جھارکھنڈ میں احتجاج کر رہے طلبہ نے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کے استعفے کا مطالبہ کیا ، ساتھ ہی کانگریس سےجے ایم ایم حکومت سےحمایت واپس لینے کی بھی اپیل کی۔
EPAPER
Updated: August 16, 2026, 7:18 PM IST | Ranchi
جھارکھنڈ میں احتجاج کر رہے طلبہ نے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کے استعفے کا مطالبہ کیا ، ساتھ ہی کانگریس سےجے ایم ایم حکومت سےحمایت واپس لینے کی بھی اپیل کی۔
جھارکھنڈ کے طلبہ جو جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی (JPSC-JSSC) امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، انہوں نے اپنی تحریک تیز کر دی ہے اور وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے۲۰؍ اگست کو وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرنے اور سورین اور راہل گاندھی کے پتلے جلانے کا اعلان کیا ہے۔جھارکھنڈ میں طلبہ کا احتجاج ۲۳؍ ویں دن میں داخل ہو گیا، جس نے مظاہرین کو وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کے استعفے کا مطالبہ کرنے پر مجبور کر دیا، کیونکہ انہوں نے حکمران جھارکھنڈ مکتی مورچہ (JMM) اور کانگریس اتحاد پر اپنے کیریئر کے ساتھ سیاست کرنے کا الزام عائد کیا۔بعد ازاں طلبہ لیڈروں نے اعلان کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ۲۰؍ اگست کو وزیراعلیٰ ہیمنت سورین کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کریں گے۔ مہم کو تیز کرنے کے سلسلے میں، طلبہ لیڈروں نے۱۶؍ اگست کو جھارکھنڈ کی تمام۲۴؍ ضلعی ہیڈکوارٹرز میں وزیراعلیٰ سورین اور سینئر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے پتلے جلانے کا بھی اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھئے: یوگی سرکار نوجوانوں سے خوفزدہ، رام کرنے کیلئے پالیسی کا اعلان
واضح رہے کہ طلبہ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن، جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (JPSC-JSSC) کے امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے، انہوں نے رانچی میں اسمبلی کی طرف مارچ کیا اور انہیں لاٹھی چارج، آنسو گیس اور پانی کی توپوں کا سامنا کرنا پڑا۔جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی ریفارمز منچ کے لیڈر رویندر پاسوان نے کہا، ’’ہم ۲۰؍ اگست کو وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کریں گے۔ ہم ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں کیونکہ جے ایم ایم اور کانگریس دونوں ہمارے ساتھ سیاست کر رہے ہیں۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ کانگریس لیڈرراہل گاندھی جے ایم ایم کی زیرقیادت اتحاد سے حمایت واپس لیں اگر وزیراعلیٰ ان کی بات نہیں سن رہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مہوا موئترا کو رات کے وقت سرکٹ ہائوس خالی کرنے کا حکم
دوسری طرف، جھارکھنڈ حکومت نے۱۴؍ویں جے پی ایس سی مشترکہ سول سروسز کے ابتدائی امتحان سمیت تین امتحانات منسوخ کرنے پر اتفاق کر لیا۔ ریاستی حکومت نے۱۴؍ویںجے پی ایس سی امتحان سے متعلق مالی بے ضابطگیوں میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کو شامل کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ تاہم حکومت نے معاملے کو ریاستی سی آئی ڈی سے سی بی آئی کو منتقل کرنے پر اتفاق نہیں کیا۔ سی آئی ڈی نے جھارکھنڈ پی ایس سی کے سابق سربراہ ایل کھیانگٹے کو گرفتار کر لیا۔وزیراعلیٰ سورین نے ایکس پر ایک پوسٹ میںکہا کہ مظاہرین طلبہ نے پرامن طریقے سے اپنے مطالبات اٹھائے ہیں اور ان کے خیالات کا اظہار ان کا جمہوری حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے تحفظات کا احترام کرے اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے مطالبات کو سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ حل کیا جائے گا۔سورین نے کہا کہ حکومت طلبہ کے ساتھ مسلسل مذاکرات کر رہی ہے اور قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف کارروائی بھی کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مستقبل میں طلبہ کو ایسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ جھارکھنڈ مسائل پر بات کرنے سے آگے بڑھ کر حل تلاش کر کے ایک مثال قائم کرے۔
مزید برآںسورین نے کہا کہ’’ کچھ اپوزیشن لیڈروں نے پرامن تحریک میں خلل ڈالنے اور سیاسی مفادات کے لیے طلبہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ اس قسم کی کسی بھی سیاسی بیانیے کے جال میں نہ پھنسیں۔ آپ جھارکھنڈ کا مستقبل ہیں۔‘‘