Updated: September 12, 2026, 4:11 PM IST
| Surrey
کنیڈا کے شہر سری میں ہند نژاد خاتون اور کرایہ دار کے درمیان باربی کیو کے استعمال پر تنازع کا ویڈیو وائرل ہوا ہے۔ بعد میں خاتون کی گرفتاری کا ویڈیو بھی سامنے آیا، تاہم سری پولیس نے واضح کیا کہ گرفتاری کا تعلق بیف، گوشت، مذہب یا نظریے سے نہیں تھا۔ معاملہ مالک مکان اور کرایہ دار کے درمیان جاری تنازع کے طور پر زیر تفتیش ہے۔
کنیڈا کے برٹش کولمبیا کے شہر سری میں ایک ہند نژاد خاتون اور ان کے کرایہ دار کے درمیان باربی کیو کے متعلق تنازع کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں۔ تنازع کے بعد خاتون کی گرفتاری کا ویڈیو بھی سامنے آیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس واقعہ کو بیف پکانے اور مذہبی معاملے سے جوڑنے کے دعوے کو سری پولیس نے مسترد کر دیا ہے۔ وائرل ویڈیوز میں خاتون کو اپنے کرایہ دار کے گھر کے باہر باربی کیو استعمال کرنے پر اعتراض کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ باربی کیو سے مکان کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ کرایہ دار کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دوست کے ساتھ کھانا پکا رہا ہے اور اسے اپنے گھر میں ایسا کرنے کا حق ہے۔ بحث کے دوران خاتون نے گرل سے کھانا ہٹانے کی کوشش بھی کی۔
یہ بھی پڑھئے: ورزش سے قبل سوشل میڈیا کا استعمال جسمانی کارکردگی متاثر کر سکتا ہے: ڈینش ماہرین
واقعہ کے بعد کرایہ دار نے ’Tiwana Farm Survivor‘ نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر متعدد ویڈیوز شیئر کئے، جن میں اس نے خاتون پر ہراساں کرنے، اس کے یونٹ میں داخل ہونے، تالے تبدیل کرنے اور دیگر املاک میں مداخلت کے الزامات عائد کیے۔ ایک ویڈیو میں کرایہ دار کے یونٹ کا دروازہ بھی غائب دکھائی دیتا ہے اور وہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ اپنے گھر اور سامان کو محفوظ رکھنے سے قاصر ہے۔ تاہم ان ویڈیوز میں گئے دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ بعد میں ایک ویڈیو میں پولیس اہلکار خاتون کو حراست میں لیتے دکھائی دیے۔ واقعہ سے متعلق سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ خاتون کو کرایہ دار کی شکایت کے بعد بیف پکانے کے تنازع پر گرفتار کیا گیا، تاہم سری پولیس سروس نے اس تاثر کی تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: نائن اِلیون کی ۲۵؍ ویں برسی، مسلمانوں کے خلاف مارچ
پولیس کے میڈیا ریلیشنز افسر ایان میک ڈونالڈ نے فیکٹ چیک ویب سائٹ ’بوم‘ کو بتایا کہ پولیس اس مکان پر جاری مالک مکان اور کرایہ دار کے تنازع کے سلسلے میں کئی مرتبہ پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق دونوں فریقوں نے مختلف مواقع پر پولیس سے مدد طلب کی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک موقع پر خاتون کو گرفتار کیا گیا، لیکن گرفتاری کا تعلق ’’بیف، گوشت، مذہب یا نظریے‘‘ سے نہیں تھا۔ پولیس نے خاتون کی شناخت ظاہر کرنے سے بھی انکار کیا ہے۔ حکام کے مطابق معاملہ ابھی زیر تفتیش ہے اور فی الحال کوئی منظور شدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی، اس لیے خاتون کا نام جاری نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ کرایہ دار اب اس مکان میں نہیں رہتے اور دونوں فریقوں کے درمیان تنازع سے متعلق پولیس کو مزید کالز موصول نہیں ہو رہی ہیں۔
اس واقعہ کے ابتدائی ویڈیوز میں بیف پکانے کا کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آتا۔ بعض سوشل میڈیا پوسٹس نے ویڈیو کو ’’بیف باربی کیو‘‘ اور مذہبی تنازع کے طور پر پیش کیا، جس کے بعد یہ دعویٰ تیزی سے پھیل گیا۔ تاہم پولیس کے بیان کے بعد اس زاویے کی تصدیق نہیں ہوتی۔ ہندوستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اصل تنازع باربی کیو کے استعمال اور مکان کو ممکنہ نقصان کے معاملے سے شروع ہوا تھا۔ ایک ویڈیو میں خاتون دیوار پر موجود مبینہ نشانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مکان کو نقصان سے بچانے کی بات کرتی ہیں، جبکہ کرایہ دار اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے اپنے دوست کے ساتھ کھانا کھانے کے حق کی بات کرتا ہے۔