معروف فلمساز رام گوپال ورما (آر جی وی) اور اداکارہ اُرمیلا ماتونڈکر ایک بار پھر خبروں میں ہیں، لیکن اس بار وجہ ان کی پرانی پیشہ ورانہ شراکت نہیں بلکہ ایک خفیہ شادی کا دعویٰ ہے، جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
EPAPER
Updated: August 02, 2026, 8:03 PM IST | Mumbai
معروف فلمساز رام گوپال ورما (آر جی وی) اور اداکارہ اُرمیلا ماتونڈکر ایک بار پھر خبروں میں ہیں، لیکن اس بار وجہ ان کی پرانی پیشہ ورانہ شراکت نہیں بلکہ ایک خفیہ شادی کا دعویٰ ہے، جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
معروف فلمساز رام گوپال ورما (آر جی وی) اور اداکارہ اُرمیلا ماتونڈکر ایک بار پھر خبروں میں ہیں، لیکن اس بار وجہ ان کی پرانی پیشہ ورانہ شراکت نہیں بلکہ ایک خفیہ شادی کا دعویٰ ہے، جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ۱۹۹۰ء اور ۲۰۰۰ء کی دہائی میں رام گوپال ورما اور اُرمیلا ماتونڈکر نے ’’رنگیلا‘‘ (۱۹۹۵ء)، ’’ستیہ‘‘ (۱۹۹۸ء)، ’’کون؟‘‘ (۱۹۹۹ء) اور’’بھوت‘‘ (۲۰۰۳ء) جیسی کامیاب فلموں میں ایک ساتھ کام کیا تھا۔ ورما کو اُرمیلا کے فلمی کریئر کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کا بھی کریڈٹ دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ساکشی چودھری کی جدوجہد رنگ لائی، دولتِ مشترکہ کھیلوں میں طلائی تمغہ
حال ہی میں سینئر فلمی صحافی جیوتی وینکٹیش نے ایک یوٹیوب انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ رام گوپال ورما اور اُرمیلا نے اپنے تعلقات کے دوران آندھرا پردیش کے ایک مندر میں خفیہ طور پر شادی کی تھی۔ صحافی کے مطابق، انہیں اس مبینہ شادی کے بارے میں پہلی بار جنوبی ہندوستان کے سپر اسٹار چرنجیوی نے بتایا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چرنجیوی نے ان سے پوچھا کہ وہ اس شادی کی خبر کیوں نہیں لکھ رہے اور یہ بھی کہا کہ شادی ایک مندر میں ہوئی تھی، حتیٰ کہ مبینہ طور پر پجاری کا رابطہ نمبر بھی دیا۔
صحافی نے خبر شائع کرنے سے پہلے اُرمیلا ماتونڈکر سے رابطہ کیا۔ ان کے مطابق اُرمیلا اس دعوے پر جذباتی ہو گئیں اور کہا کہ ایسی باتیں ان کے بارے میں کیوں لکھی جا رہی ہیں جبکہ صحافی انہیں برسوں سے جانتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:راکھی ساونت نے کہا ’’آج بھی مذہبِ اسلام پر عمل کرتی ہوں ‘‘
دعوے کی تصدیق نہیں
اب تک رام گوپال ورما یا اُرمیلا ماتونڈکر میں سے کسی نے بھی اس خفیہ شادی کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر بھی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے اسے صرف ایک غیر مصدقہ دعویٰ ہی سمجھا جا رہا ہے۔دونوں شخصیات کے درمیان ماضی میں قریبی پیشہ ورانہ تعلقات اور افیئر کی افواہیں ضرور گردش کرتی رہی ہیں لیکن شادی کے حوالے سے کبھی کوئی باضابطہ ثبوت یا سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ اس لیے موجودہ دعوے کو حقائق کے بجائے ایک غیر مصدقہ روایت کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے جب تک کہ متعلقہ فریق اس بارے میں واضح مؤقف اختیار نہ کریں۔