کانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے نے اسے شرمناک اور بہار میں جنگل راج کی علامت قرار د یا اور خاطیوں کے خلاف پاکسو کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 9:54 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi
کانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے نے اسے شرمناک اور بہار میں جنگل راج کی علامت قرار د یا اور خاطیوں کے خلاف پاکسو کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
بہار کے جموئی میں ایک طالبہ کو ہراساں کئے جانے اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے واقعہ پربڑے پیمانے پر غم و غصہ اور ناراضگی کا اظہار کیا جارہاہے۔متعدد قومی لیڈروں نے اس واقعے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قصورواروں کے خلاف پاکسو کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا اور اس کے ساتھ ہی بہار میں لڑکیوں کے تحفظ اور امن وامان پر سوال اٹھایا۔ سوشل میڈیا پر بھی اس واقعہ پر غم وغصہ کا اظہار کیا جا رہاہے۔لیڈروں نے اس کو بہار کا جنگل راج قرار دے کر اس کی شدید مذمت کی۔
کانگریس کے صدر ملکا رجن کھرگے نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کو شرمناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے جموئی میںایک طالبہ کے ساتھ شرمناک بدسلوکی کی گئی۔ اس سے پہلے دہلی میں ایک ۱۷؍ سالہ لڑکی کی اجتماعی آبروریزی کی گئی اور اسے قتل کر دیا گیا۔اس طرح کے واقعات بی جے پی کی ’ناری شکتی وندن ‘ اور بیٹی بچاؤ‘ کی جھوٹی تشہیر کا پردہ فاش کرتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ قصورواروں کو سخت سزادی جائے اورریاستی سرکار کی جوابدہی بھی طے کی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ممتا پارٹی کےنام ونشان کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈراہل گاندھی نے جموئی کے واقعہ کو انتہائی پریشان کن قرار دیا۔ انہوں نے بہار کی بی جے پی حکومت سےسوال کیاکہ آخر شام ۷؍ بجے کے بعد سڑکوں پر لڑکیاں محفوظ کیوں نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ دسویں جماعت کے لڑکے اور لڑکی کو زبردستی سڑک پر روکا گیا۔ انہیں ہراساں کیا گیا، ذلیل کیا گیا اور لڑکی پر حملہ کیا گیا۔ لڑکی نے ہاتھ جوڑ کر التجا کی کہ اسے جانے دیا جائے لیکن غنڈوں پر کچھ اثر نہیں ہوا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ان لوگوں کو اس قدر غیر مہذب حرکت کرنے کا حق آخر کس نے دیا، یہ ثقافت نہیں بلکہ یہ پدرانہ نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب اندھ بھکت کنٹرول کو ثقافت سمجھ کر ایسی سوچ کو معمول بنا لیتے ہیں، تو ہجوم یہ ماننا شروع کر دیتا ہے کہ قانون یہی ہے۔ انہوں نے قصورواروں کے خلاف پاکسو کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں جلد از جلد سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نےبھی ریاستی حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے پیر کو کہا کہ بہار میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے اور طالبات نیز خواتین کی سیکوریٹی کو لے کر شدید تشویش پیدا ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجرم دن دہاڑے اسکولوں، کالجوں اور گھروں میں گھس کر وارداتوں کو انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم مودی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ خواتین کو۱۰؍ ہزار روپے نقد دینے اور انتخابات کے بعد ۲؍ لاکھ روپے مزید دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن ایسے واقعات پر وزیراعظم کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’ گیانیش کمار کا نام ۲۰۰۲ء کی کس فہرست میں ہے؟‘
تین بدمعاش حراست میں لئے گئے
ایس پی وشوجیت دیال کی ہدایت پر ایس ڈی پی او دپتی مونالی کی قیادت میں ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ٹیم نے وائرل ویڈیو کی تکنیکی جانچ کے ساتھ سائبر سیل اور مخبروں کی مدد سے متاثرہ طالب علم اور طالبہ کا پتہ لگایا اور ان کا بیان درج کیا۔صدر تھانہ میں متاثرہ طالبہ کے والد کے بیان پر مقدمہ درج کرنے کے بعد وائرل ویڈیو کی بنیاد پر واقعے میں شامل پانچ منچلوں کی شناخت کی گئی، فی الحال تین ملزمین کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔ تینوں کی عمر۱۴؍ سے۱۷؍ سال کے درمیان بتائی جارہی ہے۔
دونوں بچے فوٹو شوٹ کیلئے گئے تھے
واقعہ۱۹؍ ستمبر کی شام تقریباً سات بجے کا صدر تھانہ حلقہ میں مڑوا اور پرتاپ پور پہاڑ کے درمیان کا بتایا گیا ہے۔ دونوں طالب علم وہاں فوٹو شوٹ کیلئے وہاں گئے تھے اور اُس وقت اسکوٹی سے اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ منچلوں نے بعد میں واردات کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔ضلع مجسٹریٹ نوین نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔