Updated: August 07, 2026, 8:05 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکار راجپال یادو ایک بار پھر مالی اور قانونی مشکلات میں گھر گئے ہیں۔ سینٹرل بینک آف انڈیا نے اتر پردیش کے ضلع شاہجہاں پور میں واقع ان کے آبائی گھر سمیت رہن رکھی گئی جائیدادوں پر ۶۱ء۱۶؍ کروڑ روپے کے بقایاجات کی وصولی کے لیے ضبطی کا نوٹس چسپاں کر دیا ہے۔
راجپال یادو۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ اداکار راجپال یادو ایک بار پھر مالی اور قانونی مشکلات میں گھر گئے ہیں۔ سینٹرل بینک آف انڈیا نے اتر پردیش کے ضلع شاہجہاں پور میں واقع ان کے آبائی گھر سمیت رہن رکھی گئی جائیدادوں پر ۶۱ء۱۶؍ کروڑ روپے کے بقایاجات کی وصولی کے لیے ضبطی کا نوٹس چسپاں کر دیا ہے۔ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر قرض ادا نہ کیا گیا تو یہ جائیدادیں ۹؍ ستمبر کو آن لائن نیلام کر دی جائیں گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں دہلی ہائی کورٹ نے ۲۰۱۲ء کی فلم ’’اتا پتا لاپتا ‘‘ سے متعلق چیک باؤنس کیس میں راجپال یادو کو تین ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:اشفاق نے ۴۰۰؍ میٹر دوڑ میں قومی ریکارڈ توڑ کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی
خاندان کا مؤقف
راجپال یادو کے بڑے بھائی شری پال یادو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ معاملہ نیا نہیں بلکہ کئی برس پرانا ہے۔ ان کے مطابق خاندان اور بینک کے درمیان قرض کی ادائیگی سے متعلق بات چیت جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال جائیداد کی نیلامی کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ بینک کے مقامی منیجر انوج ورما نے بھی تصدیق کی کہ آبائی مکان پر ضبطی کا نوٹس چسپاں کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً دو سال قبل بھی ایسا ہی نوٹس جاری کیا گیا تھا، تاہم اس وقت بینک اور اداکار کے درمیان ادائیگی کا معاہدہ ہو گیا تھا۔
قرض کیسے بڑھ کر ۶۱ء۱۶؍ کروڑ روپے تک پہنچا؟
رپورٹس کے مطابق راجپال یادو نے ۲۰۰۵ء میں نورنگ گوداوری انٹرٹینمنٹ لمیٹڈ قائم کی تھی، جو ان کے والدین کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔ اسی کمپنی کے ذریعے انہوں نے سینٹرل بینک آف انڈیا کی ممبئی برانچ سے فلم فلم ’’اتا پتا لاپتا‘‘ بنانے کے لیے ۵؍ کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا۔فلم باکس آفس پر ناکام رہی، جس کے باعث قرض وقت پر ادا نہ ہو سکا۔ بعد ازاں سود اور دیگر واجبات شامل ہونے سے قرض کی رقم بڑھتے بڑھتے ۶۱ء۱۶؍ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ اس قرض کے عوض شاہجہاں پور میں واقع کئی جائیدادیں رہن رکھی گئی تھیں، جن میں اداکار کی اہلیہ رادھا یادو اور والدہ گوداوری یادو کی ملکیت بھی شامل ہے۔
پہلے بھی ہو چکی ہے کارروائی
یہ پہلی بار نہیں کہ بینک نے راجپال یادو کی جائیدادوں کے خلاف کارروائی کی ہو۔ اگست ۲۰۲۴ء میں، جب بقایا رقم تقریباً ۱۱؍ کروڑ روپے تھی، بینک کی ٹیم نے شاہجہاں پور میں واقع ایک رہائشی جائیداد کے ایک حصے کو سیل کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:ہم اسکول میں تھے جب سیف کی شادی کی خبر ملی: سوہا اور صبا علی خان
چیک باؤنس کیس بھی جاری
جائیداد کی ضبطی کے ساتھ ساتھ راجپال یادو کو چیک باؤنس مقدمات کا بھی سامنا ہے۔ جولائی میں دہلی ہائی کورٹ نے انہیں سات مختلف چیک باؤنس مقدمات میں تین ماہ قید کی سزا سنائی اور ہر کیس میں۰۵ء۱؍ کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پہلے سے جمع کروائی گئی تقریباً ۲؍ کروڑ روپے کی رقم واجبات میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔ یہ مقدمہ ۲۰۱۸ء سے عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔ ۲۰۲۶ء میں راجپال یادو نے عدالتی حکم پر تہاڑ جیل میں خود کو حکام کے حوالے کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں عبوری ضمانت مل گئی۔
فلمی محاذ
فلمی کریئر کی بات کریں تو راجپال یادو حال ہی میں فلم ’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ میں نظر آئے تھے، جبکہ ان کی آئندہ فلم ’’حیوان‘‘ ہے، جس کی ہدایت کاری پریادرشن کر رہے ہیں۔ اس فلم میں ان کے ساتھ اکشے کمار اور سیف علی خان بھی مرکزی کردار ادا کریں گے۔ اگر چاہیں تو میں اس خبر کو مختصر نیوز بلیٹن یا ویب سائٹ اسٹائل اردو خبر میں بھی ڈھال سکتا ہوں۔