Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میں یہ بات جان گئی ہوں کہ انسان کو سیکھنے کا عمل کبھی نہیں چھوڑنا چاہئے‘‘

Updated: June 14, 2026, 11:16 AM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

فلم اور ٹی وی اداکارہ پلوی پروہت کا کہنا ہے کہ میری زندگی صرف اداکاری تک محدود نہیں ہے بلکہ میں الگ الگ شعبوں میں بھی کچھ سیکھنے اور آگے بڑھنے کی خواہش رکھتی ہوں۔

Actress Pallavi Purohit. Photo: INN
اداکارہ پلوی پروہت۔ تصویر: آئی این این

ٹی وی انڈسٹری کا ایک معروف نام پلوی پروہت  ہے جنہوں نے جنوبی ہند سے آکر ہندی انڈسٹری میں اپنی پہچان بنائی ہے۔انہوں نے جنوبی ہند کے معروف اداکاروں موہن لال اور مموٹی کے مقابل کام کیا ہے اور ان کے ساتھ بڑا پردہ شیئر کیاہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سبھاش گھئی کی فلم ’کانچی‘ میں بھی اہم رول ادا کیا تھا۔ اس کے بعد وہ ٹی وی انڈسٹری میں مصروف ہوگئیں۔ انہوں نے بالاجی ٹیلی فلمز کے کئی معروف شوز میں کام کیا ہےجن میں ’کہانی گھر گھر کی‘،’کرم اپنا اپنا‘ اور’قسم سے‘ نامی شوز شامل ہیں۔ انہوں نے’ مدھو بالا: ایک عشق ایک جنون‘ میں بھی اہم کردار نبھایا ہے۔انقلاب سے ان کی ہونے والی طویل گفتگو کے اہم اقتباسات یہاں  پیش  کئے جارہے ہیں:

 اس وقت آپ کس شو میں مصروف ہیں اور کیا کر رہی ہیں؟

ج: فی الحال میں ’دو دنیا ایک دل‘ نامی شو میں مصروف ہوں۔ یہ ایک ڈیلی سوپ ہے اور رات ساڑھے ۱۰؍ بجے نشر ہوتا ہے۔ اس میں مصروف ہوں اور کوشش کررہی ہوں کہ اپنے کردار کے سا تھ پوری طرح سے انصاف کرسکوں۔ امید ہے کہ شائقین میرے کام سے متاثر ہورہے ہوں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بخار کے باوجود ویدانگ رائنا نے پوری توانائی کے ساتھ شوٹنگ میں حصہ لیا تھا

اس شو میںاپنے کردار کے بارے میں کچھ بتانا چاہیں گی؟ کیا یہ کردار آپ کی ذاتی زندگی سے ملتا جلتا ہے یا مختلف ہے؟

ج:میری ذاتی زندگی سے یہ کردار بہت مختلف ہے۔ صرف ایک چیز مشترک ہے کہ اس کردار کا نام بھی پلوی ہے اور میرا نام بھی پلوی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی مماثلت نہیں۔ اس شو میں پلوی ایک بہت فرماں بردار اور دباؤ میں رہنے والی خاتون ہے۔ وہ اپنے شوہر سے خوفزدہ رہتی ہے۔ اگرچہ وہ تعلیم یافتہ اور سمجھدار ہے، لیکن گھر کے اندر شوہر کے سامنے اس کی آواز نہیں نکلتی۔ وہ ہمیشہ شوہر اور بیٹی کے درمیان پستی رہتی ہے اور سمجھ نہیں پاتی کہ کس کا ساتھ دے۔ اگر شوہر کا ساتھ دے تو بچوں کیلئے مشکل اور اگر بچوں کا ساتھ دے تو شوہر ناراض ہو جاتا ہے۔

آپ کا ابتدائی سفر کیسا رہا؟ آپ نے یہ مقام کیسے حاصل کیا؟

ج:یہ سفر کافی دلچسپ تھا، کیونکہ ایک بار جب میں نے اپنی جدوجہد شروع کی تو پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میں جنوبی ہندوستان سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرا تعلق ایک چھوٹے سے قصبے کمٹا سے ہے، جو گوکرن، گوا اور منگلور کے درمیان واقع ہے۔ گوکرن ایک مشہور سیاحتی مقام ہے اور ہمارا قصبہ اس سے تقریباً ۲۰؍ کلومیٹر دور ہے۔ میں ایک ایسے ماحول میں پلی بڑھی ہوں جہاں اسکولوں میں بچے زمین پر بیٹھتے تھے، فرش پر گوبر کا لیپ کیا جاتا تھا، پھر آہستہ آہستہ بینچ آئی اور بعد میں پنکھے لگے۔ میرے ہم جماعت آج بیرونِ ملک بڑے عہدوں پر فائزہیں؛ کوئی ریاضی داں ہے تو کوئی سائنس دان اور کوئی بینکر، لیکن میں واحد تھی جس کا دل تفریحی صنعت کی طرف مائل تھا۔ اگرچہ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اداکارہ بنوں گی، لیکن مجھے ڈراموں، گلوکاری اور رقص کے مقابلوں میں حصہ لینا شروع ہی سے بہت پسند تھا۔ پڑھائی میں میری دلچسپی کم تھی اور اسی وجہ سے اکثر اساتذہ سے ڈانٹ بھی پڑتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: موہن لال کی’’درشیم ۳‘‘ ۱۸؍ جون کو او ٹی ٹی پر ریلیز ہوگی

 ہاسپیٹیلٹی سے اداکاری کی سمت سفر کیسے ممکن ہوا؟

ج:میرے والد سائنس داں ہیں، اسلئے مجھ پر سائنس پڑھنے کا دباؤ تھا۔ بعد میں انہوں نے مجھے ہاسپیٹیلٹی انڈسٹری کے ایک کورس میں داخل کروایا کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ میری شخصیت لوگوں سے گھلنے ملنے والی ہے اور یہ شعبہ میرے لیے بہتر ہوگا۔میں نے اس شعبے میں اچھی کارکردگی دکھائی اور بعد میں جے ڈبلیو میریئٹ میں انٹرن شپ کی۔ وہاں بین الاقوامی فلم فیسٹیولز منعقد ہوتے تھے جہاں ہالی ووڈ، بالی ووڈ اور جنوبی ہندوستان کے بڑے ستارے آتے تھے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ یہ دنیا اتنی دور نہیں جتنی میں سمجھتی تھی۔ میں ان ستاروں کو سروس فراہم کر رہی تھی اور میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں اس طرف کیوں ہوں، میں بھی اُس طرف جا سکتی ہوں جہاں وہ لوگ ہیں۔ کورس مکمل کرنے کے بعد میں بنگلور کے اوبرائے ہوٹل میں ملازمت کر رہی تھی۔ ایک دن اخبار میں اداکاری کے آڈیشن کا اشتہار دیکھا۔ میں نے رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ ممبئی آنا ہوگا۔ میرے والدین پہلے گھبرا گئے کیونکہ میری اچھی ملازمت تھی اور مستقبل روشن تھا، لیکن میں نے انہیں سمجھایا کہ اگر اداکاری میں کامیاب نہ ہوئی تو میرے پاس واپس آنے کیلئے راستہ موجود ہے۔ آخر کار والد صاحب نے میرا ساتھ دیا۔

 کیا آپ کو اپنی  والدہ کو راضی کرنے میں زیادہ دشواری پیش آئی تھی؟  اس کے علاوہ ممبئی میں آپ کیلئے سب سے بڑی مشکل کیا تھی؟ اور آپ نےاسے کس طرح حل کیا؟

ج: میری والدہ ابتدا میں راضی نہیں تھیں۔ چھوٹے شہر میں ایک سائنس داں کی بیٹی کا اداکارہ بننے کیلئے جانا لوگوں کی نظروں میں عجیب سمجھا جاتا تھا۔ انہیں سماجی دباؤ کا سامنا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے۔ لیکن میں اپنے خواب کے پیچھے چل پڑی۔سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ مجھے ہندی بالکل نہیں آتی تھی اور میرا جنوبی ہندوستانی لہجہ بہت نمایاں تھا۔ میں نے ہندی اور اردو کی ٹیوشن لینا شروع کی، گرامر سیکھی، اخبارات اور مضامین بلند آواز میں پڑھنے لگی۔ مسلسل محنت کے بعد میں نے آڈیشن دینا شروع کیا اور صرف چھ ماہ کے اندر مجھے بالاجی ٹیلی فلمز کے کئی ڈراموں میں کام مل گیا، جن میں ’کہانی گھر گھر کی‘،’کرم اپنا اپنا‘ اور’قسم سے‘ جیسے بڑے شوز شامل ہیں۔ اس طرح میرے کریئر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

فلم اور ٹی وی میں کام کرنے کا فرق کیسا تھا؟

ج: ٹی وی میں زیادہ تر کلوز اپ شاٹس ہوتے ہیں، اس لیے اداکاری کا انداز مختلف ہوتا ہے جبکہ فلموں میں وائڈ شاٹس زیادہ ہوتے ہیں، جہاں جسمانی حرکات، باڈی لینگویج اور تاثرات کو زیادہ فطری اور باریک رکھنا پڑتا ہے۔ ٹی وی میں بعض اوقات قدرے بلند انداز کی اداکاری چل جاتی ہے، لیکن فلموں میں زیادہ نفاست درکار ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ڈیوڈ بیکھم کو ہالی ووڈ واک آف فیم، ٹام کروز کا جذباتی خراجِ تحسین

آپ کے کریئر کا کوئی ایسا کردار جو آپ کے دل کے قریب ہو؟

ج: میرے لیے ہر کردار خاص ہے کیونکہ ہر کردار کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔ تاہم ذاتی طور پر ’مدھوبالا: ایک عشق ایک جنون‘ میں ادا کیا گیا پدمنی کا کردار میرے دل کے بہت قریب ہے۔ اس کردار کے ذریعے لوگوں نے مجھے بے حد محبت دی اور میری مقبولیت میں بہت اضافہ ہوا۔

 بالی ووڈ میں آپ نےصرف ایک ہی فلم میں کام کیا؟ اس کے بعد آپ نے بعد میں فلموںمیں کام کیوں نہیں کیا؟

ج: بالی ووڈ میں مجھے موقع ملا۔ میں نے فلم ’کانچی‘ میں کام کیا۔ اس فلم میں میرا کردار مشہور اداکارمتھن چکرورتی کے مقابل تھا۔ یہ تجربہ میرے لیے بہت یادگار رہا۔بعد میں میں نے کام سے کچھ وقفہ لیا کیونکہ میں دنیا گھومنا چاہتی تھی اور اپنے دیگر شوق پورے کرنا چاہتی تھی۔ میں بھارت ناٹیم رقاصہ ہوں اور اس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہوں۔ اسی طرح ہندوستانی کلاسیکی موسیقی بھی سیکھ رہی ہوں۔ میری زندگی صرف اداکاری تک محدود نہیں رہی بلکہ میں مختلف شعبوں بھی کچھ میں سیکھنے اور آگے بڑھنے کی خواہش رکھتی ہوں۔ جہاں تک مقابلے کا تعلق ہے، میں سمجھتی ہوں کہ ہر نئے  اداکار سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اس شعبے میں مسلسل خود کو بہتر بنانا ضروری ہے، کیونکہ کامیابی کا راز یہی ہے کہ انسان سیکھنے کا عمل کبھی نہ چھوڑے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK