ہانیہ عامر کا ناقدین کو جواب، ریپ سانگ جاری کیا، گانے میں راکھی ساونت کی انٹری
Updated: September 12, 2026, 5:01 PM IST
| Mumbai
پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر نے اپنی شخصیت، ظاہری شکل اور طرزِ زندگی پر ہونے والی تنقید کا جواب اپنے پہلے ریپ گانے ’’پابلو‘‘ کے ذریعے دے دیا۔ ہانیہ عامر کی جانب سے خود لکھے اور کمپوز کیے گئے پنجابی ہپ ہاپ گانے میں ناقدین کو جواب دیا گیا ہے، تاہم گانے کے اختتام پر راکھی ساونت کی آواز نے مداحوں کو حیران کردیا۔ راکھی نے ہانیہ کو ’’شیرنی‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی، جس کے بعد دونوں کے اس غیر متوقع اشتراک پر سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔
راکھی ساونت اور ہانیہ عامر۔ تصویر: آئی این این
پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر نے اپنی شخصیت، ظاہری شکل اور طرزِ زندگی پر ہونے والی تنقید کا جواب موسیقی کے ذریعے دیتے ہوئے اپنا پہلا ریپ گانا ’’پابلو‘‘ ریلیز کردیا ہے۔ تقریباً دو منٹ دورانیے پر مشتمل پنجابی ہپ ہاپ گانا ہانیہ عامر نے خود لکھا اور کمپوز کیا ہے، جس میں انہوں نے اپنے ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے ان لوگوں پر طنز کیا ہے جو ان کی شکل و صورت، شخصیت، طرزِ زندگی اور ذاتی انتخاب پر مسلسل تبصرے کرتے ہیں۔ گانے کی خاص بات اس کے اختتام کے قریب راکھی ساونت کی اچانک آمد ہے۔ تقریباً ایک منٹ ۴۰؍ سیکنڈ پر راکھی ساونت کی آواز سنائی دیتی ہے، تاہم وہ میوزک ویڈیو میں نظر نہیں آتیں۔ راکھی نے صرف اپنی آواز کے ذریعے ہانیہ عامر کیلئے حمایت اور حوصلہ افزائی کا پیغام دیا ہے، جس کے باعث یہ مختصر حصہ گانے کی سب سے زیادہ زیرِ بحث باتوں میں شامل ہوگیا ہے۔ اس گانے کا آغاز پیانو کی دھن سے ہوتا ہے، جس کے بعد ہانیہ عامر اپنے ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے ریپ شروع کرتی ہیں۔ گانے میں وہ اپنی ظاہری شخصیت، رویے، طرزِ زندگی اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتی ہیں۔ ہانیہ گانے میں اس تضاد کی جانب بھی اشارہ کرتی ہیں کہ کچھ لوگ انہیں ’’جعلی‘‘ قرار دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی زندگی کے ہر قدم پر نظر رکھتے ہیں۔ گانے کے ایک حصے میں وہ کہتی ہیں کہ جب وہ اپنی زندگی سے لطف اندوز ہو رہی ہوتی ہیں تو ان کے ناقدین خامیاں تلاش کرنے اور بحث کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ہانیہ نے اپنی مقبولیت اور انہیں ملنے والی توجہ کا بھی ذکر کیا ہے اور ’’پنڈی ایٹیٹیوڈ‘‘ سمیت اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ان کی سرگرمیوں کو ہندوستان تک میں دیکھا جاتا ہے۔ گانے کا مجموعی پیغام یہی ہے کہ ہانیہ عامر اپنی شخصیت سے مطمئن ہیں اور اپنے ناقدین کو خوش کرنے کیلئے خود کو تبدیل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔
راکھی ساونت نے ہانیہ کو ’’شیرنی‘‘ قرار دیا
گانے کے تقریباً ایک منٹ ۴۰؍ سیکنڈ پر راکھی ساونت کی آواز آتی ہے۔ وہ ہانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’ہانیہ میری جان، اتنا ٹینشن نہیں لینے کا، سمجھ رہی ہے۔‘‘ اس کے بعد راکھی ہانیہ کی تعریف کرتے ہوئے انہیں خوبصورت اور باوقار قرار دیتی ہیں اور کہتی ہیں، ’’تم حور ہو، تمہارے چہرے پہ نور ہے، تم ہو شیرنی۔‘‘ راکھی اپنے پیغام کا اختتام ’’جو ڈر گیا، سمجھو مر گیا‘‘ کے جملے سے کرتی ہیں۔ گانے کے اختتامی کریڈٹس میں بھی راکھی ساونت کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ راکھی نے الگ سے ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں وہ ’’پابلو‘‘ پر ڈانس کرتی نظر آ رہی ہیں۔
ہانیہ اور راکھی کے اس غیر متوقع اشتراک پر سوشل میڈیا صارفین نے بھی دلچسپ ردعمل دیا۔ کئی مداحوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے دونوں کو ایک ساتھ دیکھنے یا سننے کا کبھی تصور نہیں کیا تھا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’راکھی ساونت اور ہانیہ عامر‘‘ اس کی ۲۰۲۶ء کی فہرست میں بالکل شامل نہیں تھے، جبکہ ایک اور صارف نے اسے ’’غیر متوقع اشتراک‘‘ قرار دیا۔ تاہم ہانیہ عامر اور راکھی ساونت اس سے قبل بھی ایک دوسرے کے حوالے سے خبروں میں آ چکی ہیں۔ ۲۰۲۵ء میں راکھی نے ہانیہ عامر، نرگس اور دیدار کو ڈانس مقابلے کا چیلنج دیا تھا، جس کے جواب میں ہانیہ نے راکھی کے تبصروں پر ایک مزاحیہ انسٹاگرام ریل شیئر کی تھی اور کیپشن میں انہیں ’’آئیکون‘‘ قرار دیا تھا۔
ہانیہ عامر نے ۲۰۱۶ء میں فلم ’’جاناں‘‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا، جس کے بعد وہ ’’تتلی‘‘، ’’وصال‘‘، ’’میرے ہمسفر‘‘ اور ’’کبھی میں کبھی تم‘‘ جیسے مقبول ڈراموں میں نظر آئیں۔ پاکستانی ڈراموں کی مقبولیت کے باعث ہندوستان سمیت دیگر ممالک میں بھی ان کے مداحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ۲۰۲۵ء میں ہانیہ عامر دلجیت دوسانجھ اور نیرو باجوا کے ساتھ فلم ’’سردار جی ۳‘‘ میں بھی نظر آئیں۔ تاہم ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدہ حالات کے باعث فلم ہندوستان میں ریلیز نہیں کی گئی۔ ہانیہ عامر اور راکھی ساونت کا یہ اشتراک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اپریل ۲۰۲۵ء کے پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے بعد کئی پاکستانی فنکاروں اور تفریحی شخصیات کو ہندوستان میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مئی ۲۰۲۵ء میں ہانیہ عامر، ماہرہ خان، علی ظفر اور دیگر پاکستانی فنکاروں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بھی ہندوستان میں صارفین کیلئے بین کر دیے گئے تھے۔
This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience
and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree
to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK