• Mon, 16 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خاموش رہنا غیرجانبداری نہیں ہے: فرانسیسی نژاد فلسطینی اداکارہ ہیام عباس

Updated: February 16, 2026, 9:18 PM IST | Berlin

برلن فلم فیسٹیول کے آغاز پر فلم اور سیاست کے تعلق پر بحث چھڑ گئی۔ ممتاز فرانسیسی فلسطینی اداکارہ ہیام عباس نے کہا کہ فن اور سیاست کو الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہر تخلیقی عمل بذاتِ خود ایک سیاسی عمل ہے۔ انہوں نے فیسٹیول میں پیش کی جانے والی اپنی فلموں اور فلسطینی بیانیے کو عالمی سطح پر جگہ ملنے پر بھی اظہارِ خیال کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

جرمنی میں جاری برلن فلم فیسٹیول اس سال ایک اہم بحث کے ساتھ شروع ہوا، جس میں سوال اٹھایا گیا کہ فلم کو سیاست میں کس حد تک مداخلت کرنی چاہیے۔ اس تناظر میں فرانسیسی فلسطینی اداکارہ ہیام عباس نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ فن اور سیاست کو مکمل طور پر الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول، ’’ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ ایک سیاسی عمل ہے۔‘‘ عباس اس سال کے فیسٹیول میں پیش کی جانے والی دو فلموں میں اداکاری کر رہی ہیں۔ اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سنیما محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ سماجی اور انسانی مسائل کو اجاگر کرنے کا ایک طاقتور پلیٹ فارم بھی ہے۔ ان کے مطابق، آج کے دور میں فنکاروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اقلیتوں اور مظلوم طبقات کی آواز بنیں۔

یہ بھی پڑھئے: جنیوا مذاکرات سے قبل ایران کا امریکہ سےآزادانہ مذاکرات پر زور، ایرانی چیف آف اسٹاف کا ٹرمپ کو انتباہ

فیسٹیول کی افتتاحی پریس کانفرنس کے دوران جیوری کے صدر وِم وینڈرز نے غزہ کے لیے جرمنی کی حمایت سے متعلق سوال پر کہا تھا کہ ’’ہم واقعی سیاست کے میدان میں داخل نہیں ہو سکتے۔‘‘ ان کے اس بیان نے تنازع کو جنم دیا۔ تاہم ہیام عباس نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ فلمی دنیا میں بعض افراد میں جرات کی کمی پائی جاتی ہے، اگرچہ سب ایسے نہیں۔ عباس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وینڈرز کے بیان کو کسی حد تک سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا، کیونکہ وہ پارٹی سیاست کی بجائے سنیما کی تخلیقی طاقت پر بات کر رہے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے زور دیا کہ اگر فلم ساز اہم سماجی اور سیاسی موضوعات سے گریز کریں تو فن صرف “فن برائے فن” بن کر رہ جائے گا، جس میں ان کی دلچسپی نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کیری ارونگ کا آل اسٹار گیم میں غزہ کے صحافیوں سے اظہارِ یکجہتی

اس سال عباس لبنانی ہدایت کار ڈینیئل اربیڈ کی فلم ’’اونلی ریبیلز وِن‘‘ میں نظر آئیں گی۔ اس فلم میں وہ بیروت میں مقیم ایک عیسائی فلسطینی خاتون کا کردار ادا کر رہی ہیں، جو ایک جنوبی سوڈانی مسلمان مہاجر کے ساتھ تعلقات کے باعث سماجی ردعمل کا سامنا کرتی ہے۔ ستمبر سے نومبر ۲۰۲۴ء کے دوران اسرائیلی بمباری کے باعث فلم کی شوٹنگ بیروت سے منتقل کر کے پیرس کے قریب ایک اسٹوڈیو میں مکمل کی گئی۔ عباس کے مطابق، یہ حالات فلم کو ایک طرح کی ’’مزاحمت‘‘ میں بدل دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب بیروت پر بمباری شروع ہوئی تو انہوں نے ہدایت کار سے کہا کہ وہ جہاں بھی جائیں گی، ان کے ساتھ رہیں گی کیونکہ یہ فلم بننا ضروری ہے۔ ان کے نزدیک، ایسے حالات میں تخلیقی عمل خود ایک سیاسی اور اخلاقی مؤقف اختیار کر لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں زمینوں کے رجسٹریشن کے منصوبے پر سخت عالمی ردعمل

یاد رہے کہ عباس نے اس سے قبل اینی میری جاسر کی فلم ’’فلسطین ۳۶‘‘ پر کام مکمل کیا تھا، جو ۱۹۳۶ء میں برطانوی مینڈیٹ کے خلاف فلسطینی بغاوت کو موضوع بناتی ہے۔ اس فلم کی شوٹنگ کو آٹھ ماہ تک مؤخر کرنا پڑا اور بالآخر مقبوضہ مغربی کنارے کے بجائے اردن میں فلمایا گیا۔ عباس کے مطابق، ٹیم نے فیصلہ کیا کہ وہ سیاسی رکاوٹوں کے آگے سر نہیں جھکائیں گے۔ انہوں نے اکیڈمی کی جانب سے بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کی شارٹ لسٹ میں فلسطینی تجربے پر مبنی تین فلموں کو شامل کرنے کے فیصلے کو بھی سراہا، جن میں ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ اور ’’آل دیڈس لیفٹ یو‘‘ شامل تھیں۔ اگرچہ حتمی نامزدگیوں میں صرف ایک فلم جگہ بنا سکی، تاہم عباس نے اسے ’’کھلے ذہن‘‘ کی علامت قرار دیا۔ ان کے مطابق، عالمی سطح پر فلسطینی بیانیے کو جگہ ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سنیما اب بھی دنیا کو متاثر کرنے اور شعور بیدار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ برلن فلم فیسٹیول کی موجودہ بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا فن کو سیاست سے الگ رکھا جا سکتا ہے، یا دونوں ایک دوسرے سے ناگزیر طور پر جڑے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK