Updated: November 29, 2025, 10:26 AM IST
| Mumbai
ہندوستانی سنیما کے اس میلے میں جہاں ستارے روز چمکتے اور روز ڈوبتے ہیں، کچھ نام ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی خاموشی، سادگی اور مسلسل جدوجہد سے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ پرتیک ببر بھی انہی چہروں میں سے ایک ہیں۔
پرتیک سمیتا پاٹل۔ تصویر:آئی این این
ہندوستانی سنیما کے اس میلے میں جہاں ستارے روز چمکتے اور روز ڈوبتے ہیں، کچھ نام ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی خاموشی، سادگی اور مسلسل جدوجہد سے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ پرتیک ببر بھی انہی چہروں میں سے ایک ہیں۔ فلمی دنیا کے دو روشن ستاروں،راج ببر اور سمیتا پاتل کے گھر پیدا ہونے والا یہ لڑکا بظاہر قسمت کا لاڈلا لگتا تھا، مگر تقدیرنےاس کے راستے میں وہ کانٹے بھی رکھے جن سے گزر کر ہی اس نے ایک مضبوط اداکار کا روپ اختیار کیا۔
یہ سفر فقط پردے کا نہیںیہ زندگی کی دھوپ چھاؤں، شکست و ریخت، خود سے لڑنے اور دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی کہانی ہے۔
پرتیک ببر۲۸؍نومبر ۱۹۸۶ءکوممبئی میںپیدا ہوئے۔ ماں سمیتا پاٹل،جن کی اداکاری آج بھی ایک حوالہ سمجھی جاتی ہے،پرتیک کی پیدائش کےچند دنوں بعد ہی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ اس سانحے نےپرتیک کی زندگی میں شروع سے ہی ایک خلا بو دیا۔وہ اپنے نانا نانی کے گھر پلے بڑھے، ایک ایسے ماحول میں جہاں ماں کی یاد تو تھی مگر اس کی آغوش نہ تھی۔والد راج ببر سیاسی اور فلمی مصروفیات میں گھِرے رہے، یوں پرتیک کا رشتہ دنیا سے پہلے ہی دن سے ’’فاصلوں‘‘ کے معلم کے طور پر جڑا۔یہ کم عمری کے زخم بعد میںان کی شخصیت کا حصہ بن گئے،تھوڑا اندر جھانکنے والا، تھوڑا تنہائی پسند، مگر گہری حساسیت رکھنے والا نوجوان۔
پرتیک نے اپنی تعلیم ساہتیہ سہواگ اور بعد ازاں فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا(ایف ٹی آئی آئی)سےحاصل کی۔ یہی وہ دن تھے جب انہوں نے ماڈلنگ اور اشتہارات کی دنیا میں قدم رکھا۔کیوٹی پوائنٹ، پیناسونک، اور دیگر بڑے برانڈز کے اشتہارات میں ان کے چہرے نے انڈسٹری کو متوجہ کیا۔ان اشتہارات میں ان کی سادگی، خاموش موجودگی اور کیمرے کے سامنے قدرتی انداز نے بتا دیا تھا کہ یہ لڑکا صرف ’’ہیرو‘‘ بننے نہیں آیا،یہ ’’اداکار‘‘ بننے کی فطرت رکھتا ہے۔
پرتیک نےاپنے فلمی کریئرکی ابتدا عامر خان پروڈکشنز کی نوجوانوں میں مقبول فلم ’جانے تو یا جانے نہ‘ سے کی۔ فلم میں ان کا کردار مرکزی نہیںتھا، مگر اثر مرکزی کرداروں سے کم بھی نہ تھا۔ گہری آنکھیں، تیز جذبات اور جیتا جاگتا درد،ان کی اداکاری نے انہیں فلم فیئر ایوارڈ فار بہترین ڈیبیو سمیت کئی نامزدگیاں دلائیں۔نقادوں نے کہا’’اس لڑکے کی اداکاری میں ماں کا سایہ صاف جھلکتا ہے،ایک خاموش چنگاری جو وقت آنے پر بھڑک سکتی ہے۔‘‘
فلم دھوبی گھاٹ (۲۰۱۰ء)گویا پرتیک کی صلاحیتوں کا کھلا اعلان تھی۔کرن راؤ کی ہدایتکاری میں انہوں نے ایک دبے کچلے مگر خوابوں سے بھرپور نوجوان کا کردار اس باریکی اور سچائی سے ادا کیا کہ انہیں عالمی سطح پر سراہا گیا۔
پرتیک نشے کی لت میں مبتلا ہوگئے تھے جس کیلئےانہوں نے علاج کروایاتب کہیں جاکر وہ زندگی اور فلمی دنیا میں لوٹ سکے۔ پرتیک نے متعدد بار بتایا کہ وہ ڈپریشن اور اکیلے پن سے لڑتے رہے ہیں۔ ۱۴؍ جنوری ۲۰۲۵ء کو انہوں نے پریہ بنرجی سے شادی کی جن سے جنوری ۲۰۲۴ء میں ان کی منگنی ہوئی تھی۔وہ آج بھی اپنی والدہ اسمتا پاتل کے قریب ترین محسوس کرتے ہیں۔ان کی یاد، ان کی فلمیں، ان کا فن، پرتیک کی سوچ اور فنکارانہ مزاج کو اب بھی سمت دیتا ہے۔یہی سبب ہے کہ مارچ ۲۰۲۵ء میں انہوں نے اپنا نام پرتیک پاٹل ببر سے تبدیل کرکےپرتیک سمیتا پاٹل رکھ لیا ہے۔