Updated: September 28, 2026, 9:03 AM IST
| Beijing
چین میں آن لائن پلیٹ فارمز اپنی شکل و شباہت لائسنس پر دینے کے خواہشمند افراد کو اے آئی سے تیار کردہ مواد بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ تیزی سے جوڑ رہے ہیں۔ اگرچہ کچھ فہرستوں میں ۱۵ ہزار ڈالر تک کے معاوضہ کے اعداد و شمار کی تشہیر کی جاتی ہے، لیکن عام سودوں میں فی قسط ۱۵ سے ۷۴ ڈالر (تقریباً ۱۵۰۰ سے ۷۰۰۰ روپے) کے درمیان ادائیگی کی جاتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی پروڈیوسرز کو ہر منظر کیلئے اداکاروں کی خدمات حاصل کرنے سے بچاتی ہے اور اس کے بجائے وہ اس شخص کو دوبارہ اسٹوڈیو میں لائے بغیر تبدیل شدہ لباس، پس منظر، حرکات و سکنات اور مکالموں کے ساتھ لائسنس شدہ چہرے کا فوٹیج تیار کر لیتے ہیں۔
’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، چین میں بڑی تعداد میں لوگ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے مواد تیار کرنے والوں کو لائسنس کے تحت اپنی ظاہری شکل و شباہت کے حقوق دے رہے ہیں۔ اس کے تحت، لوگ ویڈیوز، اشتہارات، گیمز اور دیگر ڈجیٹل پروڈکشنز میں استعمال کیلئے اپنے چہرے عملاً کرائے پر دے رہے ہیں۔ شخص کی ظاہری شکل اور معاہدے کی شرائط کے مطابق، قیمتیں کم سے کم ۵۰ یوآن (تقریباً ۷۱۵ روپے) سے لے کر زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ یوآن (تقریباً ۱۵ ہزار ڈالر یا تقریباً ۱۴ لاکھ ۳۵ ہزار روپے) تک ہیں۔
ایک بار جب کسی چہرے کو ڈجیٹل طور پر محفوظ کرلیا جاتا ہے، تو اے آئی ٹیکنالوجی اس شخص کے دوبارہ کیمرے کے سامنے آئے بغیر اس کے مشابہ نیا فوٹیج تیار کر سکتی ہے۔ ۲۷ سالہ بینک ملازم، جن کا خاندانی نام ہوانگ ہے، نے آن لائن پلیٹ فارمز پر دوسروں کو ایسا کرتے دیکھ کر اپنے چہرے کے حقوق لائسنس پر دینے کا فیصلہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق، تین دنوں کے اندر ان کے چہرے کی تصویر کو سات بار لائسنس کیا گیا، جس سے انہوں نے تقریباً ۲۶۰۰ یوآن (قریباً ۳۵ ہزار روپے) کمائے۔
یہ بھی پڑھئے: سلامتی کونسل میں اے آئی لیڈران کا انتباہ: دنیا اے آئی پر کنٹرول کھو سکتی ہے
چین میں آن لائن پلیٹ فارمز اپنی شکل و شباہت لائسنس پر دینے کے خواہشمند افراد کو اے آئی سے تیار کردہ مواد بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ تیزی سے جوڑ رہے ہیں۔ اگرچہ کچھ فہرستوں میں ۱۵ ہزار ڈالر تک کے معاوضہ کے اعداد و شمار کی تشہیر کی جاتی ہے، لیکن ’ریسٹ آف ورلڈ‘ کی ایک علیحدہ رپورٹ میں پایا گیا کہ عام سودوں میں فی قسط ۱۵ سے ۷۴ ڈالر (تقریباً ۱۵۰۰ سے ۷۰۰۰ روپے) کے درمیان ادائیگی کی جاتی ہے، خاص طور پر چین کی اے آئی سے تیار کردہ مختصر ڈراموں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں ادائیگی کی یہی صورتحال ہے۔
یہ ٹیکنالوجی پروڈیوسرز کو ہر منظر کیلئے اداکاروں کی خدمات حاصل کرنے سے بچاتی ہے اور اس کے بجائے وہ اس شخص کو دوبارہ اسٹوڈیو میں لائے بغیر تبدیل شدہ لباس، پس منظر، حرکات و سکنات اور مکالموں کے ساتھ لائسنس شدہ چہرے کا فوٹیج تیار کر لیتے ہیں۔ کچھ پلیٹ فارمز صارفین کو اپنی تصاویر اپ لوڈ کرنے اور اپنے ڈجیٹل نقوش براہِ راست خریداروں کو پیش کرنے کی سہولت دیتے ہیں، جس سے محنت یا وقت کے بجائے ظاہری شکل کو آمدنی کا ذریعہ بنانے پر مبنی گِگ ورک (gig work) کی ایک نئی شکل وجود میں آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی کو’درد‘ ہوتا ہے، تکلیف سے بچنے کیلئے انسانوں کونقصان پہنچاسکتا ہے: تحقیق
یہ عمل رضامندی اور کنٹرول کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیتا ہے کیونکہ ایک لائسنس شدہ چہرہ ایسے مواد میں ظاہر ہو سکتا ہے جس میں اس شخص نے خود کبھی جسمانی طور پر حصہ نہ لیا ہو۔ اس کی وجہ سے لائسنسنگ کی شرائط بشمول مدت، مواد پر پابندیاں اور ذیلی لائسنسنگ کے حقوق، خاص طور پر اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ چین نے ڈیپ فیکس اور مصنوعی میڈیا سے نمٹنے کیلئے قوانین متعارف کرائے ہیں، لیکن ڈجیٹل نقوش کی تجارتی منڈیاں تیزی سے پھیل رہی ہیں کیونکہ اے آئی کی تیار کردہ ویڈیو سستی اور زیادہ حقیقت پسندانہ ہوتی جا رہی ہے۔