Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنی دیول اور اکشے کھنہ کا ’اکّا‘ میں ایک ساتھ آنا، واقعی خدا کا منصوبہ ہے: سِدھارتھ

Updated: June 26, 2026, 6:16 PM IST | Mumbai

فلمساز نے کہاکہ یہ میری جدوجہد تھی کہ جب بھی کوئی مجھ سے آ کر پوچھتا کہ کیا میرے پاس کوئی اسکرپٹ ہے تو میں کہتا ہاں، میرے پاس ’اکّا‘ ہے۔ اسے پڑھو اور لوگ اسے پڑھ کر پسند بھی کرتے تھے۔

Akshaye Khanna Aur Sunny Deol.Photo:INN
سنی دیول اور اکشے کھنہ۔ تصویر:آئی این این

فلمساز سِدھارتھ پی ملہوترا نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی آنے والی کورٹ روم ڈرامہ فلم ’اکّا‘، جس میں سنّی دیول اور اکشے کھنہ تقریباً تین دہائیوں بعد ایک ساتھ نظر آئیں گے (۱۹۹۷ء کی فلم ’بارڈر‘ کے بعد)، دراصل ایک ایسی  اسکرپٹ تھی جو وہ تقریباً ۹؍ سال تک اپنے پاس رکھے رہے اور آخرکار یہ اسکرین تک پہنچ سکی۔

یہ بھی پڑھئے:رتیک روشن نے رجنی کانت کے ساتھ ’’جیلر ۲‘‘ کی شوٹنگ مکمل کی

ملہوترا نے اس فلم کے طویل اور غیر یقینی سفر کو یاد کیا اور بتایا کہ یہ وہ پہلی اسکرپٹ تھی جسے وہ بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا’’یہ میری جدوجہد تھی کہ جب بھی کوئی مجھ سے آ کر پوچھتا کہ کیا میرے پاس کوئی اسکرپٹ ہے تو میں کہتا ہاں، میرے پاس ’اکّا‘ ہے۔ اسے پڑھو اور لوگ اسے پڑھ کر پسند بھی کرتے تھے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پروجیکٹ کئی بار شروع ہونے کے قریب پہنچا لیکن کاسٹنگ اور کمرشیل مسائل کی وجہ سے بار بار رک جاتا رہا۔
اس دوران سِدھارتھ نے ’’وی آر فیملی‘،’ ’ہچکی‘‘ (جس کو مکمل ہونے میں سات سال لگے) اور’ ’مہاراج‘‘ جیسی فلمیں بھی ڈائریکٹ کیں۔ ایک اور پروجیکٹ جو سنی دیول کے ساتھ نیٹ فلکس کے لیے تھا وہ بھی آگے نہ بڑھ سکا، جس کے بعد ’اکّا‘ دوبارہ سامنے آئی۔ انہوں نے بتایا’’نیٹ فلکس والوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میرے پاس کچھ ہے۔ میں نے کہا کہ میرے پاس پھر سے ’اکّا‘ ہے، سنو... میں نے کہا میں یہ بات ۹؍ سال سے سن رہا ہوں، اب بتاؤ کرنا ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا ہاں، ہم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
سِدھارتھ کے مطابق انہوں نے یہ اسکرپٹ ڈیڑھ سال پہلے سنی دیول کو فلم ’’بٹوارہ‘‘ کے سیٹ پر سنائی تھی ،  جس پر دیول نے فوراً پوچھا کہ شوریہ مان کا کردار کون ادا کرے گا۔ ملہوترا نے جواب دیا ’’سر، میں چاہتا ہوں اکشے کھنہ کریں۔‘‘ سنی دیول نے پوچھا کہ کیا وہ کریں گے؟ جس پر سِدھارتھ نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم، شاید انکار ملے، لیکن کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اکشے کھنہ نے کہانی سننے کے دو دن کے اندر ہاں کہہ دی اور اسی ہفتے معاہدہ بھی ہو گیا جبکہ اکتوبر میں لک ٹیسٹ اور نومبر، دسمبر میں شوٹنگ مکمل کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے:۷۱؍فیصد ہندوستانی شہریوں کی فٹبال ورلڈ کپ وزیٹر ویزا درخواست مسترد


۱۹۹۳ء کی کلاسک کورٹ روم فلم ’’دامنی‘‘ سے موازنہ پر سِدھارتھ نے واضح کیا کہ ’اکّا‘ کا انداز مختلف ہے۔ ان کے مطابق ’’دامنی‘‘ میں کورٹ روم حصے صرف آخری  ۱۵؍ سے ۲۰؍ منٹ میں آتے ہیں، جبکہ ’اکّا‘ مکمل طور پر ایک کورٹ روم ڈرامہ ہے جو شروع سے ہی کہانی کا حصہ ہے اور وکیل ارجن مہرا کے ذاتی سفر کو دکھاتا ہے۔
ہدایتکار نے یہ بھی کہا کہ فلم میں سنی دیول کا ایک مختلف روپ دیکھنے کو ملے گا۔آپ کو ایک ٹوٹا ہوا سنی دیول ملے گا، ’گھائل‘ والا سنی دیول۔ وہ شخص جو روتا بھی ہے اور مجبوراً کہتا بھی ہے کہ میں یہ کیوں کر رہا ہوں، مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK