Updated: July 04, 2026, 10:43 PM IST
| Cannes
بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ پرینکا چوپڑا نے کانز لائینز ۲۰۲۶ء میں گھریلو ذمہ داریوں سے متعلق روایتی صنفی تصورات کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھانا پکانا، صفائی کرنا اور گھر سنبھالنا صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر بالغ انسان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ڈجیٹل دور میں نوجوان تخلیق کاروں کے لیے بڑھتے مواقع پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ آج یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز نے فلمی صنعت میں داخل ہونے کے راستے پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیے ہیں۔
پرینکا چوپڑہ۔ تصویر: آئی این این
اداکارہ پرینکا چوپڑا نے گھریلو ذمہ داریوں اور صنفی کرداروں کے حوالے سے روایتی تصورات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھانا پکانا، صفائی کرنا اور گھر کی دیکھ بھال کرنا صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر بالغ انسان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ فرانس میں منعقدہ کانز لائینز ۲۰۲۶ء کے دوران ایک خصوصی گفتگو میں پرینکا چوپڑا نے کہا کہ ’’صفائی کرنا اور کھانا پکانا خواتین کا کام نہیں ہے۔ یہ بنیادی بالغ انسان ہونے کی ذمہ داریاں ہیں۔ جنس کو کاہلی کے ساتھ مت ملائیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ خاندانوں میں ذمہ داریوں کی تقسیم صنف کی بنیاد پر نہیں بلکہ شراکت داری اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
اسی گفتگو کے دوران انہوں نے فلمی صنعت میں آنے والے نوجوانوں کے لیے بدلتے ہوئے مواقع پر بھی اظہار خیال کیا۔ پرینکا نے کہا کہ ایک وقت تھا جب فلم انڈسٹری میں داخل ہونا انتہائی مشکل سمجھا جاتا تھا اور لوگوں کو پہلے یہ فیصلہ کرنا پڑتا تھا کہ وہ کس شعبے میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ فلم میکنگ میں آنا چاہتے تھے تو پہلے یہ سوچنا پڑتا تھا کہ کس شعبے میں جانا ہے، اور انڈسٹری میں جگہ بنانا بہت مشکل تھا۔ آج اگر آپ کے پاس کوئی اچھا خیال ہے تو اسے شوٹ کریں، یوٹیوب پر ڈال دیں، اور ممکن ہے وہی چیز اگلا بڑا رجحان بن جائے۔ تفریحی صنعت میں آنے کے لیے اس سے بہتر وقت شاید کبھی نہیں تھا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فرح نے دپیکا کو ۱۰؍ دن سیٹ پر بیٹھ کر شاہ رخ کی اداکاری کو محض دیکھنے کو کہا تھا
کانز لائینز میں پرینکا چوپڑا نے ’’Building Legacy: Moving Culture Through Originality and Borderless Expression‘‘ کے عنوان سے ہونے والے سیشن میں بھی شرکت کی، جہاں انہوں نے تخلیقی صلاحیت، اصل کہانیوں کی اہمیت اور عالمی سطح پر ثقافتی اثرات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تخلیق کاروں کو اپنے ناظرین کا اعتماد کبھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے اور اصل مواد ہی طویل مدتی کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔ پرینکا چوپڑا کے گھریلو ذمہ داریوں سے متعلق بیان نے سوشل میڈیا پر بھی وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو کام زندگی گزارنے کی بنیادی مہارتیں ہیں، جنہیں مرد اور عورت دونوں کو یکساں طور پر سیکھنا چاہیے، جبکہ بعض افراد نے مختلف سماجی اور ثقافتی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے اس موضوع پر متبادل آراء بھی پیش کیں۔
یہ بھی پڑھئے: فلم ’’آوارہ پن ‘‘:امال ملک کی کمپوزنگ پرپاکستانی گلوکار مصطفیٰ زاہد کا رد عمل
اس موضوع پر دی ڈیٹ کلچر تھنگ کی وجودی تجزیہ کار گورلین بارواہ نے کہا کہ صنفی کرداروں سے متعلق بہت سے تصورات نسل در نسل منتقل ہونے والی سماجی تربیت کا نتیجہ ہیں۔ ان کے مطابق، اگرچہ معاشرہ تبدیل ہو رہا ہے، لیکن بہت سے خاندان آج بھی غیر شعوری طور پر انہی روایتی نمونوں کو دہراتے ہیں جنہیں انہوں نے اپنے بچپن میں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر گھر کے کاموں کی تقسیم دونوں شریکِ حیات کی رضامندی سے ہو تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں، لیکن جب ذمہ داریوں کا بوجھ مسلسل ایک ہی فرد پر رہے اور اس کی کوششوں کو تسلیم نہ کیا جائے تو اس سے ناراضی، ذہنی دباؤ، جذباتی تھکن اور تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ بارواہ کے مطابق، بچے نصیحتوں سے زیادہ اپنے والدین کے رویوں سے سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں والد اور والدہ دونوں مختلف گھریلو ذمہ داریوں میں حصہ لیتے ہیں تو بچے مساوات، احترام اور مشترکہ ذمہ داری کا تصور عملی طور پر سیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عمران ہاشمی یا سنی دیول نہیں، اس بار باکس آفس پر شبانہ اعظمی کی حکمرانی ہوگی
انہوں نے مزید کہا کہ ’’کھانا پکانا، صفائی کرنا اور دیکھ بھال کرنا زندگی گزارنے کی مہارتیں ہیں، صنفی مہارتیں نہیں۔ جب لڑکے اور لڑکیاں دونوں یہ دیکھتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں کہ والدین باہمی تعاون اور احترام کے ساتھ گھر چلاتے ہیں تو یہی اقدار ان کے مستقبل کے تعلقات کی بنیاد بنتی ہیں۔‘‘ پرینکا چوپڑا کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں گھریلو ذمہ داریوں کی مساوی تقسیم، جذباتی بوجھ (Mental Load) اور صنفی مساوات پر بحث تیزی سے زور پکڑ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید خاندانوں میں مشترکہ ذمہ داریوں کا تصور نہ صرف تعلقات کو مضبوط بناتا ہے بلکہ بچوں کی تربیت پر بھی مثبت اثر ڈالتا ہے۔