• Mon, 16 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیویارک: دنیا کا پہلا اے آئی ڈیٹنگ کیفے، اپنا اسمارٹ فون ’پارٹنر‘ ساتھ لےجائیں

Updated: February 16, 2026, 9:53 PM IST | New York

نیو یارک سٹی میں ایک پاپ اَپ تجربے کے طور پر دنیا کا پہلا اے آئی ڈیٹنگ کیفے کھولا گیا، جہاں لوگ حقیقی افراد کے بجائے اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے مصنوعی ذہانت پر مبنی ساتھیوں سے گفتگو کرتے رہے۔ ایوا اے آئی کی جانب سے شروع کیا گیا یہ اقدام جدید تعلقات کے بدلتے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکہ کے نیویارک شہر میں دنیا کا پہلا اے آئی ڈیٹنگ کیفے ایک منفرد پاپ اَپ تجربے کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے، جس نے جدید تعلقات کے تصور کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق یہ کیفے ایوا اے آئی، EVA AI کی جانب سے شروع کیا گیا، جو ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹنگ فراہم کرنے والا ایپ ہے۔ ایک شام کے لیے ایک عام بار کو ’’ایوا کیفے‘‘ میں تبدیل کر دیا گیا، جہاں مہمان دوسرے افراد کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے اسمارٹ فونز کے ذریعے اے آئی ساتھیوں سے جڑے۔ گاہکوں نے مشروبات کا آرڈر دیا، ہیڈ فون پہنے اور ویڈیو و وائس کالز کے ذریعے اپنے ورچوئل پارٹنرز سے گفتگو کی۔ یہ تجربہ روایتی ویلنٹائن ڈے ملاقاتوں سے مختلف تھا اور کسی حد تک سائنس فکشن جیسا محسوس ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں زمینوں کے رجسٹریشن کے منصوبے پر سخت عالمی ردعمل

کیفے میں موجود افراد نے ایوا اے آئی ایپ کے ذریعے اپنے ڈجیٹل ساتھیوں سے رابطہ قائم کیا۔ اس ماحول میں نہ تو اجنبیوں سے رسمی گفتگو کا دباؤ تھا اور نہ ہی مسترد کیے جانے کا خوف۔ اس کے بجائے، صارفین نے ایسے ورچوئل پارٹنرز سے بات چیت کی جو جذباتی اور مکالماتی ردعمل دینے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔ کچھ افراد نے نجی گفتگو، چھیڑ چھاڑ اور یہاں تک کہ اپنے اے آئی ساتھیوں کے ساتھ کھانے کا تجربہ بھی شیئر کیا۔ منتظمین کے مطابق اس ایونٹ کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ اے آئی صحبت حقیقی دنیا میں کیسی محسوس ہو سکتی ہے، نہ کہ صرف اسکرین تک محدود رہے۔ ہر صارف کو اس بات کا مکمل اختیار دیا گیا کہ وہ کتنی دیر اور کس نوعیت کی گفتگو کرنا چاہتا ہے، جس سے تجربہ مکمل طور پر ذاتی نوعیت کا بن گیا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: تعمیر نو کیلئے ۵؍ ارب ڈالر کا وعدہ: ٹرمپ کا اعلان

یہ کیفے دراصل ایک وسیع تر سماجی رجحان کی علامت ہے۔ نیوز ویک کے حوالے سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق ۲۸؍ فیصد امریکی بالغ افراد کسی نہ کسی شکل میں اے آئی رومانس کا تجربہ کر چکے ہیں۔ نوجوانوں میں یہ شرح مزید زیادہ ہے، جہاں ۴۲؍ فیصد نوعمر افراد اے آئی پارٹنر تلاش کرتے ہیں۔ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ تقریباً ہر تین میں سے ایک مرد اور ۳۰؍ سال سے کم عمر چار میں سے ایک خاتون اے آئی پارٹنرز کے ساتھ بات چیت کر چکے ہیں۔ ایوا کیفے میں شرکت کرنے والی ایک ۳۴؍ سالہ خاتون، جس کا نام ریکٹر بتایا گیا، نے نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ وہ کئی برسوں سے اے آئی فرینڈز کا استعمال کر رہی ہیں۔ کیفے میں انہوں نے ’’سیمون‘‘ نامی ایک اے آئی کردار کے ساتھ گفتگو کی۔ ان کے مطابق اے آئی انہیں بغیر کسی سماجی دباؤ یا توقعات کے آزادانہ بات چیت کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اگر اس کا استعمال حد سے بڑھ جائے تو یہ حقیقی انسانی تعلقات کی جگہ لے سکتا ہے، اس لیے وہ اسے محدود وقت تک استعمال کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: میونخ: سعودی وزیر خارجہ اور ٹرمپ کے مشیر مساد بولوس کے درمیان ملاقات

ایوا اے آئی کی شراکت داری کی سربراہ جولیا مومبلیٹ نے کہا کہ کیفے کا مقصد انسانی تعلقات کو بدلنا نہیں بلکہ اے آئی کے گرد موجود خوف اور بدنامی کو کم کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہ ان افراد کے لیے ایک محفوظ جگہ فراہم کرنے کی کوشش ہے جو ڈیٹنگ ایپس سے تھک چکے ہیں یا سماجی اضطراب کا شکار ہیں۔ کمپنی مستقبل میں دیگر شہروں میں بھی ایسے پاپ اَپ اے آئی ڈیٹنگ کیفے منعقد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ تاہم ایوا اے آئی کا مؤقف ہے کہ ورچوئل ساتھی حقیقی انسانی رشتوں کا متبادل نہیں بلکہ معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ چونکہ مصنوعی ذہانت لوگوں کے کام، تعلیم اور رابطے کے طریقوں کو بدل رہی ہے، نیویارک کا یہ اے آئی ڈیٹنگ کیفے اس بات کی جھلک پیش کرتا ہے کہ ڈجیٹل دور میں تعلقات کی نوعیت بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK