بالی ووڈمیں پریم ناتھ کو ایک ایسے اداکار کے طورپریاد کیا جاتا ہے جنہوں نے بطور ہیرو فلم انڈسٹری میں راج کرنےکےباوجود ویلن کےکردار کونئے روپ میں پیش کرکے ناظرین میں بے حد مقبولیت حاصل کی۔
EPAPER
Updated: November 04, 2026, 1:18 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
بالی ووڈمیں پریم ناتھ کو ایک ایسے اداکار کے طورپریاد کیا جاتا ہے جنہوں نے بطور ہیرو فلم انڈسٹری میں راج کرنےکےباوجود ویلن کےکردار کونئے روپ میں پیش کرکے ناظرین میں بے حد مقبولیت حاصل کی۔
بالی ووڈمیں پریم ناتھ کو ایک ایسے اداکار کے طورپریاد کیا جاتا ہے جنہوں نے بطور ہیرو فلم انڈسٹری میں راج کرنےکےباوجود ویلن کےکردار کونئے روپ میں پیش کرکے ناظرین میں بے حد مقبولیت حاصل کی۔۵۰ءکی دہائی میں پریم ناتھ نےکئی فلموں میں ہیرو کا کردار نبھایا اور ان میں کئی فلمیں کامیاب بھی رہیں لیکن انہیں اداکاراؤں کے پیچھے درختوں کے ارد گرد چکر لگاتے ہوئےگیت گانا راس نہیں آیا اور انہوں نے ہیرو کا کردار نبھانے کی تمام پیشکشوں کو ٹھکراتے ہوئے ویلن کے کردار کو ترجیح دی۔ ۲۱؍ نومبر ۱۹۲۶ءکوپشاورمیں پیدا ہوئے پریم ناتھ کوبچپن سے اداکاری کا شوق تھا۔ملک کی تقسیم کےبعد ان کا خاندان پشاور سے جبل پورمنتقل ہوگیا۔۵۰ءکی دہائی میں پریم ناتھ نے اپنے خوابوں کی تعبیر کیلئےممبئی کا رخ کیا اور پرتھوی را ج کپور کے’پرتھوی تھیٹر‘میں اداکاری کرنے لگے۔۱۹۴۸ءمیںانہوںنےفلم اجیت سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا لیکن وہ ناظرین کے درمیان اپنی شناخت نہیں بناسکے۔ ۱۹۴۸ء میں راج کپور کی فلم ’آگ‘ اور۱۹۴۹ءمیںبرسات کی کامیابی کے بعد پریم ناتھ کسی حد تک اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ ۱۹۵۳ء میں فلم عورت کی شوٹنگ کے دوران پریم ناتھ اداکارہ بینا رائے کی جانب متوجہ ہوئے اوربعدمیںان سے شادی کرلی۔ شادی کے بعد انہوں نےبینا رائے کے ساتھ مل کرفلم پروڈکشن کے میدان میں قدم رکھا اور اپنا پی این فلمز بینر قائم کیا۔
یہ بھی پڑھئے: عمر عبداللہ کی قاضی توقیر کی حمایت، کہا ’’میں انہیں ووٹ دوں گا‘‘
اس بینرتلےانہوں نے شگوفہ ، پریزنر آف گولکنڈہ،سمندراور وطن جیسی فلمیں بنائیںلیکن ان فلموں میںسےکوئی بھی فلم باکس آفس پر کامیابی حاصل نہیںکرسکی جس کے نتیجے میں انہیں مالی طور پر کافی نقصان اٹھاناپڑااورانہوں نے فلم پروڈکشن کے کام سےتوبہ کرلی اور اپنی پوری توجہ اداکاری پر مرکوز کردی۔ اسی دوران پریم ناتھ نے کچھ فلموں میں کام کیااوران فلموں کو کامیابی بھی ملی لیکن انہوں نے محسوس کیا کہ مرکزی ہیرو کے بجائے ویلن کے طور پر فلم انڈسٹری میں ان کا مستقبل زیادہ محفوظ رہے گا اور انہوں نے ویلن کے کردار نبھانے شروع کردیئے۔ اگران کی پسند کےکرداروں کی بات کریں تو انہوں نےسب سے پہلے اپنا پسندیدہ اورکبھی نہ بھلایا جانے والا کردار ۱۹۷۰ء میں ریلیز ہوئی فلم جانی میرا نام میں ادا کیا جسے شائقین نے کافی پسند کیا تھا۔ ۱۹۷۵ء میں ریلیز ہوئی فلم ’دھرماتما‘ میں ناظرین کو پریم ناتھ کی اداکاری کےنئے روپ دیکھنے کوملے۔ہالی ووڈفلم ’گاڈ فادر‘ پر مبنی اس فلم میں انہوں نے انڈر ولڈ ڈان ’دھرم داس دھرماتما‘ کا کردار سلور اسکرین پربہت خوبصورتی سے ادا کیا۔ بعدمیںاس فلم سے متاثر ہوکر دیگر کئی فلمیں بنیں۔
اپنی اداکاری میں یکسانیت سے بچنے اور خود کو کریکٹر ایکٹر کے طور پر پیش کرنے کے لئے انہوں نے۱۹۷۰ءمیںراج کپور کی فلم بابی میںفلم کی ہیروئن ڈمپل کپاڈیہ کےباپ کاکرداراداکیا۔اس فلم میں انہیں بہترین معاون اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا تھا۔ ۸۰ءکی دہائی میںصحت کی خرابی کے سبب انہوں نے فلموں میںکام کرنا بندکردیا تھا۔ ۱۹۸۵ء میںریلیزہوئی فلم ہم دونوں ان کے فلمی کرئیر کی آخری فلم تھی۔ڈائریکٹروں میں ان کی جوڑی مشہور پروڈیوسر ڈائریکٹر سبھاش گھئی، راج کپور، دیو آنند اور منوج کمار کے ساتھ کافی سراہی گئی۔ ہندی فلموں کے علاوہ پریم ناتھ نے امریکی ٹیلی ویژن سیریل’مایا‘میں ایک چھوٹاساکردار ادا کیا اس کےعلاوہ انہوںنےامریکی فلم ’کینر‘ میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ تقریبا۳؍ دہائیوں تک با اثراداکاری سےناظرین کے دل میں اپنی خاص شناخت بنانےوالےپریم ناتھ ۳؍ نومبر ۱۹۹۲ء کو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔