Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجندر کمار محض ۵۰؍روپے لے کر ممبئی آئے تھے

Updated: July 13, 2026, 12:05 PM IST | Agency | Mumbai

بالی ووڈ میں جوبلی کمار کے نام سے مشہور راجندر کمار نے کئی سپر ہٹ فلموں میں اپنی بہترین اداکاری سے ناظرین کو اپنا دیوانہ بنایا۔ راجندر کمار کو اپنے کریئر کے آغاز میں کافی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Rajendra Kumar.Photo:INN
راجندر کمار۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ میں جوبلی کمار کے نام سے مشہور راجندر کمار نے کئی سپر ہٹ فلموں میں اپنی بہترین اداکاری سے ناظرین کو اپنا دیوانہ بنایا۔ راجندر کمار کو اپنے کریئر کے آغاز میں کافی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
 
 
راجندر کمارکی پیدائش۲۰؍ جولائی ۱۹۲۹ء کو پنجاب کے سیالکوٹ شہرمیں ایک متوسط گھرانے میں ہوئی تھی۔ راجندر بچپن سے ہی اداکار بننے کا خواب دیکھاکرتے تھے۔راجندر کمار جب اپنے خوابوں کی تعبیر کیلئے بمبئی (ممبئی) پہنچے تو ان کی جیب میں صرف۵۰؍ روپے تھے۔ یہ پیسے بھی انہوں نے اپنے والد کی دی ہوئی گھڑی کو فروخت کرکے حاصل کئےتھے۔ان کی گھڑی۶۳؍ روپے میں فروخت ہوئی تھی۔ان پیسوں میں سے راجندر نے۱۳؍ روپے کا فرنٹیر میل کا ٹکٹ خریدا تھا۔ بمبئی پہنچنے پر راجندر کمارکونغمہ نگار راجندر کرشن کی مدد سے فلمساز و ہدایت کار ایچ ایس رویل کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر کے طور پر۱۵۰؍ روپے ماہانہ پر کام کرنے کا موقع ملا۔
۱۹۵۰ء میں راجندر کمار کو پہلی بار دلیپ کے ساتھ فلم جوگن میں کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ ۱۹۵۰ء سے۱۹۵۷ء تک وہ بالی ووڈ میںمقام حاصل کرنے کے لئے جد وجہد کرتے رہے۔ جوگن فلم کے بعد انہیں جو بھی فلم ملی وہ اسے قبول کرتے چلے گئے۔ اس دوران انہوں نے طوفان اور دیا،آواز،ایک جھلک جیسی کئی فلموں میں اداکاری کی لیکن ان میں سے کوئی بھی فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہوسکی۔۱۹۵۷ء میں راجندر کمار کو محبوب خان کی مشہور فلم مدر انڈیا میں ایک ہزار روپے مہینہ پر کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ فلم پوری طرح اداکارہ نرگس پر مبنی ہونے کے باوجود راجندر کمار نے اپنے چھوٹے سے کردار کے ذریعہ ناظرین کے دل جیت لئے۔ اس کے بعد ان کی گونج اٹھی شہنائی، قانون، سسرال، گھرانہ، آس کا پنچھی اور دل ایک مندر جیسی فلمیں منظر عام پر آئیں۔ ان فلموں نے راجندر کو اس مقام تک پہنچا دیا کہ وہ اپنی پسند کی فلموں کا انتخاب کرسکتے تھے۔
 
 
۱۹۵۹ء میں وجےبھٹ کی ریلیز ہونے والی بہترین موسیقی سے آراستہ فلم گونج اٹھی شہنائی ریلیز ہوئی جو راجندر کے فلمی کریئر کی سب سےبڑی ہٹ ثابت ہوئی۔ وہیں ۱۹۶۳ءمیں ریلیز ہونے والی فلم میرے محبوب کی زبردست کامیابی کے بعد راجندر کمار شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔راجندر کبھی کسی خاص امیج میں نہیں بندھے۔ اس لئے ان فلموں کی کامیابی کے بعد بھی انہوں نے ۱۹۶۴ء میں ریلیز ہوئی فلم سنگم میں راج کپور کے ساتھ معاون ہیرو کا کردار قبول کرلیاجو ان کی فلمی شخصیت سے میل نہیں کھاتا تھا۔ اس کے باوجود راجندر، ناظرین کا دل جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ ۱۹۶۳ء سے ۱۹۶۶ءکے درمیا ن راجندرنے اپنی کامیابی کے سنہرے دور میں لگاتار ۶؍ ہٹ فلمیں دیں۔ ان میں میرے محبوب ، زندگی، سنگم اور آئی ملن کی بیلا، آرزو اور سورج سبھی نے سنیما گھروں میں سلور جوبلی یا گولڈن جوبلی منائی۔ ان فلموں کے بعد راجندر کمار کے فلمی سفر کا ایسا سنہری دور بھی آیا جب بمبئی کےسبھی ۱۰؍ سنیما گھرو ںمیں ان کی ہی فلمیں لگیں اور سبھی سلور جوبلی رہیں۔ یہ سلسلہ کافی عرصے تک جاری رہا۔ان کی فلموں کی کامیابی کے پیش نظر ناظرین نےان کا نام جوبلی کمار رکھ دیا تھا۔ راجندر کے فلمی سفر میں ان کی جوڑی سائرہ بانو، سادھنا اور وجنتی مالا کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ زندگی کے آخری دنوں میں وہ کینسر کے مہلک مرض میں مبتلا ہوگئے اور ۱۲؍جولائی ۱۹۹۹ءکو ہندوستانی فلموں کا یہ ستارہ سب کو الوداع کہہ گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK