ہندوستانی فلمی دنیا میں پرتھوی راج کپور کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اداکاری کے ساتھ تھیٹر کو بھی اپنی زندگی کا اہم مقصد بنایا۔ فلموں میں شہرت اور کامیابی حاصل کرنے کے باوجود ان کی دلچسپی ہمیشہ اسٹیج اور ڈراموں میں برقرار رہی۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 12:37 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
ہندوستانی فلمی دنیا میں پرتھوی راج کپور کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اداکاری کے ساتھ تھیٹر کو بھی اپنی زندگی کا اہم مقصد بنایا۔ فلموں میں شہرت اور کامیابی حاصل کرنے کے باوجود ان کی دلچسپی ہمیشہ اسٹیج اور ڈراموں میں برقرار رہی۔
ہندوستانی فلمی دنیا میں پرتھوی راج کپور کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اداکاری کے ساتھ تھیٹر کو بھی اپنی زندگی کا اہم مقصد بنایا۔ فلموں میں شہرت اور کامیابی حاصل کرنے کے باوجود ان کی دلچسپی ہمیشہ اسٹیج اور ڈراموں میں برقرار رہی۔ تھیٹر سے ان کی محبت کا اندازہ اس بات سےلگایا جاسکتا ہے کہ راجیہ سبھا کا رکن بننے کے بعد بھی انہوں نے اپنے طور طریقوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور اپنی پوری تھیٹر ٹیم کے ساتھ ریل گاڑی کے تھرڈ کلاس ڈبے میں سفر کرتے رہے۔فلموں میں نام اور مقام بنانے کے باوجود پرتھوی راج کپور کا دل تھیٹر میں ہی اٹکا رہتا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ اچھے ڈرامے صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں بلکہ ملک کے چھوٹے بڑے شہروں کے عوام کو بھی انہیں دیکھنے کا موقع ملے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے ۱۹۴۴ء میں اپنی تھیٹر کمپنی ’پرتھوی تھیٹرس‘ قائم کی۔ اس کمپنی کا پہلا ڈراما ’شکنتلا‘ تھا۔ اس کے بعد ’دیوار‘، ’پٹھان‘، ’غدار‘، ’آہوتی‘ اور ’پیسہ‘ جیسے ڈرامے پیش کیے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: فلم ’’رامائن‘‘ کا دوسرا حصہ دیوالی ۲۰۲۸ء تک ملتوی،’’اسپرٹ‘‘ سے ٹکراؤ ٹل گیا
ان ڈراموں میں تفریح کے ساتھ سماجی مسائل، غربت، خاندانی تعلقات، ملک کی تقسیم اور ہندو مسلم اتحاد جیسے موضوعات کو بھی جگہ دی گئی۔پرتھوی تھیٹرس کی ٹیم کے ساتھ مختلف شہروں میں ڈرامے پیش کرنا آسان کام نہیں تھا۔ اس کے لیے پوری ٹیم کو مسلسل سفر کرنا پڑتا تھا۔ تھیٹر کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق، اس کمپنی نے اپنے ۱۶؍ سالہ سفر میں۱۱۲؍شہروں میں مجموعی طور پر۲۶۶۲؍شوپیش کیے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ پرتھوی راج کپور نے ان تمام شوز میں خود مرکزی کردار ادا کیا۔اسی دوران ۱۹۵۲ءمیں انہیں راجیہ سبھا کا نامزد رکن بنایا گیا اور وہ ۱۹۶۰ءتک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس وقت انہیں سرکاری حیثیت کے اعتبار سے کئی سہولتیں حاصل ہوسکتی تھیں، لیکن انہوں نے اپنے ساتھی فنکاروں سے الگ رہنے یا کسی خاص آسائش سے فائدہ اٹھانے کو ترجیح نہیں دی۔ وہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ ریل گاڑی کے تھرڈ کلاس ڈبے میں سفر کرتے تھے۔ ان کے لیے عہدے اور مرتبے سے زیادہ اہمیت اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہنے اور تھیٹر کے مشن کو جاری رکھنے کی تھی۔