لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ایک بار پھر انتخابی عمل پر سنگین سوال اٹھاتے ہوئے ’ووٹ چوری‘ کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کی جانبداری پر سوال اٹھائے۔
EPAPER
Updated: May 06, 2026, 10:39 AM IST | New Delhi
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ایک بار پھر انتخابی عمل پر سنگین سوال اٹھاتے ہوئے ’ووٹ چوری‘ کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کی جانبداری پر سوال اٹھائے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ایک بار پھر انتخابی عمل پر سنگین سوال اٹھاتے ہوئے ’ووٹ چوری‘ کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کی جانبداری پر سوال اٹھائے۔
راہل گاندھی نے بدھ کو کہا کہ ’’ووٹ چوری سے کبھی سیٹیں چرائی جاتی ہیں، کبھی پوری حکومت۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا میں بی جے پی کے ۲۴۰؍ اراکین پارلیمنٹ میں سے ’’تقریباً ہر چھٹا رکن پارلیمنٹ ووٹ چوری سے جیتا ہے۔‘‘انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگوں کو کیا بی جے پی کی زبان میں’گھس پیٹھیا‘ کہا جانا چاہیے۔ ہریانہ کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ’’وہاں تو پوری حکومت ہی گھس پیٹھیا ہے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ جو اداروں کو اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں اور ووٹر لسٹوں و انتخابی عمل میں ہیر پھیر کرتے ہیں، وہ خود ’ریموٹ کنٹرول‘ سے چل رہے ہیں۔ گاندھی نے یہ بھی کہا کہ منصفانہ انتخابات ہونے پر برسراقتدار جماعت ۱۴۰؍ سیٹوں کے آس پاس بھی نہیں پہنچ پائے گی۔
یہ بھی پڑھئے:میچ میں رولیکس گم گئی تھی، تقریب میں اندرا گاندھی بھی شریک ہوئی تھیں: زینت امان
اس دوران، مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے تعلق سے بھی سیاست تیز ہوگئی ہے۔ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی سمیت اپوزیشن کے کئی بڑے لیڈروں نے الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت پر سوال اٹھائے ہیں۔ واضح رہے کہ بی جے پی نے مغربی بنگال میں تاریخی جیت درج کرتے ہوئے ترنمول کانگریس کے ۱۵؍ سال پرانے اقتدار کا خاتمہ کر دیا ہے۔ بی جے پی لیڈروں نے راہل گاندھی کے الزامات کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے اسے ہار کی مایوسی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد ادارہ ہے، جس پر اس طرح کے الزامات جمہوری اداروں کو کمزور کرتے ہیں۔