• Thu, 17 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’رامائن‘ کے پروڈکشن ڈیزائنر کا ہندوستانی وی ایف ایکس پر اعتراض، ۶۰؍ عالمی فنکاروں کی خدمات حاصل

Updated: September 16, 2026, 10:07 PM IST | Mumbai

سبھراتا چکرورتی نے کہا کہ فلم کے مطلوبہ معیار تک پہنچنے کے لیے عالمی فنکاروں کے ساتھ ٹیکنالوجی کو بنیادی سطح سے سمجھا گیا؛ رنبیر کپور، یش اور سائی پَلّوی کی فلم دیوالی ۲۰۲۶ء میں ریلیز ہوگی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

 رنبیر کپور، یش اور سائی پَلّوی کی زیرِ تکمیل فلم ’رامائن‘ ایک بار پھر اپنے بصری اثرات (VFX) کے باعث بحث میں ہے۔ فلم کے پروڈکشن ڈیزائنر سبھراتا چکرورتی نے ہندوستانی فلموں میں وی ایف ایکس کے معیار پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ ’رامائن‘ کے لیے ٹیم نے ۶۰؍ عالمی فنکاروں کو شامل کیا اور ٹیکنالوجی کو بنیادی سطح سے سمجھنے کے بعد اسے فلم کے وسیع افسانوی عالم کی تشکیل میں استعمال کیا۔ چکرورتی نے اوویشن ٹاکس (OovaationTalks) کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ ’رامائن‘ کی تیاری صرف بڑے سیٹ بنانے تک محدود نہیں تھی۔ ٹیم نے شیو پران، وشنو پران، ویدوں، رامائن اور دیگر متعلقہ مذہبی و تاریخی متون کا مطالعہ کیا تاکہ فلم میں پیش کیے جانے والے عہد، تہذیب، فنِ تعمیر اور ماحول کو سمجھا جاسکے۔ ان کے مطابق پروڈکشن ڈیزائنر کی ذمہ داری صرف خوبصورت مناظر تیار کرنا نہیں بلکہ یہ طے کرنا بھی ہے کہ کسی تصور کو حقیقی سیٹ پر کہاں تک عملی طور پر بنایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شاہ رخ خان نے ’’کنگ‘‘ کے ٹریلر ریلیز میں تاخیر کی وجہ بتائی

انہوں نے کہا کہ ایک مرحلے پر حقیقی سیٹ کی حدود سامنے آجاتی ہیں اور ایسی صورت میں وی ایف ایکس پروڈکشن ڈیزائن کا لازمی حصہ بن جاتا ہے۔ ’رامائن‘ کے لیے درکار بڑے پیمانے اور تفصیل کو دیکھتے ہوئے ٹیم نے روایتی طریقہ کار سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ چکرورتی کے مطابق ۶۰؍ عالمی فنکاروں کو شامل کرکے ٹیکنالوجی کے امکانات کو سمجھنے اور اسے مطلوبہ انداز میں استعمال کرنے پر کام کیا گیا۔ 
یہ تبصرہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ’رامائن‘ کے پہلے ٹریلر اور بصری جھلکیوں پر سوشل میڈیا میں مختلف ردعمل سامنے آچکے ہیں۔ ایک جانب فلم کے بڑے پیمانے اور مناظر کی تعریف ہوئی، جبکہ دوسری جانب بعض ناظرین نے روشنی، کمپوزٹنگ اور بعض ڈیجیٹل مناظر کو مصنوعی قرار دیا۔ ایک تجزیے میں بھی فلم کے بعض مناظر کے درمیان بصری معیار میں عدم یکسانیت کی نشاندہی کی گئی، اگرچہ مجموعی وی ایف ایکس کو مکمل طور پر ناکام قرار نہیں دیا گیا۔ فلم کے پروڈیوسر نمِت ملہوترا نے اس سے قبل وی ایف ایکس سے متعلق تنقید کے جواب میں کہا تھا کہ ٹیم ناظرین کے ردعمل کو غور سے سن رہی ہے اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ہزاروں فنکار اور معاونین فلم کو مکمل کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ فلم کے ساتھ جڑی ثقافتی ذمہ داری کے باعث ہر شعبے میں بہترین کام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’ون پیس‘‘ کے Alabasta کیلئے ۷۲؍ ٹن ریت لائی گئی: چریتھرا چندرن

اداکار رنبیر کپور بھی فلم کے بصری اثرات پر ہونے والی تنقید کا جواب دے چکے ہیں۔ انہوں نے وی ایف ایکس کو سمجھنے کے لیے ناظرین کو فلم کی تیاری کے عمل پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے مناظر کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔ ان کے مطابق فلم میں استعمال ہونے والی کمپیوٹر گرافکس ٹیکنالوجی کی تیاری ایک پیچیدہ عمل ہے۔ ’رامائن‘ کا بصری شعبہ روایتی ہندوستانی فلمی نظام سے کہیں زیادہ بین الاقوامی نوعیت کا ہے۔ DNEG فلم کے ویژول ورلڈ کی تیاری میں اہم کردار ادا کررہی ہے، جبکہ پروڈکشن میں پرائم فوکس اسٹوڈیوز  اور دیگر عالمی تکنیکی شراکت دار شامل ہیں۔ سرکاری طور پر جاری معلومات کے مطابق فلم کو بین الاقوامی ناظرین کے لیے تیار کیا جارہا ہے اور اسے عالمی سطح پر آئی میکس سمیت مختلف تھیٹر فارمیٹس میں پیش کیا جائے گا۔ 
فلم ۲؍ حصوں پر مشتمل ہوگی۔ پہلے حصے میں رنبیر کپور رام، سائی پَلّوی سیتا، یش راون اور سنی دیول ہنومان کے کردار میں ہیں، جبکہ نیتیش تیواری اس کی ہدایت کاری کررہے ہیں۔ دوسرے حصے کی ریلیز ۲۰۲۷ء میں متوقع ہے۔ پروڈکشن ٹیم کے مطابق ’رامائن‘ کو عالمی سطح پر پیش کرنے کے لیے ہالی ووڈ سمیت بین الاقوامی فلمی صنعت سے تجربہ اور ٹیکنالوجی حاصل کی گئی ہے۔ فلم کی موسیقی کے لیے ہانس زیمر اور اے آر رحمان پہلی مرتبہ ایک ساتھ کام کررہے ہیں، جبکہ ایکشن کی تیاری میں بھی بین الاقوامی ماہرین شامل ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK