Inquilab Logo Happiest Places to Work

پناہ گزینوں کا عالمی دِن ہمارا دِن کیوں نہیں ہو سکا؟

Updated: July 13, 2026, 12:43 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | Mumbai

ہر شخص کی اپنی زندگی ہے۔ صبح اُٹھنا، دفتر جانا، گھر لوٹنا، بال بچوں کی فکر کرنا وغیرہ۔ کس کے پاس وقت ہے کہ بیٹھ کر پناہ گزینوں کی بابت سوچے۔ مگر کبھی غور کیجئے کہ کیا کبھی بھی نہیں سوچنا چاہئے۔

Refugee.Photo:INN
پناہ گزیں۔ تصویر:آئی این این
گزشتہدِنوں ٹائمس آف انڈیا میں دیپانکر گپتا کا آرٹیکل ’’دی انٹولڈ پارٹیشن ہسٹری‘‘ شائع ہوا ہے۔ اس مضمون کو پڑھ کر ایک اطمینان سا ہوا کہ اس مسئلے پر ہمارے یہاں سوچنے، سمجھنے اور لکھنے والے ابھی موجود ہیں۔ اس مضمون کی نوعیت تحقیقی بھی ہے اور سیاسی بھی۔ اس موضوع پر کوئی بھی تحریر غیر سیاسی نہیں ہو سکتی پھر بھی اسے انسانی اور اخلاقی بنیاد پر دیکھتے ہوئے غیر سیاسی بنایا جا سکتا ہے۔ ۲۰؍  جون کو ہر سال پناہ گزینوں کا دن منایا جاتا ہے اور ۲۰؍ جون کو گزرے ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے۔ مہاجروں کو بھی پناہ گزین کہہ دیا جاتا ہے۔ ہجرت میں اپنی مرضی شامل ہے مگر پناہ کی تلاش میں ایک سے دوسرے مقام منتقل ہو جانے والے بھی فکر و احساس کی سطح پر مہاجر سے قربت محسوس کرتے ہیں۔ کبھی ہجرت ثروتمندی کے باوجود مہاجر کو راس نہیں آتی۔ پناہ گزینوں پر ادھر کافی دنوں سے کچھ ایسا لکھا نہیں گیا جس سے یہ محسوس ہو کہ غریب الوطنی کتنی بڑی سزا ہے۔ یہ مسئلہ بنیادی طور پر انسانی ہے جسے انسانی اقدارکی بنیاد پر ہی دیکھنا چاہیے۔
پناہ گزینوں کی تاریخ دراصل جنگوں کی تاریخ بھی ہے۔ وہ زمین کتنی خوش نصیب اور بابرکت ہے جہاں انسانوں نے انسانوں پر حملے نہیں کئے۔ ریاست کا تصور استحصال اور زیادتی کا تصور نہ سہی لیکن تاریخ کیا کہتی ہے۔ دنیا میں انسانی شناخت رفتہ رفتہ جغرافیائی شناخت میں تبدیل ہونے لگی۔ جغرافیہ ذہن میں وسعت کے ساتھ ساتھ تنگ نظری کو بھی ساتھ لاتا ہے۔ مسئلہ زمین کا ہے۔ زمین انسانی آبادی سے خوبصورت بنتی ہے۔ باغبانی کرنے والے جانتے ہیں کہ زمین اور پھول ہماری ملکیت ہوں تب بھی خوشبو پر ہمارا اختیار نہیں۔ سبزی اپنی زمین سے اگنے کے باوجود دور دراز علاقے پہنچ جاتی ہے۔ اس میں اپنی مٹی کی خوشبو ہو تی ہے جو دوسری زمین پر رہنے والوں کو زندگی کا احساس دلاتی ہے لیکن مٹی چاہے کہیں ہو، اپنے خواص کے ساتھ مٹی ہی رہتی ہے۔ اسے جغرافیائی حدود کا احساس ہوگا نہ خیال۔ 
دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا نے بطور خاص پناہ گزینوں کو دیکھا اور ان کی دشواریوں کو محسوس کیا۔ جنگ کے دوران عام انسانی آبادی پناہ کی تلاش میں سرحدوں کو عبورکر لیتی ہے۔ کبھی پناہ گزینوں کی حالت زار کو دیکھ کر سرحدیں کھول دی جاتی ہیں اور کبھی سرحدوں پر انہیں روک دیا جاتا ہے۔ پناہ گزینوں کی تصویروں کو دیکھیے کتنی مشکل دکھائی دیتی ہے۔ وہ اُمید بھری نگاہ سے سرحد کی طرف دیکھتے ہیںکہ کب ان کیلئے دروازہ کھلے گا۔ یہ بند اور کھلتا ہوا دروازہ تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے مگر اسے فکشن نگاروں نے زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کیا ہے۔ پناہ گزینوں کی تصویریں خواہ کسی ملک اور برادری کی ہوں وہ ایک جیسی دکھائی دیتی ہیں۔ سروں پہ گٹھری، بچوں کے چہروں پر بے یقینی کےآثار، بزرگوں کا چلتے چلتے رک جانا، خواتین کا زار و قطار رونا۔ یہ سب کچھ دنیا سے ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔  طاقت اور حکومت پناہ گزینوں کے لیے رحم دلی کا کیسے مظاہرہ کر سکتی ہے، اسے تو احساس دلانا ہے کہ زمین کا پھیلاؤ ذہن کا پھیلاؤ نہیں ہو سکتا۔ جنگ کے نتیجے میں جو کیمپ بنائے جاتے ہیں انہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ وقتی قیام اور ٹھہراؤ ہے مگر کیمپوں کے اندر زندگیاں اتنی لمبی ہو گئی ہیں جیسے زندگیاں کیمپوں کے لیے ہی وجود میں آئی تھیں۔
ایک نسل پیدا ہو کر جوان ہو جاتی ہے اور اس کے دن پلٹتے نہیں   ہیں۔کیمپ کے آس پاس بچے کھیلتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنے مستقبل سے بے نیازہوکر حال کو دیکھتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ اتنی سی زمین اور ایک چھوٹا سا شامیانہ ان کیلئے بہت بڑ ی دولت ہے۔  پناہ گزینوں کو اپنے ملک بھیجنے کی کوشش دراصل ایک بہتر زندگی میں واپسی سے زیادہ اپنی یادداشت سے واپسی کے طور پر دیکھی جاتی ہے لیکن اپنے گھر کی طرف دیکھتے ہوئے پناہ گزینوں کو بے سر و سامانی کا احساس ہوتا  ہے۔ جنگ سے تباہ حال دنیا کبھی بھی پہلے کی طرح آباد نہیں ہو سکتی۔ زندگی کے وسائل اگر میسر بھی ہوں تو کیمپ کا شامیانہ گھر کا احساس پیدا نہیں کر سکتا۔ یہ اور بات ہے کہ مسافرانہ بے کسی کی اپنی ایک تاریخ اور تہذیب ہے جو اعلیٰ مقاصد سے وابستہ رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پناہ گزینوں کے مسائل تہذیبی سطح پر پر حل نہیں کیے جا سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاست مثبت ذہن کے ساتھ پناہ گزینوں کو ایک بہتر زندگی فراہم کر سکتی ہے۔
پناہ گزینوں کے مسائل اصل میں شناخت کے مسائل ہیں. اسی ملک کے وسائل پر اختیار کو اس ملک کے اصل باشندوں کا ہے۔ جب وسائل کا کچھ حصہ پناہ گزینوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے تو پھر آواز بلند ہوتی ہے کہ باہر سے آئے ہوئے لوگ ہمارے یہاں قابض ہو گئے ہیں۔ حکومتیں انسانی بنیادی امداد فراہم کرتی ہیں۔ زمین کا کوئی ٹکڑا دل کی زمین سے اگر رشتہ قائم کر سکتا ہے، تو اسی دن کا ہمیں انتظار کرنا چاہیے۔ دل کی زمین کتنی سخت اور بنجر ہوتی جاتی ہے، جغرافیہ بنتے بنتے بگڑ جاتا ہے، دنیا کا جغرافیہ جب ایک مرتبہ بگڑ جاتا ہے تو پھر اس کے بننے میں بہت وقت لگتا ہے۔ یہ جغرافیہ صرف زمین سے متعلق نہیں بلکہ اس کا رشتہ انسانی یادداشت سے بھی ہے۔ پناہ گزین جس کرب سے ذہنی طور پر گزرتے ہیں ان کا تصور کیجئے اور پھر اس بات پر غور کیجئے کہ کسی تہذیبی معاشرے کو ختم کر دینے کا اعلان کتنا غیر انسانی ہی اور غیر اخلاقی ہے۔ پناہ گزیں تو اپنے ساتھ اس کلچر کو بھی بچانے کی کوشش کرتے ہیں جس کے ساتھ زندگی گزاری اور پھر وہ زندگی کیمپوں کے اندر ان کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔
  یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا پناہ گزینوں کا عالمی دن ہمارا دن بن سکتا ہے؟ اسی صورت میں بن سکتا ہے کہ اپنے گھر رہتے ہوئے کیمپوں میں بسر ہونے والی زندگیوں کو محسوس کریں، ان کے بارے میں انسانی اور اخلاقی بنیاد پر سوچیں، غور کریں اور ممکن ہو تو انہیں کیمپوں میں جا کر دیکھا جائے۔ دور سے کیمپوں میں بسر ہونے والی زندگیاں جو تاثر پیش کرتی ہیں وہ زندگی کا عام تجربہ معلوم ہوتا ہے، جیسے یہ زندگی بھی ایک زندگی ہے اور اسے اس کی موجودہ صورت میں قبول کر لیا جائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پناہ گزینوں کے بارے میں جتنی حساسیت پہلے تھی اس میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ بقول کلیم عاجز: 
میں ہوں وہ غریب عاجز کہ گلوں کی انجمن میں 
مرے پیرہن کے ٹکڑوں کا بنا ہے شامیانہ

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK