انہوں نے سوچا تھا کہ ایک آخری فلم مارکیٹ کے حساب سے عام روش کے مطابق بنائیں اور پھر سب کچھ سمیٹ کر پنجاب کی طرف نکل جائیں مگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
EPAPER
Updated: January 25, 2026, 12:33 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai
انہوں نے سوچا تھا کہ ایک آخری فلم مارکیٹ کے حساب سے عام روش کے مطابق بنائیں اور پھر سب کچھ سمیٹ کر پنجاب کی طرف نکل جائیں مگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
مجھے یاد ہے ۱۴؍مارچ ۱۹۷۴ء کا وہ دن، جب میں فلمساز، ہدایتکار اور مصنف کمال امروہوی سے اُن کے آبائی وطن امروہہ میں ان کا انٹرویو کر رہا تھا۔ اس دوران میں نے اُن سے ایک غیرفلمی سا سوال کیا تھا کہ ’’اُردو میں آپ کا پسندیدہ ادیب کون ہے؟‘‘کمال صاحب نے کہا تھا کہ ’’میرے نقطہ نظر سے موضوع کے لحاظ سے سب سے اچھا لکھنے والے راجندر سنگھ بیدی ہیں، ان کی کہانی ’ایک چادر میلی سی‘ ایک غیرمعمولی کہانی ہے۔ ‘‘ یہ اتفاق ہی ہے کہ میں نے اس وقت تک بیدی صاحب کی یہ کہانی نہیں پڑھی تھی لہٰذا میں نے اگلے ہی دن پہلی فرصت میں ’ایک چادر میلی سی‘ پڑھ لی اور پھر مجھے لگا کہ میں نے اب تک بیدی کو پڑھا ہی نہیں تھا۔ یوں بھی کسی فنکار کو پڑھ لینا اتنا آسان نہیں ہوتا، مگر ’ایک چادر میلی سی‘ ایک ایسی کہانی ہے کہ اگر بیدی اس کے علاوہ اور کچھ نہ بھی لکھتے تو صرف اسی کی بدولت ادب میں زندہ رہتے۔
راجندر سنگھ بیدی یکم ستمبر ۱۹۱۵ء میں لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد شری ہیرا سنگھ بیدی کھتری سِکھ خاندان کے اور والدہ سیتا دیوی برہمن خاندان کی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیدی کے یہاں رنگ، مذہب اور نسل وغیرہ کا کوئی امتیاز نہیں تھا۔ ان کے دوستوں کا ایک وسیع حلقہ تھا جس میں ہر طبقہ، فکر، نسل، رنگ اور مذہب کے لوگ موجود تھے۔ بیدی انتہائی خوش اخلاق اور زندہ دل انسان کا نام تھا۔ ۱۹۳۱ء میں انہوں نے ’ایس جی بی اے‘ خالصہ اسکول، لاہور سے میٹرک اور ۱۹۳۳ء میں ڈی اے وی کالج، لاہور سے انٹر کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد اپنی تعلیم آگےجاری نہیں رکھ سکے۔ اُن کے والد کا جلد ہی انتقال ہو گیا، جس کے بعد پورے گھر کی ذمہ داری اُن کے کاندھوں پر آگئی۔ لہٰذا انہوں نے وہیں پوسٹ آفس میں ملازمت اختیار کر لی۔
۱۹۴۳ء میں انہوں نے اس ملازمت سے سبکدوشی اختیار کی اور دہلی میں مرکزی حکومت میں پبلسٹی کے شعبہ میں کچھ دن کام کرنے کے بعد آل انڈیا ریڈیو لاہور میں ملازمت اختیار کرلی۔ تقسیم ہندکے بعد ان کی منتقلی دہلی میں ہو گئی اور ۱۹۴۸ء میں وہ اردو ادیبوں کے ایک وفد میں شریک ہوکر کشمیر گئے۔ شیخ عبداللہ نے بیدی کو جموں کشمیر ریڈیو اسٹیشن کے ڈائریکٹر کا عہدہ سونپ دیا، مگر وہاں بیدی زیادہ عرصے تک ٹھہر نہیں سکے۔ ایک سال کے قلیل عرصے تک کام کرنے کے بعد ۱۹۴۹ء میں انہوں نے کشمیر کو خیرباد کہا اور دہلی ہوتے ہوئے بمبئی پہنچ گئے۔ اس کے بعد ان کامستقل قیام بمبئی میں ہی رہا۔ ۱۹۶۵ء میں انہیں ناولٹ ’ایک چادر میلی سی‘ کیلئے ساہتیہ اکادمی کے انعام سے نوازا گیا اور ۱۹۷۳ء میں ’پدم شری‘ کے اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ ۱۹۷۸ء میں انہیں غالب ایوارڈ دیاگیا۔
یہ بھی پڑھئے: رشمیکا مندانا نے انکشاف کیا کہ ’’سکندر‘‘ کی اسکرپٹ بدلی گئی تھی
راجندر سنگھ بیدی کی ادبی زندگی کا آغاز ان کی شادی سے قبل ۱۹۳۲ء ہی میں ہو گیا تھا۔ ابتداء میں انہوں نے محسن لاہوری کے قلمی نام سے لکھنا شروع کیا اور بعد میں اپنے اصلی نام راجندر سنگھ بیدی کے نام سے باقاعدہ کہانیاں لکھنے لگے۔ اُن کا پہلا افسانہ ’مہارانی کا تحفہ‘ ایک رومانی افسانہ تھا جو ماہنامہ ’ادبی دنیا‘ (لاہور) میں شائع ہوا تھا۔ ۱۹۳۳ء کے بعد بیدی کی کہانیوں میں رومانیت کے بجائے حقیقت نگاری کا رنگ اُبھرکر سامنے آیا اوران کی کہانی فکر کی گہرائیوں میں سنجیدگی کے ساتھ اُترتی چلی گئی۔ بیدی کا پہلا افسانوی مجموعہ ’دانہ ودام‘ ۱۹۳۶ء میں ’مکتبہ اردو، لاہور‘ سے شائع ہوا۔ ’گرہن‘ ان کی کہانیوں کا دوسرا مجموعہ تھا جو ۱۹۴۶ء میں شائع ہوا تھا۔ اسی سال ان کے ڈراموں کا مجموعہ’سات کھیل‘ بھی شائع ہوکر مقبول ہوا۔ بیدی صاحب نے کئی فلمیں بھی تخلیق کیں جن میں ’پھاگن، گرم کوٹ، دستک اوررنگولی‘ مشہور ہیں، مگر انہوں نے کبھی بھی کمرشیل بننے کی کوشش نہیں کی، نہ ہی کبھی کاروباری فلموں کے چکر میں پڑکر اپنے اندر کے ادیب کو مرنے دیا۔
فروری۱۹۸۱ء میں ممبئی میں ان کے بیٹے نریندر بیدی کے مکان پر میری اُن سے پہلی ملاقات باقر مہدی کے توسط سے ہوئی تو اس وقت بیدی صاحب کافی بیمار تھے، مگر اس حالت میں بھی انہوں نے اپنی روایت کے مطابق خاصی خاطر تواضع کی۔ جب میں نے ان سے نئے افسانے کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے نہایت اطمینان سے جواب دیا تھا ’’میں افسانے کے مستقبل سے قطعی نااُمید نہیں ہوں۔ ادب میں تجربے ہوتے رہے ہیں اور یہ ایک اچھی علامت ہے۔ ‘‘
راجندر سنگھ بیدی بے حد زندہ دل انسان تھے۔ ان کی زندگی میں بہت سے نشیب وفراز آئے مگر بیدی نے نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کیا۔ ایک بار ایک ضرورتمند اُن کے گھر گیا اور ڈاکٹر کا نسخہ دکھاتے ہوئے بیدی سے کہا کہ آپ روپے پیسے سے میری مدد نہ کریں بلکہ میرے شدید بیمار بیٹے کیلئے دوائیں دلوا دیں۔ بیدی نے اس شخص کو اپنی کار میں بٹھایا اور کئی دُکانوں پر دوا تلاش کرنے کے بعد نسخے میں لکھی ساری دوائیں خریدکر اس کو دلوا دیں اور بعد میں گاڑی ایک کنارے لگاکر رونے لگے۔ بعد میں انہوں نے اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کی موت بھی اسی مرض میں ہوئی تھی جس کی دوائیں انہوں نے اُس ضرورتمند کو دلائی تھیں۔ اس طرح بیدی کی پُرمزاح شخصیت کے اندر ایک نہایت دردمند دل بھی دھڑکتا تھا۔
کشمیر سے آل انڈیاریڈیو کی ملازمت ترک کرکے راجندر سنگھ بیدی جب بمبئی کی فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے تو وہاں کا ہر شخص اُن کی انسان دوستی سے متاثر ہوکر اُن کا گرویدہ ہوتا گیا۔ کافی عرصے تک وہ ملک راج آنند کے یہاں ٹھہرے۔ بعد میں جب ان کا اپنا گھر ہو گیا تو وہاں کئی روپوش کمیونسٹوں کو پناہ بھی ملی۔ کیفیؔ اعظمی اور مجروحؔ سلطانپوری ان کے یہاں مہینوں قیام پزیر رہے۔ پھر اُن پر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ان کے اپنے ہی بڑے بیٹے نے گھر چھوڑ دیا اور ان کے اپنے گھر کی دیواریں بھی ان کیلئے اونچی ہوتی چلی گئیں۔ وہ اکثر دوستوں کو ملنے اور دعوت وغیرہ پر بھی گھر بلانے کے بجائے ہوٹلوں میں ملنے لگے اور اپنی زندگی کی اس صورت حال پر خود ہی حسرت زدہ رہتے۔ اس درمیان اُن کو بدنامی بھی اُٹھانی پڑی۔ فلم ’دستک‘ (۱۹۷۰ء) کی تکمیل کے دوران اداکارہ ریحانہ سلطانہ کے ساتھ اُن کے تعلقات کو لے کر کافی چرچے ہوئے۔ فلم بڑی خوبصورت بنی، کامیاب بھی ہوئی مگر چند دنیاوی آسائشوں کے علاوہ بیدی کے ہاتھ کچھ نہ لگا۔ بیدی نے سوچا کہ ایک آخری فلم مارکیٹ کے حساب سے عام روش کے مطابق بنائیں اور سب کچھ سمیٹ کر پنجاب کی طرف نکل جائیں مگر بیدی اپنی آخری سانسوں تک ایسا نہ کر سکے۔ وہ راجندر سنگھ بیدی جو صرف پانچ روپے اپنی جیب میں لے کر بمبئی آئے تھے اور آہستہ آہستہ فلمی رائٹر کے طور پر اپنی حیثیت منوائی تھی اور اُس کے بعد خود فلمساز بھی بن گئے تھے، مگرکچھ جذباتی فیصلوں کی وجہ سے اور اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر انہوں نے خود کو برباد بھی کیا۔ اُن کی ملٹی اسٹارر فلم ’پھاگن‘ فلاپ ہو چکی تھی۔ اسلئے اب کوئی بھی اُن کی فلم پر پیسہ لگانے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔ حالانکہ اُن کا بڑا بیٹا نریندر بیدی مسالحہ فلمیں بنانے والے ہدایتکار کے طور پر کامیاب ہو چکا تھا مگر اپنے باپ کی مدد کرنے کیلئے وہ بھی آگے نہیں آیا۔ تب بیدی اپنی جوہو والی معمولی جھوپڑی میں ہی رہتے تھے۔ بعد میں ان کا بیٹا نریندر ان کے پاس لوٹ آیا، مگر راجندرسنگھ بیدی کا تعلق ایک فلم رائٹر کے طور پر ہی بنا رہا۔ نریندر دولت کمانے کے چکر میں کمرشیل سنیما کی طرف زیادہ متوجہ تھا اور فارمولہ فلموں کے ذریعہ کامیابی بھی حاصل کر چکا تھا۔ مگر کم عمری میں ہی کینسر کے موذی مرض سے ۱۹۸۲ء میں نریندر بیدی کا انتقال ہو گیا، جس کی وجہ سے راجندرسنگھ بیدی صدمے سے ٹوٹ کر رہ گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈاکٹرکے کردار کیلئے اپنی دونوں بہنوں سے تحریک لی: اقبال خان
راجندرسنگھ بیدی کی فلمی زندگی کا آغاز لاہور میں ہی ہو گیا تھا جب ایک فلم رائٹر کے طور پر مہیشوری فلمز کی ’کہاں گئے‘لاہور میں بنی۔ اس کے بعد بیدی بمبئی آگئے اورتقریباً چالیس فلموں میں ڈائیلاگ لکھے۔ ان میں ’بڑی بہن، داغ، مرزا غالب، دیوداس، ابھیمان، مدھومتی، انورادھا اورانوپما‘ کے نام قابل ذکر ہیں۔ فلم’ساز، انورادھا، انوپما، میم دیدی، ستیہ کام اورابھیمان‘ جیسی عمدہ فلمیں بیدی ہی کے زور قلم کا نتیجہ ہیں۔ فلم ’مسافر، انورادھا اور انوپما‘ کیلئے بیدی کو صدرِ جمہوریہ کا گولڈ اور سلور میڈل بھی عطا کیا گیا۔ اُن کی ہدایت کاری میں بننےوالی پہلی فلم ’دستک‘ کو بھی صدر جمہوریہ کا ایوارڈ ملا تھا۔ بیدی بلا شبہ افسانے اور ہندوستانی سنیما کے سلسلے میں ایک قدرآور شخصیت کا نام ہے۔ انہوں نے جس طرح اپنے کرداروں کو افسانے کے ذریعے برتا ہے، ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ چاہے وہ ’لاجونتی‘ ہو، یا ’رحمان کے جوتے‘ والا رحمان ہو۔ ان کا ہر کردار اپنے آپ میں مکمل ہے، اپنی تمام تر نفسیات کے ساتھ گہرائی اور گیرائی کے ساتھ۔ فلموں سے وابستہ ہوتے ہوئے بھی انہوں نے اردو ادب کی چادر کو میلا نہیں ہونے دیا۔
بیدی علم نجوم میں بھی یقین رکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی جنم کنڈلی بھی بنوائی ہوئی تھی۔ ان کی زندگی میں کئی باتیں اتفاقیہ طور پر جنم کنڈلی کے مطابق ہوئیں تو کئی باتیں اس کے برخلاف ہوئیں۔ جیسے ان کی زندگی میں بیٹے کی موت، مگر ان کی کنڈلی کے مطابق ان کو ۷۷؍برس تک جینا تھا۔ جبکہ اُن کے انتقال کے وقت اُن کی عمرصرف ۶۹؍ برس کی تھی۔ ۱۱؍نومبر۱۹۸۴ء کو راجندر سنگھ بیدی کا انتقال ہوا۔ آج جسمانی طور پر بیدی ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں مگر ان کی روح آج بھی ان کے افسانوں کے کرداروں کے روپ میں ہمارے سامنے موجود ہے اور اب مجھے ایسا لگتا ہے کہ بیدی ایک نہیں، کئی تھے۔ صرف جسم والا بیدی ہم سے بچھڑا ہے لیکن وہ بیدی جو اُن کی کہانیوں کے کرداروں میں موجود ہے، وہ بیدی کی آتماہے اور آتما کبھی نہیں مرتی، آتما امر ہوتی ہے۔