعدد شعبوں میں کام کرنا ایک ضرورت بھی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: سنی دیول اور اکشے کھنہ کا ’اکّا‘ میں ایک ساتھ آنا، واقعی خدا کا منصوبہ ہے: سِدھارتھ

آپ کی اصل مہارت کس میں ہے؟ اداکاری، پروڈکشن، ہدایت کاری یالکھنے میں ؟
ج: میری پہلی محبت اور میری اصل پہچان اداکاری ہی ہے۔ اگر مجھے انتخاب دیا جائے تو میں سب سے پہلے اداکاری ہی کو منتخب کروں گی۔ اس کے علاوہ دیگر تمام کام میں نے اپنی بقا اور انڈسٹری میں قائم رہنے کیلئے سیکھے ہیں۔ مجھے اداکاری کرنا بہت پسند ہے اور میں مستقبل میں بھی اچھے کردار ادا کرنا چاہتی ہوں۔ 
آپ نے بنگالی انڈسٹری میں کافی کام کیا اور اب ممبئی میں کام کر رہی ہیں۔ دونوں انڈسٹریز میں کیا فرق ہے؟
ج: دونوں انڈسٹری میں فرق بہت زیادہ ہے۔ بنگالی فلم انڈسٹری نسبتاً چھوٹی ہے، اس کے بجٹ بھی محدود ہوتے ہیں اور وسائل بھی کم ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ممبئی کی انڈسٹری بہت بڑی ہے، یہاں مواقع زیادہ ہیں، بجٹ بڑے ہوتے ہیں اور کام کا پیمانہ بھی مختلف ہے۔ 
کیا آپ کو تھیٹر میں کام کرنا بھی پسند ہے؟
ج:میں نے تھیٹر شوز کیلئے مختلف مقامات پر پرفارم کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان پروگراموں کوماچا شوز کہا جاتا ہے جو اضلاع اور دیہی بنگال میں منعقد ہوتے ہیں، اس کے ساتھ ہی کارپوریٹ شوز میں بھی شرکت کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ کام کرتے رہنا ہی وہ واحد چیز ہے جس سے مجھےحقیقی خوشی ملتی ہے اور جومجھے متحرک اور زندہ دِل رکھتی ہے۔ میرے ساتھ باصلاحیت مصنفین کی ایک اچھی ٹیم بھی کام کرتی ہے، اور میں ان کے ساتھ مسلسل نیا مواد (کانٹینٹ) تیار کرتی رہتی ہوں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK